پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز پر سمیع چوہدری کا کالم: 'پاکستان کرکٹ کے لیے محفوظ ملک ہے'

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

دو ماہ قبل جب نیوزی لینڈ نے عین موقع پہ دورۂ پاکستان منسوخ کیا تو ایک بار پھر بے یقینی کے گہرے بادل پاکستان کرکٹ پہ چھا رہے تھے۔ ہفتہ بھر کے بعد جب انگلینڈ نے بھی کیویز کی پیروی کی تو خدشہ ہوا کہ سالہا سال پہ محیط کرکٹ بحالی کی ساری کاوشیں شاید بے ثمر ہو رہیں گی۔

مگر ویسٹ انڈیز کی پاکستان آمد کے ساتھ ہی ایسے سبھی شکوک و شبہات ختم ہو چکے ہیں۔ کیویز کی جانب سے معذرت اور انگلینڈ کی یقین دہانی کے بعد اب پاکستان پر اعتماد ہے کہ اس کی یہ کاوشیں بار آور ثابت ہو کر رہیں گی۔

پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں سب سے نمایاں کردار ویسٹ انڈیز کا ہی رہا ہے جو پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے بعد سب سے زیادہ دورے کرنے والی ٹیم ہے۔

یہ اور بات ہے کہ تب سے اب تک جتنی بار بھی ویسٹ انڈین کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا، وہ اپنے مضبوط ترین انتخاب سے محروم تھی۔ کئی سینئر کھلاڑیوں کے انکار کے باعث ویسٹ انڈیز کو اپنی سیکنڈ چوائس الیون پہ اکتفا کرنا پڑا ہے۔

اس بار بھی معاملہ کچھ ایسا ہی ہے۔ کپتان کیرن پولارڈ کی انجری کے باعث ویسٹ انڈین ٹیم متبادل کپتان نکولس پورن کے ساتھ موجود ہے اور جیسن ہولڈر و فیبین ایلن کے علاوہ تجربہ کار آل راؤنڈر آندرے رسل بھی بگ بیش لیگ میں مصروفیت کے سبب دستیاب نہیں ہیں۔

ان حالات میں اگرچہ ویسٹ انڈیز کا حالیہ دورہ پاکستان میں کرکٹ کے تسلسل کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے مگر اپنی بہترین ٹیم سے محروم ہونے کے سبب وہ مسابقت کے معیار میں پاکستان سے خاصے پیچھے ہیں۔

اگرچہ یہی تجزیہ تب بھی کیا گیا تھا جب سری لنکا کی ایک یکسر نوآموز الیون دو سال پہلے قذافی سٹیڈیم میں پاکستان کے مقابل آئی تھی اور سبھی تخمینوں کو مات کرتے ہوئے نمبر ون ٹی ٹونٹی ٹیم کو ہوم گراؤنڈز پہ کلین سویپ کی خفت سے دوچار کر گئی تھی۔

لیکن ویسٹ انڈیز کے ان نئے چہروں کے بارے ایسا کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا کیونکہ ورلڈ کپ اور پھر دورۂ بنگلہ دیش میں شاندار کارکردگی کے بعد اس وقت پاکستان کیمپ کا مورال خاصا بلند ہے اور تجربے کے اعتبار سے بھی پاکستان کا پلڑا خاصا بھاری ہے۔

سمیع چوہدری کے دیگر کالم پڑھیے

دوسری جانب ورلڈ کپ میں تباہ کن کارکردگی کے بعد اب ویسٹ انڈیز کو اگلے عالمی ایونٹ کی تیاری کے لیے رختِ سفر باندھنا ہے اور ایک سال سے بھی کم وقت میں آسٹریلوی کنڈیشنز میں ٹائٹل کی دوڑ دوڑنا ہے اور اب اپنے سٹار پرفارمرز کی عدم دستیابی میں یہ کوئی آسان کام نہیں ہو گا۔

ایسے میں، ویسٹ انڈیز امید کرے گا کہ کریبئین پریمیر لیگ سے چنا گیا یہ نیا ٹیلنٹ کئی ایک شائقین کو حیران کر دے اور مسابقتی کرکٹ کھیلے جبکہ بابر اعظم یہ توقع رکھیں گے کہ ان کی قیادت میں یہ ٹی ٹوئنٹی ٹیم بھی ویسا ہی فاتحانہ ریکارڈ بنائے جو اس سے پیشتر سرفراز کی ٹیم کا خاصہ رہا تھا۔

کراچی کی وکٹ عموماً متوازن اور بیٹنگ و بولنگ کے لیے یکساں طور پہ سازگار ہوا کرتی ہے۔ چونکہ میچ کے اوقاتِ کار موسم کی مناسبت سے طے کیے گئے ہیں، اس لیے اوس کے سبب میچ کا توازن متاثر ہونے کا کوئی امکان نہیں ہو گا۔

دو ماہ قبل جو جو خدشات پاکستان کرکٹ کو ڈرا رہے تھے، آج شام وہ سبھی چھٹ جائیں گے اور پاکستان ایک بار پھر انٹرنیشنل کرکٹ کی میزبانی کر کے یہ ثابت کرے گا کہ وہ بلاشبہ کرکٹ کے لیے ایک محفوظ ملک ہے۔