آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
عمران خان کی آئی سی سی پولنگ میں جیت اور سوشل میڈیا پر نوک جھونک: ’کوہلی جیت رہے تھے، یہ دھاندلی ہے‘
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے منگل کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کی گئی ایک پولنگ میں پاکستان کے سابق کپتان اور موجودہ وزیر اعظم عمران خان کامیاب قرار پائے ہیں۔ اس پولنگ میں پانچ لاکھ سے زیادہ افراد نے اپنی رائے کا اظہار کیا اور عمران خان کے حق میں 47 فیصد ووٹ آئے۔
منگل کے روز ’پیس سیٹر‘ کے عنوان سے آئی سی سی نے ایک پول ٹویٹ کیا تھا جس میں انڈیا کے وراٹ کوہلی، جنوبی افریقہ کے اے بی ڈی ویلیئرز، آسٹریلوی خاتون کرکٹر میگ لیننگ اور پاکستان کے سابق کپتان عمران خان کا نام دیتے ہوئے لکھا گیا کہ یہ وہ کرکٹر ہیں جن کی بیٹنگ یا بولنگ اوسط، کپتان بننے کے بعد بہتر ہوئی ہے۔
پولنگ میں آئی سی سی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ اُن کے خیال میں ان چاروں افراد میں سے کس نے کپتان بننے کے بعد بہترین کارکردگی دکھائی ہے۔
صارفین کو اپنی آرا کا اظہار کرنے اور اس پولنگ میں حصہ لینے کے لیے 24 گھنٹوں کا وقت دیا گیا تھا۔
اس پولنگ میں پانچ لاکھ سے زیادہ افراد نے حصہ لیا مگر اس دورانیے میں سب سے دلچسپ بات سوشل میڈیا پر پاکستانی اور انڈین صارفین کے درمیان ہونے والی نوک جھونک تھی۔
گذشتہ روز جب پولنگ شروع ہوئی تھی تو ابتدا میں پاکستانی ٹیم کے سابق کپتان عمران خان 49 فیصد کے ساتھ واضح برتری لیے ہوئے تھے لیکن آہستہ آہستہ موجودہ انڈین کپتان وراٹ کوہلی کے ووٹ بڑھتے چلے گئے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صارفین کا اس موقع پر تبصرہ کرنا تھا کہ عمران خان تاریخ کے بہترین آل راؤنڈرز میں سے ایک ہیں اور ان کا کوئی مقابل نہیں جبکہ دوسری جانب کوہلی کے حمایتیوں کا کہنا تھا کہ کپتانی کا بوجھ لے کر ان سے بہتر بلے باز اور کوئی ہے ہی نہیں۔
آخری لمحات میں یہ مقابلہ بڑا سنسنی خیز ہو گیا اور پولنگ کا وقت ختم ہونے سے 17 منٹ قبل تک وراٹ کوہلی کو ایک فیصد کی برتری حاصل تھی۔
لیکن جیسے شارجہ کے میدان میں جاوید میانداد نے آخری گیند پر چھکا مار کر انڈیا کے خلاف پاکستان کو جیت دلائی تھی، اسی طرح ڈرامائی انداز میں عمران خان کے چاہنے والوں نے بھی ووٹ ڈالنے میں اپنا زور لگایا اور بازی لے گئے۔
اس جیت کے بعد تو صارفین کے علاوہ عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اپنے وزرا اور ممبران بھی ٹوئٹر پر آن موجود ہوئے اور آئی سی سی کی اس پولنگ کی بنیاد پر اپنے رہنما کی شان میں گُن گانے لگے۔
