آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستانی سرزمین پر اولین ٹیسٹ: ’میچ کھلانے کی خوشخبری سنا کر بارہواں کھلاڑی بنا دیا گیا‘
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستانی کرکٹ ٹیم نے انڈیا کو لکھنؤ اور انگلینڈ کو اوول میں ہرا کر یہ ثابت کر دیا تھا کہ اسے ٹیسٹ کرکٹ کا استحقاق دیے جانے کا فیصلہ غلط نہیں تھا۔
اس کی یہ دو بڑی فتوحات درحقیقت انڈیا کے سابق کپتان لالہ امرناتھ کے اس طنزیہ بیان کا بھی بھرپور جواب تھیں جو انھوں نے ٹیسٹ رکنیت ملنے سے قبل پاکستان کے دورے پر آنے والی ویسٹ انڈین ٹیم کے کپتان جان گوڈارڈ کے استفسار پر دیا تھا کہ پاکستانی ٹیم کسی سکول ٹیم کی طرح ہے۔
پاکستانی ٹیم نے ٹیسٹ کرکٹ میں آنے کے بعد اپنی پہلی دو سیریز انڈیا اور انگلینڈ کے خلاف انہی کے ملکوں میں کھیلی تھیں لہٰذا سب کو اس بات کا شدت سے انتظار تھا کہ پاکستانی ٹیم اپنی سرزمین پر پہلی بار ٹیسٹ میچ کب کھیلے گی تاکہ وہ فضل محمود اور حنیف محمد کو اپنی آنکھوں کے سامنے کھیلتا دیکھ سکیں۔
یہ انتظار بالآخر 1954 کے اواخر میں انڈین ٹیم کے پاکستان آنے پر ختم ہوا۔ یکم جنوری 1955 کو پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا اہم باب رقم ہوا جب مشرقی پاکستان کے دارالحکومت ڈھاکہ نے پاکستان کی سرزمین پر اولین ٹیسٹ میچ کی میزبانی کی۔
روایتی حریف پاکستان اور انڈیا چونکہ ایک بار پھر کرکٹ کے میدان میں مدمقابل ہو رہے تھے لہٰذا شائقین پانچ ٹیسٹ میچوں کی اس سیریز کے لیے بہت زیادہ پرجوش تھے۔ دوسری جانب پاکستانی کھلاڑیوں کے ذہنوں میں اوول کی تاریخی جیت گھوم رہی تھی اور وہ دوبارہ میدان میں اترنے کے لیے بے تاب تھے۔
ایک 22 سال کے نوجوان کرکٹر کے دل کی دھڑکنیں بہت تیز تھیں جو بس یہی سوچے جا رہا تھا کہ اسے پہلی بار اپنے ملک کی نمائندگی کا موقع ملے گا یا نہیں؟ یہ نوجوان کرکٹر رئیس محمد تھے جن کا نام کسی کے لیے بھی اجنبی نہیں تھا۔
چند گھنٹوں کی خوشخبری
رئیس محمد کرکٹ کی مشہور فیملی ’محمد برادران‘ میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ ان کے دو بھائی حنیف محمد اور وزیر محمد ٹیسٹ کرکٹ میں آ چکے تھے اور سب جانتے تھے کہ اب رئیس محمد کی باری ہے کیونکہ وہ مڈل آرڈر بیٹسمین اور لیگ سپنر کی حیثیت سے فرسٹ کلاس کرکٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے تھے۔
رئیس محمد کی عمر اب 89 برس ہو چکی ہے لیکن وہ ان لمحات کو بھولنے کے لیے ہرگز تیار نہیں کہ انھیں ٹیسٹ کیپ دینے کی خوشخبری سنائی گئی اور پھر اچانک یہ خوشی ان سے چھین لی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رئیس محمد بی بی سی اردو کو دیے گئے تفصیلی انٹرویو میں بتاتے ہیں ʹڈھاکہ ٹیسٹ سے ایک رات قبل کپتان عبدالحفیظ کاردار میرے کمرے میں آئے اور بولے آپ صبح ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں لہذا جلدی سو جائیں۔‘
