آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’میرے ملک میں کرکٹ آئی ہے!‘
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
نوّے کی دہائی کے اوائل میں جب صنعتی ترقی نے زور پکڑا اور حکومت نے گھر گھر بجلی پہنچانا شروع کی تو دیہی علاقوں میں کرنٹ لگنے سے حادثات ہونا شروع ہو گئے۔
جس پہ ایک مقامی روزنامے نے ایک کارٹون شائع کیا جس میں ایک شخص تیز رفتاری سے بجلی کے کھمبوں سے دور بھاگے جا رہا ہے اور کیپشن ہے، ’میرے گاؤں میں بجلی آئی ہے۔‘
یہ بات یوں یاد آئی کہ پچھلے تین روز سے راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں جو بھاگ دوڑ جاری ہے، اسے کچھ یوں تعبیر کیا جا سکتا ہے کہ ’میرے ملک میں کرکٹ آئی ہے۔‘
چونکہ پاکستان کو اپنے ہوم گراؤنڈز پہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلے ایک دہائی بیت چکی ہے سو عوام کی طرح خواص کے ذہنوں سے بھی یہ یاد محو ہو چکی تھی کہ جب یہاں موسمِ سرما میں ٹیسٹ میچز منعقد ہوتے ہیں تو کیسے کیسے مسائل درپیش آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے
ان مسائل کی نوعیت کچھ ایسی پیچیدہ ہے کہ دنیا کے باقی حصوں میں یہ باتیں خاصی مضحکہ خیز سی دکھائی دیتی ہیں۔ جیسے خراب روشنی کے باعث دن کے دو دو سیشنز کا مختصر ہو جانا، بارش کے بعد گیلی آؤٹ فیلڈ کو خشک کرتے پورا پورا سیشن گزر جانا وغیرہ۔
اعداد و شمار کی روشنی میں ہی دیکھ لیا جاتا تو شاید پی سی بی دسمبر میں ٹیسٹ میچ کروانے پہ دو بار سوچتا۔ پچھلے بیس سال میں پاکستان میں ہوئے دسمبر کے قریب سبھی میچ بے نتیجہ ختم ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مستثنیات صرف وہ میچ ہیں جو نیشنل سٹیڈیم کراچی میں کھیلے گئے۔ گو اس میں بھی کراچی کی وکٹ سے زیادہ کردار کراچی کے موسم کا رہا جہاں دسمبر میں بھی سردی ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔
دن بھر خوب دھوپ نکلتی ہے جو کرکٹ کے لئے حوصلہ افزا پلئینگ کنڈیشنز فراہم کرتی ہے اور دھند کی وجہ سے سیشن مؤخّر یا مختصر نہیں ہوتے۔
اب کی بار گو معاملہ کچھ زیادہ ٹیڑھا ہے۔ پی سی بی نے جانے کیا کیا جتن کر کے سری لنکا کو ان دو ٹیسٹ میچز کے لیے قائل کیا اور ایف ٹی پی میں مختصر سی ونڈو دیکھ کے یہ دو ٹیسٹ میچ فٹ کر دیے۔
کراچی کا میچ تو یقیناً نتیجہ خیز ثابت ہو گا مگر فی الوقت راولپنڈی کا یہ میچ بوریت، بارش اور بری روشنی کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اب تک ہوئے نو سیشنز میں صرف اکیانوے اوور کا کھیل ممکن ہوا ہے اور ان میں سے بھی صرف ایک سیشن میں ہمیں سورج کی شکل دکھائی دی۔
ایسے عالم میں کسی بھی بولر، بلے باز یا کپتان کی کارکردگی کا تجزیہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ جہاں تسلسل اس قدر تسلسل سے ٹوٹے کہ نہ بلے باز قدم جما پائے اور نہ ہی بولر کی لائن سیٹ ہو پائے، وہاں تخیّر آمیز پہلو یہ ہے کہ دھننجایا ڈی سلوا کیسی روانی سے بیٹنگ کر رہے ہیں۔
موسم کی یہی صورتِ حال جاری رہی تو عین ممکن ہے کہ باقی دو روز کے کھیل میں ہی بقایا ساڑھے تین اننگز مکمل ہو جائیں اور کوئی نتیجہ بھی نکل آئے۔
وکٹ فاسٹ بولنگ کے لیے یکسر سازگار ہے اور دو روز کی بارش کے بعد اس کے سست پڑ جانے یا خشک ہونے کے امکانات بھی بہت کم ہیں۔ ایسے میں دیکھنا یہ ہو گا کہ ’آل پیس اٹیک‘ نہ کھلانا کرونا رتنے کی ٹیم کے لیے کتنا بھاری ثابت ہو گا۔
پہلے دن کے پہلے سیشن کے سوا پاکستان نے کہیں بھی بری بولنگ نہیں کی۔ اگر یہی ڈسپلن باقی کے کھیل میں بھی برقرار رہا اور موسم نے باقی ماندہ اوور مکمل ہونے دئیے تو غالباً پاکستان اپنی ذلت آمیز کارکردگی کا تسلسل توڑ سکے گا۔
لیکن اگر موسم نے باقی ماندہ سیشنز میں بھی یونہی دخل اندازی جاری رکھی تو پی سی بی کو بھی سوچنا پڑے گا کہ ’ہم دسمبر میں ٹیسٹ کرکٹ کیوں کھیلتے ہیں؟‘