Karachi Kings vs Quetta Gladiators: کراچی کنگز کے خلاف کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جیت، مگر پی ایس ایل فائیو میں سفر تمام

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 30 ویں میچ میں آج کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے کراچی کنگز کو شکست دے دی ہے مگر اس کے باوجود وہ سیمی فائنل میں جگہ بنانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔

کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں کراچی کنگز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔

پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے کراچی کنگز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو جیت کے لیے 151 رنز کا ہدف دیا جو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پانچ وکٹوں کے نقصان پر 17 ویں اوور میں حاصل کر لیا۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے بیٹنگ کا آغاز ہوا تو ان کے اوپنر احمد شہزاد بھی کراچی کنگز کے اوپنر شرجیل خان کی طرح میچ کی دوسری گیند پر ہی آؤٹ ہوگئے۔

گلیڈی ایٹرز کے بلے باز خرم منظور 63 رنز بنا کر وقاص مقصود کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔

گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد دو رنز بنا کر علی خان کی گیند پر چیڈوک والٹن کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے آسٹریلوی بلے باز شین واٹسن 34 گیندوں پر 66 رنز بنا کر پویلین واپس لوٹ گئے جبکہ ان کی جگہ آنے والے بین کٹنگ کوئی بھی رن بنائے بغیر کیچ آؤٹ ہوگئے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو اگر پشاور زلمی کو ٹورنامنٹ سے باہر کر کے سیمی فائنل میں جگہ بنانی تھی تو انھیں 151 رنز کا ہدف 3.2 اوورز میں حاصل کرنا تھا مگر اب ان کے ہاتھ سے یہ موقع جا چکا ہے۔

چنانچہ پاکستان سپر لیگ کا پہلا سیمی فائنل ملتان سلطانز اور پشاور زلمی کے درمیان ہوگا جبکہ دوسرا سیمی فائنل کراچی کنگز اور لاہور قلندرز کے درمیان کھیلا جائے گا۔

کراچی کنگز کی بیٹنگ

کراچی کی اننگز کا آغاز قدرے اچھا نہ تھا اور میچ کی دوسری ہی گیند پر نسیم شاہ کے ہاتھوں کراچی کنگز کے شرجیل خان صفر رنز پر آؤٹ ہوگئے جبکہ افتخار احمد سہیل خان کی گیند پر واٹسن کے ہاتھوں 21 رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہوئے۔

اس کے بعد کپتان بابر اعظم نے اننگز کو سنبھالا تاہم وہ بھی 34 گیندوں پر 32 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔

کراچی کنگز کے بلے باز چیڈوک والٹن بھی نسیم شاہ کی گیند پر محمد حسنین کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔

کراچی کنگز نے اپنے سکواڈ میں شرجیل خان، بابر اعظم، کیمرون ڈیلپورٹ، چیڈوک والٹن، افتخار احمد، محمد رضوان، اسامہ میر، علی خان، ارشد اقبال، عمر خان اور وقاص مقصود کو شامل کیا۔

دوسری جانب کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا سکواڈ شین واٹسن، احمد شہزاد، خرم منظور، سرفراز احمد، محمد نواز، اعظم خان، بین کٹنگ، سہیل خان، فواد احمد، محمد حسنین، نسیم شاہ پر مشتمل تھا۔

لاہور قلندرز کی ملتان سلطانز کو شکست

اس سے قبل آج دوپہر لاہور قلندرز اور ملتان سلطانز کے درمیان لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلا گیا جس میں لاہور قلندرز نے ملتان سلطانز کو نو وکٹوں سے شکست دے دی ہے۔

لاہور قلندرز نے 19 اوورز میں ہی 187 کا مطلوبہ ہدف حاصل کر لیا جس کے بعد وہ پی ایس ایل کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

قلندرز کے بلے باز کرس لِن نے اپنی ٹیم کو فتح دلوانے میں اہم کردار ادا کیا جنھوں نے آٹھ چھکوں اور 12 چوکوں کی مدد سے 55 گیندوں پر 113 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی۔

ملتان سلطانز کے بولر عثمان قادر کی گیند پر فخر زمان سٹمپ آؤٹ ہوگئے لیکن اس سے قبل وہ لاہور کو 57 رنز کا شاندار آغاز فراہم کر چکے تھے۔

اس سے قبل ملتان سلطانز نے مقررہ 20 اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 186 رنز بنائے جس میں ان کے بلے باز خوش دل شاہ سرِفہرست رہے۔