’میری خوشی کی انتہا نہ تھی لیکن میچ کی صبح یہ خوشی مایوسی میں بدل گئی کیونکہ میری جگہ مقصود احمد کو ٹیم میں شامل کر لیا گیا جنھیں اچانک لاہور سے ڈھاکہ بلوا لیا گیا تھا۔ مجھے بارہواں کھلاڑی بنا دیا گیا۔ سیریز کا دوسرا ٹیسٹ بہاولپور میں تھا میں اس میچ میں بھی بارہواں کھلاڑی تھا جس کے بعد میں دوبارہ پاکستانی ٹیم کے قریب نہ آ سکا۔‘
رئیس محمد کا انڈیا کے خلاف اس سیریز میں نہ کھیلنا اس لیے بھی حیران کن معلوم ہوتا ہے کیونکہ انھوں نے انڈین ٹیم کی پاکستان آمد سے چند ہفتوں پہلے ہی پاکستان ریلویز کے خلاف 96 اور سندھ کے خلاف 118 رنز ناٹ آؤٹ کی دو قابل ذکر اننگز کھیلی تھیں۔
رئیس محمد کہتے ہیں ’جب ٹیم 1954 میں انگلینڈ جا رہی تھی تو بہاولپور میں ایک مہینے کا کیمپ لگا تھا۔ اس وقت ٹیم کو حنیف محمد کے اوپننگ پارٹنر کی تلاش تھی کیونکہ نذر محمد بازو ٹوٹ جانے کے سبب کرکٹ سے باہر ہو چکے تھے لیکن مجھے اس کیمپ میں نئی گیند کی شکل تک نہیں دکھائی گئی حالانکہ میں نے دو میچوں میں اوپنر کی حیثیت سے اچھی بیٹنگ کی تھی۔
’حیرت کی بات یہ ہے کہ میں 46 رنز بنا چکا تھا کہ مجھے بیٹنگ سے واپس بلا لیا گیا۔ ان کو ڈر تھا کہ اگر میں بڑی اننگز کھیل گیا تو مجھے سلیکٹ کرنا پڑے گا۔ اس وقت ڈیفنس سیکرٹری فدا حسن ٹیم کے منیجر بن کر انگلینڈ گئے تھے۔ انھوں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ پندرہ کھلاڑی منتخب کر لیے جائیں اور ایک جگہ ان کے لیے چھوڑ دی جائے جس پر ان کے بھتیجے خالد حسن ٹیم میں شامل ہوئے تھے۔ اس دور میں پاکستانی کرکٹ میں بہت زیادہ سیاست تھی۔‘
رئیس محمد نے یہ دلچسپ بات بھی بتائی ’اس زمانے میں چیمہ صاحب کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری ہوا کرتے تھے۔ جب بھی میرے ٹیسٹ کھیلنے کی بات آتی تو وہ کہتے تھے کہ کتنے بھائی ایک ساتھ ٹیم میں کھیلیں گے؟ لوگ اعتراض کریں گے کہ یہ بھائیوں کی ٹیم ہے حالانکہ اس زمانے میں ہم تمام بھائیوں کی کارکردگی بہت ہی اچھی رہتی تھی۔‘
رئیس محمد اپنے بھائیوں میں وہ واحد کرکٹر ہیں جو ٹیسٹ کرکٹ نہ کھیل سکے۔ ان کے چار بھائی وزیر محمد، حنیف محمد، مشتاق محمد اور صادق محمد ٹیسٹ کرکٹ کھیل چکے ہیں۔
ڈھاکہ کو میزبانی دینے کے عوامل
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے انگلینڈ کے کامیاب دورے کے بعد عبدالحفیظ کاردار نے ملک میں کرکٹ سٹیڈیمز کی تعمیر کی اپنی اپیل دوہرائی جسے وہ اس سے قبل 1951 میں ریڈیو پاکستان کے ذریعے کر چکے تھے۔
انڈین ٹیم کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے کراچی اور ڈھاکہ کے سٹیڈیم ہنگامی طور پر تیار کیے گئے۔ ڈھاکہ سٹیڈیم کی تعمیر اکتوبر میں شروع ہوئی اور صرف تین ماہ میں اسے بڑی حد تک مکمل کر لیا گیا۔ اس پر اس زمانے میں پینتیس لاکھ روپے کی لاگت آئی تھی اور اس میں اٹھارہ ہزار تماشائیوں کی گنجائش تھی لیکن ٹیسٹ میچ کے ہر روز تماشائیوں کی تعداد گنجائش سے کہیں زیادہ رہی تھی۔
مشرقی بنگال میں کرکٹ کے مقابلے میں فٹبال کا کھیل زیادہ مقبول تھا اس کے باوجود ڈھاکہ راجشاہی اور دیگر علاقوں میں کرکٹ کھیلی جاتی تھی۔ ڈھاکہ میں متعدد کلب موجود تھے جن کی اپنی ٹیمیں اور گراؤنڈز تھے۔
