آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سمیع چوہدری کا کالم: ’یہاں شام کتنے بجے ہوتی ہے بھئی؟‘
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
یاسر شاہ ایک مشکل صورتِ حال میں ایک اچھا اوور پھینک رہے تھے۔ چوتھی گیند پہ کرس ووکس نے ڈرائیو کرنے کی کوشش کی مگر اس پہ بھی رنز بننے کا امکان نہیں تھا کیونکہ کپتان اظہر علی مڈ آف پہ موجود تھے۔
اظہر علی ایک اچھے فیلڈر ہیں۔ کبھی سلپ میں بھی ٹھہرا کرتے تھے۔ یہاں بھی واضح تھا کہ وہ گیند روک لیں گے کیونکہ اس کے لیے انہیں کچھ خاص کرنے کی ضرورت نہیں تھی، گیند سیدھا ان کے ہاتھوں کی جانب بڑھ رہا تھا۔
مگر نجانے ایسا کیا ہوا کہ اظہر علی جھکے بھی، گیند ہاتھوں میں آیا بھی، پھر بھی دو رنز بن گئے۔ ری پلے جس فریم پہ کٹ ہوا، اس میں اظہر علی کے تاثرات ایسے تھے جیسے کسی اجنبی سیارے پہ کسی راہگیر سے پوچھ رہے ہوں، ’بھئی یہاں شام کتنے بجے ہوتی ہے؟‘
پاکستان کے لیے یہ کچھ ایسا ہی دن تھا۔ یہی نہیں، اس سے پچھلا دن بھی کچھ ایسا ہی تھا کہ سبھی چہروں پہ تھکاوٹ، پژمردگی اور یاسیت طاری رہی۔ سبھی اس انتظار میں دکھائی دیے کہ شام کب ہو گی اور گھر کو کب جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس میچ کے آغاز سے پہلے شنید تھی کہ گراؤنڈ کیوریٹر پچھلے میچ کی پچ کو ہی استعمال کرنے پہ غور کر رہے تھے کیونکہ موسمی یلغار کے باعث نئی پچ کی تیاری کا وقت نہیں مل پا رہا تھا۔ مگر برا ہوا کہ کیوریٹر کو نئی پچ کی تیاری کا وقت مل گیا۔
اور جو 'نئی' پچ تیار کی گئی، اس میں کچھ بھی نیا نہ نکلا۔ بلکہ یہ پچھلی پچ کا 'اینٹی تھیسس' ثابت ہوئی۔ نہ اس پہ کوئی گھاس چھوڑی گئی، نہ ہی وکٹ میں کوئی گرفت دیکھنے کو ملی جو سیمرز کے لیے مددگار ثابت ہوتی۔
پہلے نئے گیند نے پھر بھی کچھ کاٹ دکھائی مگر دوسرے نئے گیند سے وہ بھی دیکھنے کو نہ ملی۔ گویا اگر اس وکٹ پہ دو جمے ہوئے بلے باز موجود ہوں تو بے شک نیا گیند ہی کیوں نہ آ جائے، گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔
کورونا سے دفاع کے لیے جو نئی پلئینگ کنڈیشنز متعارف کروائی گئی ہیں، وہ بالخصوص پاکستانی بولرز کے لیے خاصی تکلیف دہ ثابت ہوئی ہیں۔ سلائیوا کے استعمال کے بغیر پرانی گیند کی ریورس سوئنگ غائب ہو گئی ہے اور یہ بات پاکستانی بولرز کے لیے کافی خسارے کا باعث بنی ہے۔
اس میچ سے پہلے جو پانچ میچز اس انگلش ٹیسٹ سمر میں کھیلے گئے، ان میں کیوریٹرز نے وکٹیں ایسی بنائیں کہ بولرز کو نئی پلئینگ کنڈیشنز کا زیادہ نقصان نہیں اٹھانا پڑا بلکہ مانچسٹر کی وکٹ تو بولرز کے لیے جنت ثابت ہوئی جہاں سیم اور سوئنگ کے ساتھ ساتھ غیر متوقع باؤنس کا بونس بھی ملا۔
لیکن جب ٹیسٹ کرکٹرز اس سطح کی مسابقتی کرکٹ کھیلنے آتے ہیں تو ان میں اتنا حوصلہ اور صلاحیت ضرور ہونی چاہیے کہ وہ ناسازگار کنڈیشنز میں بھی کچھ غیر متوقع چیزیں کر سکیں۔ وکٹ کی سرد مہری اپنی جگہ، پاکستانی بولنگ بھی یکسر سرد دکھائی دی۔
ایک ایسا بولنگ اٹیک جو ایک سست رفتار میڈیم پیسر کی قیادت میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے، جب اپنے لیڈر کی جانب سے کسی بریک تھرو سے محروم ہوا تو بالکل لاچار اور بے یار و مددگار دکھائی دیا۔
پہلے ٹیسٹ میچ میں بین سٹوکس نے محمد عباس کو کریز سے باہر نکل کر کھیلنے کی کوشش کی مگر محمد عباس نے ایسی 'میجک ڈلیوری' پھینکی جو دہائیوں بعد دیکھنے کو ملتی ہے۔ لیکن زیک کرالی نے سٹوکس سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور اپنی تکنیک برقرار رکھی۔
جب بلے باز کریز سے باہر کھیلنے لگے اور عباس کے وار ناکام ہوئے تو شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ بھی بالکل پھیکے پڑتے گئے۔ رہی سہی کسر اظہر علی کی کپتانی نے پوری کر دی جو یہ سمجھ ہی نہ پائے کہ اٹیک کب اور کیونکر کرنا ہے اور دفاع کیسے کرنا ہے۔
بجا کہ پہلے دن کی کنڈیشنز اور تیز ہوائیں بولنگ کے لیے مشکل تھیں مگر دوسرے دن تو کوئی تُند و تیز ہواؤں کے تھپیڑے نہیں برس رہے تھے جو نا تجربہ کار نوجوان بولر اپنی لائن ہی برقرار نہ رکھ پائے۔
اظہر علی کے لیے سیریز ہی نہیں، اپنی کپتانی بچانے کا بھی نادر موقع تھا کہ ذرا سی جارحانہ کپتانی کرتے اور یہ میچ جیتنے کے لیے کچھ ایسا کر جاتے کہ نام رہتا۔ مگر شاید قسمت اور پاکستانی بیٹنگ لائن کو ایسا منظور نہ ہو۔
لیکن اس 'شاید' سے ماورا، ابھی اس میچ میں لگ بھگ پونے تین سو اوورز کا کھیل باقی ہے۔ نو سیشنز پڑے ہیں۔ اور یہ نو سیشنز پاکستان سے زیادہ اظہر علی کے لیے اہم ہیں کیونکہ اب پاکستانی بولنگ سے زیادہ پاکستانی بیٹنگ اپنے کپتان کی منتظر ہے