پاکستان بمقابلہ انگلینڈ: تیسرے روز کا اختتام، پاکستان کو آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 244 رنز کی برتری حاصل

مانچسٹر میں کھیلے جانے والے پہلے کرکٹ ٹیسٹ میں تیسری روز کے اختتام پر پاکستان کو انگلینڈ پر 244 رنز کی برتری حاصل ہے جبکہ اس کو آٹھ وکٹوں کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

انگلش بولرز پاکستان کی برتری کو محدود رکھنے میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ پاکستان نے آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 137 رنز بنائے ہیں۔ اس وقت کریز پر یاسر شاہ اور محمد عباس موجود ہیں۔ اسد شفیق 29 اور محمد رضوان 27 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

بین سٹوکس، سٹیورٹ براڈ اور کرس ووکس نے دو، دو پاکستانی بلے بازوں کو آؤٹ کیا ہے جبکہ ڈوب بیس نے ایک وکٹ حاصل کی ہے۔

ووکس نے اظہر اور بابر کی قیمتی وکٹیں حاصل کیں

پاکستان نے تیسرے روز اپنی دوسری اننگز کی بیٹنگ کا آغاز 107 رنز کی برتری کے ساتھ کیا تھا۔

شان مسعود آؤٹ ہونے والے پہلے پاکستانی بلے باز تھے جنھیں سٹیورٹ براڈ نے کیپر جوس بٹلر کے کیچ کے ساتھ پویلین واپس بھیجا۔

جیمز اینڈرسن کی گیند پر عابد علی کا کیچ بین سٹوکس نے اس وقت ڈراپ کیا جب وہ محض 7 رنز پر بیٹنگ کر رہے تھے۔ لیکن چائے کے وقفے کے بعد عابد علی ڈوم بیس کو جارحانہ شاٹ مارنے کی کوشش میں 20 رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہوگئے۔

ان کے بعد بابر اعظم کرس ووکس کی گیند پر سلپ پر کیچ آؤٹ ہوئے۔ انھوں نے محض 5 رنز کے بعد اپنی وکٹ گنوا دی۔ کپتان اظہر علی کو بھی کرس ووکس نے ہی آؤٹ کیا۔ وہ 54 گیندوں پر 18 رنز بنانے کے بعد ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔

تیز رن لینے کی کوشش میں اسد شفیق 29 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ان کی اننگز میں تین چوکے شامل تھے۔ بین سٹوکس نے محمد رضوان کو ایل بی ڈبلیو کیا اور 27 رنز پر ان کی باری ختم کردی۔

سٹیورٹ براڈ کی گیند پر شاداب خان 15 رنز بنا کر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔ بین سٹوکس نے شاہین آفریدی کو باؤنسر سے سرپراز دیا سلپ پر ان کا کیچ پکڑا گیا۔

پاکستان کو برتری حاصل

پاکستان کے 326 رنز کے جواب میں تیسرے روز انگلینڈ کی ٹیم 219 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی تھی۔

پاکستانی بولرز میں یاسر شاہ سرفہرست رہے جنھوں نے چار وکٹیں حاصل کیں جبکہ انگلش بلے باز اولی پوپ نے 62 رنز کی باری کھیلی۔ شاداب خان اور محمد عباس نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔

اس طرح پاکستان کو دوسری اننگز میں بیٹنگ سے قبل انگلینڈ پر 107 رنز کی برتری حاصل ہوئی۔

اولی پوپ اپنی نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد سکور بورڈ میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن نسیم شاہ کی شارٹ پِچ گیند پر ان کی ایج لگی اور شاداب خان نے ان کا کیچ پکڑا۔ انھوں نے آٹھ چوکوں کے ساتھ 62 رنز بنائے تھے اور بٹلر کے ساتھ 65 رنز کی شراکت قائم کر تھی۔

یاسر شاہ نے لنچ کے بعد اپنے پہلے اوور میں ایک سیدھی جاتی گیند سے جوس بٹلر کو بولڈ کیا۔ بٹلر انگلینڈ کے لیے میچ میں واپسی کے لیے اہم تھے لیکن وہ صرف 38 رنز بناسکے۔