پاکستان تحریک انصاف کے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے ٹویٹ کی کہ عمران خان کا موازنہ انڈیا کے وراٹ کوہلی سے کرنا درست نہیں کیونکہ عمران خان نہ صرف کرکٹر ہیں بلکہ کینسر ہسپتال اور یونیورسٹی کے بانی بھی ہیں۔
لیکن دوسری جانب انڈین صارفین نے پولنگ پر اپنے شکوک کا اظہار کیا کہ اتنا کم وقت رہنے پر عمران خان کی جیت کیسے ہو گئی جبکہ وہ کوہلی سے پیچھے تھے۔
پولنگ کے بعد سوشل میڈیا پر رد عمل
صارف حارث سلطان نے پولنگ کے بعد تبصرہ کرتے ہوئے لکھ کہ عمران خان کے چاہنے والے تو بہت ہیں لیکن حیران کی بات یہ ہے کہ انڈینز نے وراٹ کوہلی کو جتانے کے لیے اپنی بڑی آبادی کو استعمال نہیں کیا، اور سچن تندولکر کدھر ہیں۔
لیکن ان کا اختتامی تجزیہ یہ تھا کہ یہ پول سمجھ سے بالاتر ہے۔
کرکٹ پر لکھنے والے ابھیشک مکھرجی نے آئی سی سی کے ٹویٹ سابق آسٹریلوی بلے باز ڈونلڈ بریڈمین کی تصویر لگاتے ہوئے تبصرہ کیا:'کیا آپ نے مجھے مذاق سمجھا ہوا ہے؟'
عثمان خان نے پاکستانی سیاست میں چلنے والے حالات کے حوالے سے جملہ کسا: 'کرکٹ کی دنیا کے سیلیکٹڈ۔'
پاکستانی ٹوئٹر پر کرکٹ پر تبصرہ کرنے والے صارف احمد وقاص نے سوشل میڈیا کی معروف شخصیت فرحان ورک کا حوالے دیتے ہوئے لکھا کہ 'مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا ہے کہ ہم یہ جیت گئے۔'
آسٹریلوی کرکٹ تجزیہ نگار ڈینس نے پولنگ کے نتیجے پر تبصرہ کیا کہ 'اب انتظار ہے کہ کب آئی سی سی انڈین کرکٹ بورڈ سے معافی مانگے گا۔'
آئی سی سی کے پولنگ اور اس میں شامل کھلاڑیوں کا کریئر
آئی سی سی نے اپنی ٹویٹ میں ان چاروں کرکٹرز کے جو اعداد و شمار دیے ہیں ان کے مطابق وراٹ کوہلی کی بیٹنگ اوسط عام کھلاڑی کی حیثیت سے 51.29 فیصد تھی جو کپتان بننے کے بعد 73.88 فیصد ہو گئی ہے۔
اے بی ڈی ویلیئرز جو ہر زاویے سے شاٹس کھیلنے کی وجہ سے مسٹر 360 کہلاتے ہیں ان کی کپتان بننے سے پہلے ون ڈے کی بیٹنگ اوسط 45.97 فیصد تھی، کپتان بننے کے بعد وہ 63.94 فیصد ہو گئی تھی۔
میگ لیننگ کی ون ڈے کی بیٹنگ اوسط کپتان بننے سے قبل 43.87 فیصد تھی، جس میں کپتان بننے کے بعد بہتری آئی اور وہ 60.93 ہو گئی۔
پاکستان کے سابق کپتان عمران خان کی ٹیسٹ میں بیٹنگ اور بولنگ اوسط میں نمایاں بہتری ان کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتی ہے۔
عمران خان کپتان بننے سے قبل ٹیسٹ میں بیٹنگ میں 25.43 کی اوسط رکھتے تھے جبکہ بولنگ میں ان کی اوسط 25.53 تھی۔ لیکن کپتان بننے کے بعد بیٹنگ اوسط بہتر ہوکر 52.34 ہوگئی جبکہ بولنگ اوسط میں بھی زبردست بہتری آئی اور وہ 20.26 فیصد ہو گئی۔
اگر اعداد و شمار سے ہٹ کر بھی اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ کپتان بننے کے بعد عمران خان کی کارکردگی پاکستانی ٹیم پر کس قدر اثر انداز ہوئی تواس کا اندازہ ان کی کپتانی میں جیتی گئی ٹیسٹ سیریز اور اس میں ان کی اپنی انفرادی کارکردگی سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
