نیوزی لینڈ کی جانب سے دو مرحلوں میں دورہِ پاکستان کا اعلان، ’تجربہ کار کرکٹرز کا ہونا بہت ضروری ہے‘

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

ویک اینڈ ختم ہونے کے بعد جب پیر کو دن چڑھا تو ایک خوشخبری پاکستانی شائقین کی منتظر تھی کہ ستمبر میں اپنی دورہ منسوخ کرنے والی نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم آئندہ سال دو مرتبہ پاکستان کے دورے پر آئے گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین رمیز راجہ اور نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے چیرمین مارٹن سنیڈن کے درمیان حال ہی میں دبئی کے آئی سی سی اجلاس کے موقع پر ہونے والی گفت و شنید کے بعد ان دو دوروں کو حتمی شکل دی گئی ہے۔

دو دورے کیوں؟

نیوزی لینڈ کی ٹیم دو مرحلوں پر مشتمل دورے میں پہلا سفر اگلے سال یعنی 2022 کے دسمبر میں کرے گی جس میں وہ پاکستان میں جنوری 2023 تک قیام کرے گی۔

اس دوران وہ پاکستان کے خلاف دو ٹیسٹ اور تین ون ڈے انٹرنیشنل میچ کھیلے گی۔

یہ دورہ آئی سی سی کے فیوچر ٹور پروگرام کا حصہ ہوگا۔ اس میں کھیلی جانے والی ٹیسٹ سیریز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں شامل ہوگی جبکہ ون ڈے سیریز آئی سی سی مینز ورلڈ کپ سپر لیگ کا حصہ ہوگی۔

یہ دورہ مکمل کرنے کے بعد نیوزی لینڈ کی ٹیم پھر اپریل 2023 میں دوبارہ پاکستان آئے گی۔

اس دورے میں وہ پانچ ون ڈے انٹرنیشنل اور پانچ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلے گی۔یہ دورہ دراصل اس دورے کی تلافی کے لیے ہوگا جو نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم اس سال ستمبر میں کھیلے بغیر پاکستان سے واپس چلی گئی تھی۔

رمیز راجہ کا غصہ خوشی میں تبدیل

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجہ نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے تعاون پر خوش ہیں اور اسے دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان اچھے تعلقات کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ یہ یاد دلانا بھی نہیں بھولتے کہ یہ بات انٹرنیشنل کرکٹ کمیونٹی میں پاکستان کے اہم مقام کو ثابت کرتی ہے۔

نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے ایک جملے میں اس دورے کو اس طرح بیان کردیا ہے۔ 'اٹز گڈ ٹو بی گوئنگ بیک'، یعنی 'واپس جانے کی خوشی ہے۔

یاد رہے کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم رواں سال ستمبر میں تین ون ڈے اور پانچ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں کی سیریز کھیلنے پاکستان آئی تھی۔

لیکن 17 ستمبر کو راولپنڈی میں پہلے ون ڈے کے آغاز سے کچھ دیر قبل یہ خبر آئی تھی کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم نے سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر دورہ ختم کر کے وطن واپس جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

نیوزی لینڈ کے اس فیصلے کے بعد اکتوبر میں پاکستان آنے والی انگلینڈ کی ٹیم نے بھی اپنی مرد اور خواتین ٹیموں کا دورہ منسوخ کردیا تھا جس پر پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور دونوں کرکٹ بورڈز کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

رمیز راجہ نے اُس موقع پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا نیوزی لینڈ والے کس دنیا میں رہتے ہیں ؟ وہ اب آئی سی سی میں ہمیں سنیں گے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کے دورے کو جاری رکھنے کے لیے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے خود نیوزی لینڈ کی وزیراعظم سے بات کی تھی لیکن اس کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا تھا۔

نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم کو سکیورٹی کے خدشات کا سامنا تھا لیکن اس نے اس ضمن میں کسی بھی قسم کی معلومات پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستان میں سکیورٹی کے اداروں کو بتانے سے انکار کردیا تھا ۔

اگلے سال بڑی ٹیموں کا دورہ پاکستان کا اعلان

نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کے اس دورے کو حتمی شکل دیے جانے سے پہلے پاکستان کرکٹ بورڈ آسٹریلیا اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے دوروں کی بھی تصدیق کرچکا ہے جو مستقبل قریب میں ہونے والے ہیں۔

آسٹریلوی ٹیم مارچ اپریل 2022 میں پاکستان کے دورے پر آئے گی جس میں اسے تین ٹیسٹ تین ون ڈے اور ایک ٹی ٹوئنٹی کھیلنا ہے۔

ٹیسٹ میچز کراچی لاہور اور راولپنڈی میں کھیلے جائیں گے جبکہ لاہور ون ڈے سیریز اور ٹی ٹوئنٹی میچ کی میزبانی کرے گا۔ یہ 1998 کے بعد آسٹریلیا کا پہلا دورۂ پاکستان ہوگا۔

انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم آئندہ سال ستمبر اور اکتوبر میں پاکستان آئے گی۔ اس دورے میں وہ سات ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلے گی۔

اگلے سال ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد انگلینڈ کی ٹیم دوبارہ پاکستان آکر تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز بھی کھیلے گی۔

پی ایس ایل سے سمت متعین ہوگی

نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے اگرچہ دورۂ پاکستان کا اعلان کردیا ہے تاہم ابھی اس میں پورا ایک سال باقی ہے۔

اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ جو بھی غیرملکی ٹیم پاکستان آتی ہے اسے صدارتی سطح کی سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے لہذا نیوزی لینڈ کی ٹیم کو بھی یقینی طور پر سکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے لیکن اس وقت دنیا بھر میں کووڈ کی جو صورتحال ہے اس کا براہ راست کھیلوں کی بین الاقوامی سرگرمیوں پر پڑا ہے جن میں کرکٹ بھی شامل ہے۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم کا حالیہ دورۂ پاکستان بھی کووڈ کی نذر ہوا ہے گو کہ اس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا کوئی قصور نہیں تھا کیونکہ ویسٹ انڈیز ٹیم کے جن چھ کھلاڑیوں کے کووڈ ٹیسٹ مثبت آئے وہ سفر کے دوران وائرس ان میں منتقل ہونے کی وجہ سے ہوئے تھے۔

لیکن اس طرح دورہ ختم ہوجانا کسی بھی ہوم کرکٹ بورڈ اور اس ملک کے کرکٹ شائقین کے لیے مایوسی کی بات ہوتی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ آئندہ ماہ کراچی اور لاہور میں پاکستان سپر لیگ کا ساتواں ٹورنامنٹ منعقد کرے گا جس میں مختلف ممالک کے کرکٹرز آئیں گے اور یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے ایک آزمائش ہوگی کہ وہ کووڈ کے اہم معاملے کو کس خوش اسلوبی سے نمٹاتا ہے اور یہی کامیابی آئندہ آنے والی ٹیموں کے اعتماد کو بھی تقویت پہنچائے گی۔

’ان ٹیموں میں تجربہ کار کرکٹرز کا ہونا بہت ضروری ہے‘

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف کہتے ہیں نیوزی لینڈ کی ٹیم کے دورے کا اعلان بہت جلدی کیا گیا ہے کیونکہ ابھی اس میں پورا ایک سال باقی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو بھی بڑی ٹیم چاہے وہ انگلینڈ ہو یا آسٹریلیا یا نیوزی لینڈ پاکستان ضرور آئیں لیکن ان ٹیموں میں ان کے تجربہ کار ورلڈ کلاس کرکٹرز کا ہونا بہت ضروری ہے۔

'ہم نے یہی دیکھا ہے کہ جب پاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ گئی تو ان کے متعدد بہترین کھلاڑی آئی پی ایل میں چلے گئے۔ اسی طرح اس سال ستمبر میں نیوزی لینڈ کے ورلڈ کلاس کرکٹرز پاکستان نہیں آئے تھے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ وہ ان کرکٹ بورڈز سے اس بات کو یقینی بنائے کہ جو بھی ٹیم پاکستان آئے وہ اپنے تمام بڑے کھلاڑیوں کے ساتھ آئے ۔ جب بڑے کھلاڑی ٹیموں میں نہیں ہوتے تو شائقین کی دلچسپی بھی ان میچوں میں نہیں ہوتی۔'

پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر بازید خان کے خیال میں پاکستان کو ایک آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی ملنے کے ساتھ ساتھ بڑی ٹیموں کا بھی یہاں آنا ایک اہم قدم ہے۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

'جب یہ بڑی ٹیمیں پاکستان آئیں گی تو پاکستانی شائقین کو بہترین کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔ پاکستان کو اب زیادہ سے زیادہ ہوم سیریز کی ضرورت ہے کیونکہ جب یہ میچز یہاں ہونگے تو انٹرنیشنل کرکٹ کی پاکستان میں آنے کا عمل نارمل ہوجائے گا۔'

سوشل میڈیا پر شائقین خوشی سے نہال

نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کے دورۂ پاکستان کی خبر منظرعام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے شروع ہوگئے۔

اکبرعلی نے لکھا کیا ہی اچھی خبر جس سے دن کا آغاز ہو۔ ایک اور صارف اسما رباب نے لکھا صبح اسی طرح کی ہونی چاہیے۔

صارف پری زاد نے ٹویٹ میں تبصرہ کیا کہ ’مجھے امید ہے کہ اس بار ایسا نہیں ہوگا جیسا پہلے ہوا تھا۔

عالیہ نور اپنی ٹویٹ میں لکھتی ہیں کہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹڈ۔ سکیورٹی کلیئرڈ۔‘