ڈوم بیس کریز پر زیادہ وقت نہ گزار سکے اور یاسر شاہ کی گھومتی گیند پر ان کا ایج لگا۔ سلپ پر موجود اسد شفیق نے ایک اچھا کیچ پکڑا۔

کرس ووکس نے دو چوکوں کو ساتھ 19 رنز بنائے لیکن یاسر شاہ کی گیند پر بولڈ ہوئے۔ شاداب خان نے اپنے دوسرے اوور میں پہلی وکٹ حاصل کی اور جوفرا آرچر کو 16 رنز پر کیچ آؤٹ کر دیا۔

اس کے بعد شاداب نے جیمز اینڈرسن کو ایل بی ڈبلیو کیا۔

جمعے کو میچ کے تیسرے دن اولڈ ٹریفرڈ کے میدان پر ان دونوں بلے بازوں نے چار وکٹوں کے نقصان پر 92 رنز کے سکور سے انگلینڈ کی پہلی اننگز دوبارہ شروع کی ہے۔

میچ کا دوسرا دن انگلش بلے بازوں کے لیے زیادہ اچھا نہیں رہا تھا اور میچ میں واپسی کے لیے میزبان ٹیم کی نظریں اولی پوپ اور جوس بٹلر کی جوڑی پر ٹکی ہوئی تھیں۔ دونوں کے درمیان 65 رنز کی شراکت رہی۔

دوسرے روز کا کھیل پاکستان کے نام رہا

جمعرات کو کھیل کا دوسرا دن پاکستان کے نام رہا۔ پاکستان کے اپنی پہلی اننگز میں شان مسعود کی شاندار سنچری کی بدولت 326 رنز بنائے تو جواب میں انگلینڈ کی پہلی اننگز کا آغاز تباہ کن تھا اور 12 کے سکور پر اس کی تین وکٹیں گر گئی تھیں۔

پاکستان کو پہلی کامیابی شاہین آفریدی نے دلوائی جنھوں نے پہلے ہی اوور میں روری برنز کو ایل بی ڈبلیو کر دیا۔ دوسرے اینڈ سے محمد عباس نے پہلے ڈوم سبلی اور پھر بین سٹوکس کی اہم وکٹ لے کر میزبان کی ٹیم مشکلات اور بڑھا دیں۔

کپتان جو روٹ آؤٹ ہونے والے چوتھے بلے باز تھے جنھیں اب تک میچ میں خاصے مہنگے ثابت ہونے والے یاسر شاہ نے وکٹوں کے پیچھے کیچ کروایا۔

تاہم اولی پوپ نے پراعتماد اور جارحانہ انداز میں پاکستانی بولرز کا مقابلہ کیا اور دوسرے اینڈ پر ڈٹے رہے۔

پاکستان کو انگلش ٹیم کی ’ٹیل‘ تک پہنچنے کے لیے مزید ایک وکٹ درکار ہے۔ اس میچ میں انگلینڈ کی جانب سے چھٹے نمبر پر کرس ووکس بلے بازی کرنے آئیں گے جن کی گذشتہ پانچ میچوں میں بلے بازی کی اوسط دوہرے ہندسوں میں بھی نہیں ہے۔

اس میچ کے بارے میں مزید پڑھیے

اس میچ میں پاکستان کی ٹیم میں دو لیگ سپنرز شاداب خان اور یاسر شاہ کو شامل کیا گیا ہے جبکہ بلے بازی کی ذمہ داری شان مسعود، عابد علی، اظہر علی، بابر اعظم، اسد شفیق اور رضوان احمد کے کاندھوں پر ہے جبکہ فاسٹ بولنگ سکواڈ شاہین آفریدی، محمد عباس اور نسیم شاہ پر مشتمل ہے۔

ادھر جو روٹ کی قیادت میں انگلینڈ کی ٹیم میں ڈوم سبلی، روری برنز، بین سٹوکس، اولی پوپ، جوس بٹلر، کرس ووکس، ڈوم بیس، سٹیورٹ براڈ اور جیمز اینڈرسن پر مشتمل ہے۔