سنہ 1951 میں ڈھاکہ میں کرکٹ اسوسی ایشن کا قیام عمل میں آیا تھا جس کے پیٹرن فیروز خان نون تھے جو اس وقت صوبے کے گورنر تھے، بعد میں وہ پاکستان کے وزیراعظم بنے۔
عبدالحفیظ کاردار برما آئل کمپنی میں ملازمت کی وجہ سے مشرقی پاکستان میں تعینات تھے۔ انھوں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ پچاس کی دہائی میں کرکٹ کو مشرقی پاکستان میں مقبول بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔
1952 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم اپنی اولین ٹیسٹ سیریز کھیلنے انڈیا گئی تو اس نے واپسی پر ڈھاکہ اور چٹاگانگ میں تین میچز کھیلے تھے۔
بنگلہ دیش کے ایک سینیئر صحافی محمد قمرالزماں نے سنہ 2011 کے عالمی کپ کے موقع پر شائع ہونے والے اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ چٹاگانگ میں کھیلے گئے میچ میں مشرقی پاکستان کی ٹیم کی قیادت مقامی کرکٹر اے ٹی ایم مصطفی کے سپرد تھی لیکن اچانک ان کی جگہ مغربی پاکستان سے بھیجے گئے مسعود صلاح الدین کو کپتان بنا دیا گیا اور ٹیم میں بھی مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے پانچ کرکٹرز شامل کر لیے گئے۔
محمد قمرالزماں کو یاد ہے کہ انھوں نے دسویں جماعت کے طالبعلم کی حیثیت سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان ڈھاکہ میں ہونے والا پہلا ٹیسٹ میچ دیکھا تھا جس کے لیے انھوں نے حبیب بینک کی ایک برانچ سے طالبعلم کا رعایتی ٹکٹ خریدا تھا۔
انڈین ٹیم کے منیجر لالہ امرناتھ نے ڈھاکہ ٹیسٹ کے انتظامات کو بہترین قرار دیا تھا وہ تماشائیوں کی روزانہ حاضری اور ان کے جوش خروش پر بھی خوش تھے۔
یہ بھی پڑھیے
مشرقی پاکستان میں ٹیسٹ میچوں کے انعقاد کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ بنگالی زبان بولنے والا کوئی بھی کرکٹر ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی نہ کر سکا۔ وقت کے ساتھ ساتھ مشرقی پاکستان میں بڑھنے والے احساس محرومی کے اثرات کرکٹ میں بھی نظر آنے لگ گئے تھے۔
پیٹر اوبورن نے اپنی کتاب وونڈڈ ٹائیگر میں فروری 1971 میں پاکستان الیون اور انٹرنیشنل الیون کے درمیان ڈھاکہ میں ہونے والے میچ کا ذکر کیا ہے جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے ایک طالبعلم رقیب الحسن کو کھلایا گیا تھا۔
وہ اس سے قبل نیوزی لینڈ کے خلاف ڈھاکہ ٹیسٹ میں بارہویں کھلاڑی بھی بنے تھے لیکن انٹرنیشنل الیون کے خلاف میچ میں رقیب الحسن نے اپنے بیٹ پر بنگلہ دیش کا نقشہ بنا کر سب کو چونکا دیا تھا بلکہ وہ اپنے ساتھیوں کو یہ کہتے پائے گئے کہ اگلی مرتبہ آپ کو یہاں آنے کے لیے ویزا لینا ہو گا۔
کاردار کی تقریر پر انڈیا ناراض
پاکستان انڈیا کرکٹ سیریز اپنی سست روی سے جاری رہی لیکن میدان سے باہر جذبات خاصے گرم نظر آئے تھے جن میں عبدالحیفظ کاردار کی ایک تقریر قابل ذکر تھی جو انھوں نےڈھاکہ ٹیسٹ کے دوران انڈین ٹیم کی موجودگی میں ایک تقریب میں کی تھی۔
