27 ماہ ٹی ٹوئنٹی میں عالمی نمبر ایک پر رہنے کے بعد پاکستان کی تنزلی

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

آئی سی سی نے اپنی ٹی ٹوئنٹی عالمی رینکنگ آج جاری کر دی ہے جس میں پاکستان اپنی پہلی پوزیشن برقرار نہیں رکھ پایا ہے۔

اس کی جگہ آسٹریلیا پہلی بار مختصر فارمیٹ کی عالمی رینکنگ میں پہلے نمبر پر آگیا ہے۔

پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی کی عالمی نمبر ایک رینکنگ 27 ماہ تک برقرار رکھی تھی لیکن نئی رینکنگ میں وہ اب چوتھے نمبر پر چلا گیا ہے۔

انگلینڈ کا نمبر دوسرا اور انڈیا کا تیسرا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ آسٹریلیا نے نہ صرف ٹی ٹوئنٹی کی عالمی رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی ہے بلکہ اس نے ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی رینکنگ میں بھی انڈیا کو پرے دھکیلتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کرلی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عالمی رینکنگ میں یہ تبدیلی آئی سی سی کے سالانہ اپ ڈیٹ میں رونما ہوئی ہے۔ یہ اپ ڈیٹ ہر سال یکم مئی کو جاری کی جاتی ہے جس میں پچھلے ایک سال کے دوران ٹیموں کی 100 فیصد اور اس سے پہلے کے دو برسوں کی 50 فیصد کارکردگی کی بنیاد پر رینکنگ مرتب کی جاتی ہے۔

پاکستان کب سے عالمی نمبر ایک تھا؟

ٹی ٹوئنٹی کی عالمی رینکنگ سب سے پہلے 2011 میں متعارف کروائی گئی تھی۔ پاکستان پہلی مرتبہ نومبر 2016 میں ٹی ٹوئنٹی کا عالمی نمبر ایک بنا تھا لیکن نیوزی لینڈ نے اس سے یہ پوزیشن چھین لی تھی۔

تاہم جنوری 2018 میں پاکستان نے نیوزی لینڈ ہی کے خلاف سیریز دو ایک سے جیت کر دوبارہ پہلی پوزیشن حاصل کرلی تھی جس کے بعد 27 ماہ تک اس نے یہ پوزیشن برقرار رکھی۔

پاکستان کی پوزیشن کیسے خطرے میں آئی؟

ٹی ٹوئنٹی پاکستان کا ہمیشہ سے پسندیدہ فارمیٹ رہا ہے جس میں اس کی مجموعی کارکردگی اچھی رہی ہے۔ 2016 سے 2018 تک کے عرصے میں پاکستان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل 11 سیریز جیتی تھیں۔ یہ تمام کامیابیاں اس نے وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد کی قیادت میں حاصل کی تھیں جو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں فتوحات کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے کامیاب کپتان ہیں۔

پاکستان کے لیے 2019 مایوس کن سال رہا۔ شعیب ملک کی قیادت میں اسے جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں دو ایک سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کے بعد سرفراز احمد کی قیادت میں پہلے اسے انگلینڈ کے خلاف واحد میچ میں ناکامی ہوئی اور پھر سری لنکا کی ٹیم نے اسے تین صفر کی ہزیمت سے دوچار کردیا۔ اس نتیجے کے بعد سرفراز احمد کی جگہ بابر اعظم کو کپتان بنا دیا گیا۔

پاکستان آسٹریلیا کے دورے میں ہی ٹی ٹوئنٹی کی عالمی نمبر ایک رینکنگ سے محروم ہوجاتا اگر پہلا میچ بارش کی نذر نہ ہوتا اور آسٹریلیا دو صفر کے بجائے تین صفر سے سیریز جیت جاتا۔

پاکستان کی پہلی پوزیشن اس وقت بھی خطرے سے دوچار ہوگئی تھی جب پاکستان آسٹریلیا سیریز کے ساتھ ساتھ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی سیریز بھی جاری تھی اور عالمی نمبر دو انگلینڈ کے پاس عالمی نمبر ایک بننے کا سنہری موقع تھا لیکن انگلینڈ کی دو میچوں میں شکست کے نتیجے میں پاکستان کی پہلی پوزیشن اس وقت محفوظ رہی تھی۔

پاکستانی ٹیم نے اپنی آخری سیریز بنگلہ دیش کے خلاف تین صفر سے جیتی تھی لیکن دوسری جانب آسٹریلیا کی کارکردگی خاصی متاثر کن رہی جس نے آخری نو میں سے سات میچ جیتے ہیں۔

اب مبصرین آسٹریلیا کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی فیورٹ ٹیم قرار دے رہے ہیں جو کپ اسی سال اکتوبر نومبر میں آسٹریلیا میں ہونا ہے۔