عمران خان نے کپتان کی حیثیت سے بھارت اور انگلینڈ میں دو بڑی ٹیسٹ سیریز جیتی ہیں اور دونوں میں ان کی اپنی کارکردگی بہت عمدہ رہی تھی۔
عمران خان کی قیادت میں پاکستانی ٹیم کی سب سے بڑی جیت 1992 کا عالمی کپ ہے۔
وہ کھلاڑی جو کپتان بننے کے بعد زیادہ کامیاب رہے
اگر ہم کرکٹ کے ریکارڈز پر نظر ڈالیں تو ایسے متعدد کرکٹر دکھائی دیتے ہیں جنھیں جب کپتانی ملی تو ان کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی جو ان کے اعداد و شمار سے بھی عیاں ہے۔
سب سے زیادہ 119 ٹیسٹ میچوں میں کپتانی اور سب سے زیادہ 53 ٹیسٹ میچ جیتے والے جنوبی افریقہ کے گریم اسمتھ اس کی سب سے بڑی مثال ہیں۔
گریم اسمتھ کو صرف آٹھ ٹیسٹ میچ کھیلنے کے بعد کپتانی سونپ دی گئی تھی۔
ان آٹھ ٹیسٹ میچوں میں انھوں نے دو سنچریوں کی مدد سے 606 رنز بنائے تھے اور ان کی بیٹنگ اوسط 55.09 فیصد تھی۔
کپتان بننے کے بعد اگرچہ ان کی بیٹنگ اوسط 47.83 فیصد رہی لیکن انھوں نے ٹیسٹ میچوں میں 25 سنچریوں کی مدد سے8659 رنز بنا ڈالے۔
نیوزی لینڈ کے اسٹیفن فلیمنگ نے کپتان بننے سے پہلے 31 ٹیسٹ میچوں میں اڑتیس اعشاریہ سات چھ کی اوسط سے 2016 رنز بنائے تھے، کپتان بننے کے بعد انھوں نے 80 ٹیسٹ میچوں میں آٹھ سنچریوں کی مدد سے 5156 رنز سکور کیے اور ان کی بیٹنگ اوسط 40.59 رہی۔
ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان کلائیو لائیڈ کے اعدادوشمار بھی متاثرکن ہیں جنھوں نے عام کھلاڑی کی حیثیت سے 36 ٹیسٹ میچوں میں 38.67 کی اوسط سے 2282 رنز بنائے اور پھر بحیثیت کپتان 74 ٹیسٹ میچوں میں 51.3 کی اوسط سے ان کے بنائے گئے رنز کی تعداد 5233 تھی۔
اور بھلا مہندر سنگھ دھونی کو کیسے بھول سکتے ہیں جنھوں نے عام کرکٹر کی حیثیت سے 30 ٹیسٹ میچوں میں 33.06 کی اوسط سے 1422 رنز بنائے تھے لیکن کپتان کے طور پر 60 میچوں میں 40.63 کی اوسط سے انھوں نے 3054 رنز سکور کیے۔
ون ڈے انٹرنیشنل میں مہندر سنگھ دھونی کی کارکردگی کپتان کے طور پر نمایاں رہی اور انھوں نے 200 میچوں میں 53.55 کی اوسط سے 6641 رنز بنائے جبکہ عام کرکٹر کی حیثیت سے ان کی 150 میچوں میں بیٹنگ اوسط 46.42 اور رنز کی تعداد 4132 ہے۔
صرف ایسا نہیں ہے کہ ہر بڑا کرکٹر کپتان بن کر انفرادی کارکردگی کے معاملے میں کامیاب رہا ہو۔
کئی بڑے نام جب کپتان بنے تو ان کی کارکردگی کو گہن لگ گیا اس کی سب سے بڑی مثال انگلینڈ کے شہرۂ آفاق آل راؤنڈر این بوتھم کی ہے، جن کے لیے کپتانی کے 20 ٹیسٹ کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھے۔