کاردار نے اپنی اس تقریر میں پاکستان اور انڈیا کی ٹیموں کی انگلینڈ میں کارکردگی کا موازنہ پیش کیا تھا۔ اگرچہ دونوں ملکوں کے ذرائع ابلاغ میں اس تقریر کو زیادہ جگہ نہ مل سکی لیکن انڈین کمنٹیٹر سربھاد دیکری نے کچھ عرصے بعد اپنے مضمون میں اس کا ذکر اس شہ سرخی ساتھ کیا ’کاردار نے ٹیسٹ سیریز کو برباد کر دیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ کاردار نے اپنی تقریر میں انڈین ٹیم کی انگلینڈ میں مایوس کن کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے لفظ ’ہندوستانی‘ پر غیر ضروری طور پر بار بار زور دیا تھا۔
اس مضمون میں یہ بھی کہا گیا کہ کاردار کی اس تقریر پر انڈین کپتان ونو منکڈ غصے میں آ گئے تھے اور اسی تقریب کے دوران ہی دونوں میں سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔
پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر کرنل شجاع الدین نے جو اس سیریز کے تمام پانچوں ٹیسٹ میچ کھیلے تھے کاردار اور منکڈ کے درمیان ہونے والی تلخ کلامی کی تصدیق کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قیام کے وقت پیش آنے والے قتل وغارت گری کے واقعات کے اثرات دونوں ملکوں کے لوگوں کے ذہنوں سے محو نہیں ہوئے تھے اور کرکٹ بھی اس سے الگ نہ رہ سکی۔ انڈین ٹیم کے اس دورے میں دونوں طرف کے کھلاڑیوں کے درمیان گرم جوشی دور دور تک نظر نہیں آئی تھی۔
ڈھاکہ ٹیسٹ میں کیا ہوا؟
عبدالحفیظ کاردار نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ پاکستانی ٹیم 257 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی جس میں وقار حسن اور امتیاز احمد کی نصف سنچریاں شامل تھیں۔
آف سپنر غلام احمد (آصف اقبال کے ماموں) نے پانچ وکٹیں حاصل کیں۔
انڈین ٹیم پاکستانی فاسٹ بولر محمود حسین کی چھ وکٹوں کی شاندار بولنگ کے نتیجے میں صرف 148 رنز بنا سکی اور اس طرح پاکستانی ٹیم کو 109 رنز کی اہم برتری حاصل ہو گئی۔
سبھاش گپتے کی پانچ وکٹوں نے پاکستان کو دوسری اننگز میں 158 رنز سے آگے نہیں بڑھنے دیا۔ اس سکور میں علیم الدین اور وقارحسن نے نصف سنچریاں بنائی تھیں۔ انڈیا کو جیتنے کے لیے 268 رنز کا ہدف ملا تھا تاہم چار روزہ ٹیسٹ کے اختتام پر اس نے دو وکٹوں پر 147 رنز بنائے تھے۔ وجے منجریکر اور پنکج رائے نصف سنچریاں بناتے ہوئے کریز پر ناٹ آؤٹ تھے۔
نہ صرف ڈھاکہ ٹیسٹ بلکہ اس کے بعد اگلے چار ٹیسٹ میچوں میں بھی دونوں ٹیموں کا دفاعی انداز تماشائیوں کے لیے مایوس کن تھا جو ہر ٹیسٹ میچ میں بڑی تعداد میں گراؤنڈ میں نظر آئے تھے۔ یہ بات واضح طور پر محسوس کی گئی کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک خاص قسم کے سیاسی تعلقات اور پس منظر کے سبب کوئی بھی ٹیم شکست کھا کر شدید ردعمل کا بوجھ اٹھانا نہیں چاہتی تھی۔
پشاور کے چوتھے ٹیسٹ کے ڈرا ہونے کے بعد امبالہ ٹریبیون نے یہ شہ سرخی لگائی تھی: "Match saved but cricket killed"