آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
قمرزمان: خوبصورت سٹروکس کھیلنے والے سکواش کے جادوگر
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی سکواش کی تاریخ میں جہاں جہانگیر خان کی عظمت اور ہاشم خان، اعظم خان، روشن خان اور محب اللہ خان سینیئر کے روشن دور کے تذکرے سننے کو ملتے ہوں اور پھر جان شیر خان کی صورت میں ایک اور بہترین کھلاڑی تاریخ کا حصہ بن جائے، ایسے میں قمرزمان اپنی مخصوص شناخت کے ساتھ نظر آتے ہیں۔
11 اپریل سنہ 1952 کو کوئٹہ میں پیدا ہونے والے قمرزمان اپنے کیرئیر میں عالمی نمبر ایک رہے اور جب جہانگیر خان کا دور آیا تب بھی انھوں نے گیارہ سال تک عالمی رینکنگ میں دوسری پوزیشن برقرار رکھی۔
ہاشم خان سے محب اللہ سینیئر تک پاکستان نے برٹش اوپن کا اعزاز لگاتار تیرہ سال جیتا لیکن پھر بارہ سال کا طویل وقفہ آگیا۔
یہ جمود قمرزمان نے ہی توڑا تھا جب سنہ 1975 کے برٹش اوپن میں انھوں نے جیف ہنٹ، ہدایت جہاں اورگوگی علاؤ الدین کو شکست دی تھی۔
ان کے کھیل میں عجب کشش تھی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قمرزمان نے یقیناً جہانگیر خان جتنی تعداد میں ٹورنامنٹس نہیں جیتے اور نہ ہی وہ جان شیر خان جتنے سپر فٹ تھے لیکن جس خوبی نے انھیں دوسروں سے ممتاز بنائے رکھا تھا وہ ان کے خوبصورت سٹروکس تھے۔
ہاشم خان نے اپنے ایک انٹرویو میں قمرزمان کے بارے میں کہا تھا کہ ان کے کھیل کی کشش ہر ایک کو اپنی جانب کھینچتی تھی۔
روشن خان نے قمرزمان کو ستر کے عشرے کا سب سے اچھا کھلاڑی قرار دیا تھا۔
آسٹریلوی کھلاڑی کرس ڈٹمار کہتے ہیں کہ قمرزمان اس کھیل کو دیا گیا ایک خوبصورت تحفہ تھے جس کا ثبوت سکواش کورٹ کی وہ گیلریاں ہیں جو قمرزمان کے کھیل کے وقت شائقین سے کھچاکھچ بھری ہوئی ہوتی تھیں۔
جونا بیرنگٹن کے خیال میں قمرزمان اپنے سٹروکس ہر زاویے سے یکساں مہارت سے کھیلنے میں کمال رکھتے تھے۔
قمرزمان کے بچپن کے دوست اور ان کے ساتھ بین الاقوامی سکواش کھیلنے والے ہدایت جہاں کے خیال میں قمر زمان ایک جادوگر تھے۔
انھوں کا کہنا تھا کہ قمر کے خلاف کھیلتے وقت پرسکون رہنا پڑتا تھا کیونکہ ان کے سٹروکس اپنے حریف کو ہر وقت کورٹ میں دوڑانے پر مجبور کرتے تھے اور ان کے خلاف چالیس پچاس منٹ کھیلنا دوسرے کسی کھلاڑی کے ساتھ دو گھنٹے کھیلنے کے برابر ہوتا تھا۔
پھٹی ہوئی گیندوں سے کھیلنے کا فائدہ
قمرزمان کے ڈراپ شاٹس کا پس منظر خاصا دلچسپ ہے۔ ان کے والد کی مالی حالت ایسی نہ تھی کہ وہ ان کے لیے روز گیندوں کا خرچ برداشت کرسکتے لہٰذا قمرزمان کوئٹہ کلب میں ممبرز کی کھیلی ہوئی خراب یا پھٹی ہوئی گیندیں گھر لے آتے تھے، جنھیں ان کی والدہ ٹانکے لگا کر سی دیتی تھیں۔
ان گیندوں کو وہ زور سے ہٹ نہیں لگا سکتے تھے لہٰذا آہستگی سے کھیلا کرتے تھے لیکن اسی وجہ سے ہی ڈراپ شاٹس کھیلنے کی عادت اتنی پختہ بن گئی کہ یہ بین الاقوامی سکواش میں ان کی پہچان بن گئی۔
قمرزمان کی آزادانہ سٹروکس کھیلنے کی عادت سے ان کے مینٹور اور چچا آفتاب جاوید بہت خفا رہتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ اس سلسلے میں احتیاط برتیں لیکن قمرزمان سنی ان سنی کردیتے تھے اور سٹروکس کھیلنے سے باز نہیں آتے تھے۔
جیف ہنٹ روایتی حریف
قمرزمان کو اپنے کیریئر میں آسٹریلیا کے جیف ہنٹ کی شکل میں سب سے بڑے چیلنج کا سامنا رہا۔
دونوں کے درمیان کئی یادگار میچز کھیلے گئے۔ سنہ 1975 کی برٹش اوپن کے کوارٹرفائنل میں قمرزمان نے پہلے دو گیمز ہارنے کے بعد جیف ہنٹ کو شکست دی تھی۔
چیمپئن شپ شروع ہونے قبل جیف ہنٹ سے پوچھا گیا تھا کہ اس بار کون کون کھلاڑی آپ کے لیے سخت حریف ثابت ہوسکتے تھے تو جیف ہنٹ نے چند نام لیے۔
ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے قمرزمان کا نام نہیں لیا تو ہنٹ کا جواب تھا انھیں قابو کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگلے دن قمرزمان سے ہارنے کے بعد ہنٹ اتنی بری طرح تھک چکے تھے کہ انھیں کہنا پڑا کہ وہ بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
اس برٹش اوپن کے دوران قمرزمان عقل داڑھ کی وجہ سے بھی بہت تکلیف میں تھے لیکن انھوں نے کسی بھی موقع پر اپنی تکلیف کو حاوی نہیں ہونے دیا تھا۔
قمرزمان سال کے تقریباً ہر ٹورنامنٹ میں جیف ہنٹ کو ہراتے تھے لیکن برٹش اوپن کے تین اور ورلڈ اوپن کے چار فائنلز میں ہنٹ نے انھیں جیتنے نہیں دیا۔
قمرزمان یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ یہ ایک نفسیاتی معاملہ تھا جو ان دونوں ٹورنامنٹس میں انھیں ہنٹ کے خلاف جیتنے نہیں دیتا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ پورے سال کھیلتے کھیلتے جب وہ برٹش اوپن تک آتے تھے تو ان کی پِیک (کھیلنے کی رفتار) نیچے کی طرف آچکی ہوتی تھی۔
مبصرین کا خیال ہے کہ سنہ 1975 کی شکست کے بعد جیف ہنٹ نے خود کو برٹش اوپن کے لیے بہت زیادہ تیار کرنا شروع کردیا تھا کیونکہ انھیں اس ایونٹ کی اہمیت پتہ تھی یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد انھوں نے برٹش اوپن کے تین اور ورلڈ اوپن کے چار فائنلز میں قمرزمان کو ہرایا تھا۔
سکواش کورٹ میں چٹکلے
قمرزمان اپنی بذلہ سنجی اور ہنس مکھ طبعیت کی وجہ سے سکواش کے حلقوں میں ہمیشہ مقبول رہے ہیں۔
ایک مرتبہ میچ کے دوران ریفری نے ان کے خلاف فیصلہ دیا، جس پر انھوں نے بڑی معصومیت سے ریفری سے کہا کہ آپ کو نہیں معلوم کہ کھیل کے قانون نمبر فلاں میں ایسا نہیں ہے جس پر ریفری نے فیصلہ بدل دیا۔
میچ کے بعد ریفری نے قمرزمان سے اس قانون کے بارے میں مزید جاننا چاہا تو قمرزمان نے اسے یہ کہہ کر حیران کردیا کہ کونسا قانون میں تو مذاق کررہا تھا۔
برٹش اوپن کے ایک میچ کے دوران خاتون ریفری نے ان کے خلاف فیصلہ دیا۔
قمرزمان کورٹ کا دروازہ کھول کر باہر آئے تو خاتون ریفری نے ان سے کہا کیا مسئلہ ہے؟ جس پر قمرزمان نے جواب دیا کچھ نہیں میں تو آپ کو دعوت دینا چاہتا ہوں کہ کیا آپ میرے ساتھ ڈنر کریں گی۔ خاتون ریفری ہنس پڑیں اور کہا نہیں میرے پاس وقت نہیں ہے۔
قمرزمان کا کہنا ہے کہ وہ اپنا غصہ ریکٹ پھینک کر یا کسی دوسرے پر نہیں اتارتے تھے بلکہ اپنے چٹکلوں سے خود کو ریلکس رکھا کرتے تھے۔
ساٹھ روپے کی تنخواہ سے لاکھوں کی اسپانسرشپ تک
قمرزمان کوئٹہ میں ٹینس کھیلتے تھے ان کے والد محمد ایوب کوئٹہ کلب میں ٹینس کوچ تھے۔
قمرزمان کو ریلویز کلب میں ممبرز کے ساتھ ٹینس کھیلنے کی پہلی ملازمت ملی، جس پر انھیں ساٹھ روپے ملے تھے۔
ان کے کیریئر کا اہم موڑ اس وقت آیا جب انھوں نے لاہور میں قومی جونیئر ٹینس ٹائٹل جیتا۔ اس وقت کے ریلویز کے چیف انجینئر منیر احمد نے ان کے لیے لاہور میں رہائش کا بندوبست بھی کیا لیکن گھر کی یاد میں وہ صرف چھ ماہ بعد کوئٹہ واپس چلے گئے۔
قمرزمان نے جب برٹش اوپن جیتی تو کھیلوں کا سامان بنانے والی بین الاقوامی کمپنی ڈنلپ نے انھیں اسپانسرشپ معاہدے کی پیشکش کر ڈالی۔
کمپنی کا نمائندہ معاہدے کا مسودہ لے کر کراچی آیا اور ان سے پوچھا کہ آپ کتنے پیسے لیں گے؟
قمرزمان نے کہا پانچ ہزار پاؤنڈ۔ اس نے کہا نہیں۔ قمرزمان سمجھے شاید زیادہ پیسے بتادیے ہیں پھر کہا کہ تین ہزار پاؤنڈ اس نے جواب دیا نہیں۔ جب معاہدے کا مسودہ ان کے سامنے رکھاگیا تو اس پر درج تھا ایک لاکھ پاؤنڈ۔