#LQvPZ: پشاور زلمی نے لاہور قلندرز کو جبکہ ملتان سلطانز نے کراچی کنگز کو یکطرفہ مقابلوں میں شکست دے دی

راولپنڈی اور ملتان کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے پاکستان سپر لیگ کے میچوں میں پشاور زلمی نے لاہور قلندرز کو جبکہ ملتان سلطانز نے کراچی کنگز کو یکطرفہ مقابلوں میں شکست دے دی۔

آج کھیلے جانے والے دوسرے میچ میں پشاور زلمی نے لاہور قلندرز کو 16 رنز سے شکست دی۔ اس میچ کو گیلے گراؤنڈ کے باعث 12 اوورز تک محدود کر دیا گیا تھا۔

ٹاس جیت کر لاہور قلندرز نے پشاور زلمی کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تو انھوں نے مقررہ 12 اوورز میں حیدر علی اور ٹام بینٹن کے 34، 34 رنز کی بدولت 132 رنز بنائے۔ دوسری جانب لاہور قلندرز کے دلبر حسین نے چار کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔

یہ بھی پڑھیے

133 رنز کے ہدف کے دفاع میں لاہور قلندرز کا آغاز تو ہمیشہ کی طرح بہت اچھا تھا اور ایک موقع پر چار اوورز میں لاہور کے بغیر کسی نقصان کے 48 رنز تھے لیکن پھر وہی ہوا جو لاہور قلندرز کی خامی رہی ہے۔ یکے بعد دیگرے وکٹیں گریں اور لاہور یہ میچ 16 رنز سے ہار گیا۔

لاہور کی جانب سے سمت پٹیل نے 34 جبکہ کرس لِن نے 30 رنز بنائے۔ پشاور کے لیوئس گریگوری نے چار اہم وکٹیں حاصل کیں۔

فخر زمان ایک مرتبہ پھر چوک گئے

ایک ایسے میچ میں جہاں تیزی سے رنز سکور کرنے کی اشد ضرورت تھی، فخر زمان پھر چوک گئے۔

فخر زمان کی خراب فارم کا سلسلسہ ایک عرصے سے چل رہا ہے اور آج دو مرتبہ آؤٹ ہوتے ہوتے بچنے کے باوجود وہ اچھا سکور نہ کر سکے۔

انھوں نے 19 گیندوں پر صرف ایک چوکے اور ایک چھکے کی مدد سے 22 رنز بنائے جو ایک 12 اوورز کے میچ میں انتہائی کم ہے۔

میچ بارش کے باعث تعطل کا شکار

یہ میچ بارش اور گیلے گراؤنڈ کے باعث 12 اوورز تک محدود کر دیا گیا تھا اور اس کا آغاز مقررہ وقت سے تقریباً دو گھنٹے کی تاخیر سے ہوا۔

لاہور قلندرز کے فاسٹ بولر حارث رؤف انجری کے باعث اس میچ کا حصہ نہیں ہیں اور ان کی جگہ سلمان ارشاد کو ٹیم میں شامل کیا گیا جبکہ نو عمر لیگ سپنر معاذ خان اور فاسٹ بولر دلبر حسین کو بھی ٹیم کا حصہ بنایا گیا۔

دوسری جانب پشاور زلمی نے لیگ سپنر محمد محسن اور لیوس گریگوری کو ٹیم میں شامل کیا۔

دوسری جانب جنوبی افریقی فاسٹ بولر ڈیل سٹین جو اس ٹورنامنٹ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی نمائندگی کریں گے نے پاکستان کے لیے اہنے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔

دوسری جانب آج ملتان کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے پاکستان سپر لیگ کے پانچویں ایڈیشن کے دسویں میچ میں میزبان ملتان سلطانز نے کراچی کنگز کو 52 رنز سے شکست دے دی تھی۔

کراچی کنگز کی پوری ٹیم صرف 17 اوورز میں 134 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ کراچی کی جانب سے ایلکس ہیلز نے سب سے زیادہ 29 جبکہ ملتان سلطانز کی جانب سے عمران طاہر نے تین اور شاہد آفریدی اور سہیل تنویر نے دو دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ہے۔

ملتان سلطانز کے معین علی کو سب سے زیادہ 65 رنز بنانے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

عمر خان کو بولنگ نہ دینے کا فیصلہ

کراچی کنگز نے پچھلے برس پی ایس ایل کے دوران عمدہ بولنگ کرنے والے لیفٹ آرم سپنر عمر خان کو تو کھلایا لیکن انھوں نے پورے میچ میں ایک بھی اوور نہیں کرایا۔

خیال رہے کہ عمر خان کو پچھلے سیزن میں عمدہ بولنگ کرنے پر خوب سراہا گیا تھا کیونکہ انھوں نے اے بی ڈی ویلیئرز اور دیگر اچھے بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھائی تھی۔

تاہم آج کے میچ میں انھیں اوور نہ دینے کی وجہ یہی سمجھ آتی ہے کہ ملتان سلطانز کی ٹیم میں بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے بلے باز کثرت سے ہیں۔

یہی وجہ تھی کہ کپتان عماد وسیم جو خود بھی لیفٹ آرم سپن کرواتے ہیں نے صرف ایک ہی اوور کروایا جس میں انھیں معین علی سے ایک چھکے اور ایک چوکا مارا۔

تجزیہ کار مظہر ارشد نے اس حوالے سے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کا عمر خان کو اوور نہ دینے کا فیصلہ سمجھ سے باہر ہے۔

کراچی کنگز کی خراب فیلڈنگ

انگلش بلے باز معین علی نے ملتان سلطانز کے لیے سب سے زیادہ 65 رنز بنائے لیکن جب وہ صفر کے سکور پر کھیل رہے تھے تو ان کا آسان کیچ شرجیل خان نے پکڑا۔

کراچی کنگز نے پورے میچ خراب فیلڈنگ کی اور معین علی کے دو کیچ ڈراپ کیے۔ بعد میں معین علی کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

دوسری جانب ملتان سلطانز نے اپنی اننگز کے دوران بہترین فیلڈنگ کا مظاہرہ کیا اور چند مشکل کیچ بھی پکڑے۔ اگر کراچی کو اگلے میچوں میں اچھی کارکردگی دینی ہے تو انھیں اچھی فیلڈنگ کرنا پڑے گی۔

ذیشان اشرف کو اس میچ میں پہلی مرتبہ اوپننگ کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا اور انھوں نے اس فیصلے پر زیادہ مایوس نہیں کیا اور تین چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 23 رنز بنائے۔ وہ افتخار احمد کی بولنگ پر بابر اعظم کو مڈوکٹ باؤنڈری پر ایک آسان کیچ دے بیٹھے۔

ملتان کے سپنرز کے عمدہ اوور

کراچی کنگز کے سپنرز کے برعکس ملتان سلطانز کے سپنرز نے عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر چھ وکٹیں حاصل کیں۔

ایک ایسے ٹورنامنٹ میں جہاں ہر ٹیم فاسٹ بولرز پر ہی انحصار کیے ہوئے ہے، ملتان کے دو لیگ سپنرز شاہد آفریدی اور عمران طاہر عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

جہاں کراچی کنگز کے سپنرز عماد وسیم اور افتخار احمد کو چار اوورز میں ایک وکٹ کے عوض 54 رنز پڑے، وہیں ملتان کے سپنرز معین علی، شاہد آفریدی اور عمران طاہر نے سات اوورز میں 71 رنز کے عوض چھ وکٹیں حاصل کیں۔