پانچ وکٹیں گرنے کے بعد جب ملتان کی ٹیم بظاہر مشکلات کی شکار نظر آ رہی تھی، اس وقت خوش دل شاہ نے اپنی ٹیم کے سکور میں گراں قدر اضافہ کر کے انھیں سہارا دیا۔

انھوں نے 29 گیندوں پر پانچ چوکوں اور چھ چھکوں کی مدد سے 70 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی۔

ملتان سلطانز کے اوپنرز اپنی ٹیم کو رنز کی کوئی بڑی شراکت نہ دے سکے۔ اوپنر معین علی ایک رن بنا کر شاہین آفریدی کی گیند پر آؤٹ ہوئے جبکہ ذیشان اشرف محمد حفیظ کی گیند پر سہیل اختر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔

لیکن ابتدائی نقصان کے بعد ملتان کے کھلاڑیوں نے اپنے رنز میں دھیمے انداز میں مستحکم اضافہ کیا جس کے بعد شان مسعود 29 گیندوں پر 42 رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد ڈیوڈ ویسا کی گیند پر پویلین واپس لوٹ گئے۔

اس کے بعد روی بوپارہ گیند کو باؤنڈری تک پہنچانے کی کوشش میں ڈیوڈ ویسا کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔

اس سال پی ایس ایل میں اپنا پہلا میچ کھیلنے والے اسد شفیق صرف ایک رن بنا کر رن آؤٹ ہوگئے۔

شاہین شاہ آفریدی کی یارکر نے روحیل نذیر کی اننگز کو 24 رنز پر ختم کردیا۔

یاد رہے کہ کراچی کے طرح لاہور میں بھی کورونا وائرس کے خطرے کے پیشِ نظر آج کا میچ تماشائیوں کے بغیر ہی کھیلا جا رہا ہے۔

دونوں ٹیموں کی اب تک کارکردگی

ملتان سلطانز اب تک پاکستان سپر لیگ کی سب سے کامیاب ٹیم ثابت ہوئے ہیں جنھوں نے اپنے کھیلے گئے نو میچز میں سے چھ جیتے ہیں جبکہ دو میں شکست کھائی ہے۔

چنانچہ پوائنٹس ٹیبل پر ملتان کی ٹیم 14 پوائنٹس کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔

دوسری جانب لاہور قلندرز کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر 10 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ انھوں نے اب تک 10 میچز کھیلے ہیں جن میں سے پانچ جیتے ہیں جبکہ پانچ میں انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ملتان سلطانز کے دو کھلاڑی رائلی روسو اور جیمز ونس ان دو غیر ملکی کھلاڑیوں میں سے ہیں جو اپنے وطن واپس لوٹ جانے کے باعث آج کا میچ نہیں کھیل سکے۔

لاہور قلندرز کا کوئی بھی غیر ملکی کھلاڑی اپنے وطن واپس نہیں گیا ہے۔

سکواڈ کی صورتحال

ملتان سلطانز کا سکواڈ شان مسعود، روی بوپارا، معین علی، روحیل نذیر، عثمان قادر، جنید خان، علی شفیق، خوش دل شاہ، ذیشان اشرف، بلاول بھٹی اور اسد شفیق پر مشتمل تھا۔

لاہور قلندرز نے آج کے لیے اپنے سکواڈ میں فخر زمان، سہیل اختر، کرس لِن، محمد حفیظ، بین ڈنک، سمیت پٹیل، ڈیوڈ ویسا، شاہین آفریدی، حارث رؤف، فرزان راجہ اور دلبر حسین کو شامل کیا۔

لاہور قلندرز کے بولر سمیت پٹیل 4-5 کی اوسط کے ساتھ اب تک ٹورنامنٹ کے بہترین بولر رہے ہیں جبکہ ان کے بعد ملتان سلطانز کے سہیل تنویر ہیں جو کہ 4-13 کی اوسط رکھتے ہیں مگر آج کے سکواڈ میں شامل نہیں ہیں۔

اسی طرح لاہور قلندرز کے بلے باز بین ڈنک 266 رنز بنا کر کراچی کنگز کے بابر اعظم کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ رنز سکور کرنے والے کھلاڑی ہیں۔ دوسرے جانب ملتان سلطانز کے رائلی روسو اب تک ٹورنامنٹ میں 100 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیل کر دوسرے نمبر پر سب سے بڑی اننگز کھیلنے والے بلے باز ہیں، لیکن وہ بھی آج کے سکواڈ میں شامل نہیں ہیں۔