فرانسیسی فٹبالر کریم بنزیما نے ساتھی کھلاڑی کو ‘سیکس ٹیپ کے ذریعے بلیک میل کیا‘

،تصویر کا ذریعہAurelien Meunier
فرانس اور ریال میڈرڈ کے فٹبال سٹار کریم بینزیما کو اپنے ایک ساتھی فرانسیسی فٹبالر کو جنسی ٹیپ کے ذریعے بلیک میل کرنے کی سازش کا مجرم پایا گیا ہے۔
ایک جج نے بینزیما کو ایک سال قید کی معطل سزا سنائی اور انھیں 75,000 یورو جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
33 سالہ بینزیما ان پانچ افراد میں سے ایک تھے جن پر گذشتہ ماہ فرانسیسی شہری میتھیو والبوینا سی تاوان لینے کی کوشش پر مقدمہ چلایا گیا تھا۔
اس سکینڈل نے فرانس میں فٹبال برداری کو ہلا کر رکھ دیا اور دونوں کھلاڑی اپنی قومی ٹیم میں جگہ کھو بیٹھے تھے۔
یہ کیس جون 2015 کا ہے، جب دونوں فٹبالرز ایک فرانسیسی تربیتی کیمپ میں تھے۔
پراسیکیوٹرز نے بتایا کہ کیمپ میں، بینزیما نے والبوینا پر دباؤ ڈالا کہ وہ بلیک میلرز کو پیسے ادا کریں جن کے ساتھ بنزیما نے ثالث کے طور پر کام کرنے کی سازش کی تھی۔
بینزیما نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے اور ان کا اصرار کیا ہے کہ وہ صرف ویلبوینا کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
بینزیما اس سکینڈل کے سامنے آنے کے بعد بھی فرانس کی قومی ٹیم میں واپس آگئے ہیں اور توقع ہے کہ وہ بدھ کی رات ریال میڈرڈ کے لیے چیمپئنز لیگ میں ایف سی شیرف تراسپول کے خلاف کھیلیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بینزیما فیصلے کے وقت شہر ورسائی کی عدالت میں موجود نہیں تھے اور نہ ہی یونانی کلب اولمپیاکوس کے لیے کھیلنے والے والبوینا موجود تھے۔
بدھ کے روز مقدمے میں بینزیما کے چار سریک ملزمان کو بھی قصوروار پایا گیا ہے۔ انہیں 18 ماہ سے لے کر ڈھائی سال تک قید کی معطل سزائیں سنائی گئیں۔
بینزیما کے وکلا نے کہا کہ وہ اس کی سزا کے خلاف اپیل کریں گے۔ تاہم فیصلہ سناتے وقت، جج نے کہا تھا کہ بینزیما نے اپنے ساتھی کو بلیک میلرز کو پیسے دینے پر راضی کرنے کے لیے ‘جھوٹ اور فریب کا استعمال کیا۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
بینزیما نے اس سال مئی میں فرانس کی قومی ٹیم میں حیرت انگیز طور واپسی کی تھی۔ 2015 میں پہلی بار یہ الزامات سامنے آئے تو انہیں ٹیم سے نکال دیا گیا تھا۔
لیکن پچھلے مہینے، فرانسیسی فٹبال فیڈریشن نے کہا کہ اس مقدمے میں سزا پانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بنزیما ٹیم سے باہر ہو جائیں گے۔
بینزیما اس وقت شاندار فارم میں ہیں۔ انہوں نے اپنے ملک کے لیے 13 گیمز میں 9 بار سکور کیا ہے۔ انھوں نے اس سیزن میں اپنے کلب، ریال میڈرڈ کے لیے 10 گول بھی کیے ہیں۔ کلب نے ابھی تک فیصلے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
کھیل کے میدان پر ان کی پرفارمنس کی وجہ سے، بینزیما کو سال کے بہترین فٹ بالر بیلن ڈی آر ایوارڈ کے لیے امیدوار نامزد کیا گیا ہے جس کا اعلان اگلے ہفتے کیا جائے گا۔
یہ معاملہ ہے کیا؟
یہ 2015 میں شروع ہوا جب والبوینا، جو اب 37 سال کے ہیں، نے مارسیلے میں ایکسل انگوٹ نامی ایک شخص سے اپنے موبائل فون کے مواد کو ایک نئے ڈیوائس پر اپ لوڈ کرنے کو کہا۔
انگوٹ کو فون پر والبوینا کی جنسی طور پر نامناسب ویڈیوز ملیں۔ انگوٹ پر اور مقدمے میں ایک اور شریک ملزم، مصطفی زواوئی پر الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے اس مواد کو عام کرنے کی دھمکی دے کر والبوینا کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔
زواؤئی نے صحافیوں کو بتایا کہ انھوں نے ویڈیوز شیئر کی تھی، لیکن کبھی بھی پیسے بٹورنے کی کوشش نہیں کی گئی۔
والبوینا نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ایک اور شخص یونس ہواؤس نے اس سے رابطہ کیا تاہم یونس کا موقف ہے کہ انھوں نے والبوینا کو بغیر پیسے مانگے اس مسئلے کے بارے میں خبردار کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب والبوینا پولیس کے پاس گئے تو حکام نے ایک خفیہ سٹنگ آپریشن کیا۔ استغاثہ نے کہا کہ اس موقعے پر ایک اور ملزم کو اس سکینڈل میں لایا گیا۔ کریم زیناتی، جو بینزیما کے بچپن کے دوست ہیں۔ استغاثہ نے کہا کہ اس موقع پر، بینزیما سے کہا گیا کہ وہ اس سکیم میں ثالث کے طور پر کام کریں۔
اکتوبر 2015 میں، بینزیما نے قومی ٹیم کے تربیتی کیمپ میں اپنے کمرے میں اپنے ساتھی کھلاڑی سے رابطہ کیا۔
بینزیما نے کہا کہ اس نے محض اپنی ٹیم کے ساتھی کو نامناسب ویڈیو کو ضائع کرنے میں مدد کرنے کی کوشش کی تھی، اور اسے متنبہ کیا تھا ‘محتاط رہو، وہ بڑے، بڑے ٹھگ ہیں۔‘
اس کے بعد انھوں نے والبوینا کو ایک کسی ایسے شخص سے رابطہ کرنے کی پیشکش کی جس پر وہ بھروسہ کر سکتا تھا، ان کے بچپن کے دوست، کریم زیناتی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پولیس اس وقت تک فون کالز کو ٹیپ کر رہی تھی اور بینزیما نے اپنے دوست سے کہا کہ ‘وہ ہمیں سنجیدگی سے نہیں لے رہا ہے۔‘
کریم زیناتی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے جواب دیا ‘ہم اسے حل کرنے کے لیے حاضر ہیں، اگر وہ ڈیل نہیں کرنا چاہتے ہیں تو انھیں پھر نمٹنا پڑے گا۔‘
مقدمے کے آغاز پر ثبوت دیتے ہوئے والبوینا نے کہا کہ اس نے کبھی بھی ویڈیو کو سامنے آنے سے روکنے کے لیے رقم دینے پر غور نہیں کیا۔
اپنے سابق ساتھی بنزیما کے برعکس، ویلبوینا نے سکینڈل شروع ہونے کے بعد سے فرانس کے لیے نہیں کھیلا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران والبوینا نے عدالت کو بتایا کہ فٹبال ان کی زندگی ہے۔ ‘میں جانتا تھا کہ اگر یہ ویڈیو سامنے آتی ہے تو اس سے فرانسیسی ٹیم کے ساتھ معاملات مشکل ہو جائیں گے۔‘







