پی ایس ایل 6: کوئٹہ کی ٹورنامنٹ میں پہلی فتح حاصل کرنے کی ایک اور ناکام کوشش، اسلام آباد کی چھ وکٹوں سے فتح

پاکستان سپر لیگ کے چھٹے ایڈیشن کے بارہویں میچ میں آج اسلام آباد یونائیٹڈ نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو چھ وکٹوں سے شکست دے دی ہے۔

اس طرح اسلام آباد یونائیٹڈ پوائنٹس ٹیبل پر دوسری پوزیشن پر آ گیا ہے جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹنرز تاحال چھٹے نمبر پر ہے۔

ٹاس جیت کر فیلڈنگ کرنے والی ٹیموں کی میچ جیتنے کی روایت آج بھی قائم رہی اور اسلام آباد یونائیٹڈ نے کوئٹہ کی جانب سے 157 رنز کا کمزور ٹوٹل چھ وکٹوں کے نقصان پر باآسانی حاصل کر لیا۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے پال سٹرلنگ نے جارحانہ نصف سنچری بنا کر میچ پاور پلے میں ہی اسلام آباد کے حق میں موڑ دیا تھا اور فہیم اشرف کی عمدہ بولنگ اور تین وکٹوں نے کوئٹہ کی بڑے ٹوٹل تک رسائی مشکل بنا دی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

فہیم اور حسن علی کی عمدہ بولنگ

جہاں یہ بات سچ ہے کہ کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم کی میچ جیتنے کی امید خاصی کم ہو جاتی ہے وہیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے کوئی بھی ٹیم 200 رنز سے زیادہ کا مجموعی سکور نہیں بنا پائی۔

آج بھی کوئٹہ کی پاور پلے میں ہی چار وکٹیں گر جانے کے بعد سے یہ بات یقینی ہو گئی تھی کہ وہ بڑے ٹوٹل تک رسائی حاصل نہیں کر پائیں گے۔

اس کی وجہ حسن علی اور فہیم اشرف کی عمدہ بولنگ تھی جنھوں نے پاور پلے دو دو کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ فہیم اشرف نے چار اوورز میں صرف 11 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ ان کا کیمرون ڈیل پورٹ کو بولڈ کرنے کا لمحہ خاصا شاندار تھا۔

سرفراز کی ایک اور نصف سنچری

گو اس ٹورنامنٹ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی پرفارمنس مایوس کن رہی ہے لیکن اس میں سرفراز احمد کی بیٹنگ فارم کا کوئی قصور نہیں ہے۔

انھوں نے اس پچھلے میچ بھی عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 81 رنز بنائے تھے اور اس مرتبہ بھی انھوں نے ایک ایسے موقع پر جب ایک اینڈ سے لگاتار آؤٹ ہو رہے تھے انھوں نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے نصف سنچری سکور کی۔

ان کی اننگز میں چار چھکے بھی شامل ہیں جو انھوں نے محمد افتخار کے اوور میں لگاتار چار گیندوں پر مارے تھے۔ تاہم سرفراز کے ساتھ کوئی بھی اور بلے باز سپورٹ کے لیے موجود نہیں تھا۔

پال سٹرلنگ کا جارحانہ انداز

اسلام آباد کی پی ایس ایل میں فتوحات میں جہاں ان کی بولنگ نے اہم کردار کیا ہے وہیں ان کی جارحانہ اوپننگ بیٹنگ بھی ان کی فتوحات کا خاصا رہی ہیں۔

پہلے سیزن میں یہ ذمہ داری بریڈ ہیڈن کے کندھوں پر تھی، پھر اسے لیوک رونکی نے خوب نبھایا اور اب پال سٹرلنگ اس حوالے سے خاصے پراعتماد دکھائی دے رہے ہیں۔

پال سٹرلنگ اپنے پہلے میچ میں تو خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا پائے تھے لیکن آج انھوں نے جس انداز میں سپنرز اور فاسٹ بولرز کو چوکے اور چھکے لگائے، وہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔

تین اوورز کے بعد اسلام آباد کا سکور 44 تھا، اور یہاں میچ تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ سٹرلنگ کی نصف سنچری میں آٹھ چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔

’۔۔۔ آپ سرفراز بھائی کے لیے اداس ضرور ہوں گے‘

سوشل میڈیا پر صارفین سرفراز احمد کے بارے میں تبصرے کرتے نظر آئے۔ اکثر افراد ان کی بیٹنگ سے بہت خوش دکھائی دیے لیکن کوئٹہ کی ہار پر مایوس نظر آئے۔

ایک صارف نے سرفراز کی اداس تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ آپ اسلام آباد یونائیٹڈ یا کسی بھی ٹیم کے مداح ہوں آپ سرفراز بھائی کے لیے اداس ضرور ہوں گے۔

ایک صارف نے لکھا کہ افسوس سرفراز احمد کے چار گیندوں پر چار چھکے بھی کوئٹہ کو میچ نہ جتا پائے کیونکہ ٹاس اسلام آباد نے جیتا تھا۔

ایک اور صارف نے کوئٹہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’آج کا میچ اسلام آباد یونائیٹڈ نے نہیں جیتا بلکہ کوئٹہ نے ہارا ہے۔ بری بیٹنگ، فیلڈنگ اور زیرو ٹیم سپرٹ۔ سرفراز کو سوچنا ہو گا کہ ان کی ڈانٹ ڈپٹ کا ٹیم پر کیا اثر پڑا ہے۔‘