مورینیو صرف فٹبال مینیجر ہی نہیں، ایک پاپ کلچر کی علامت

،تصویر کا ذریعہTottenham Hotspur
- مصنف, بین ستھرر لینڈ
- عہدہ, سپورٹس ایڈیٹر، بی بی سی ورلڈ سروس لینگوئجز
اگر آپ کسی سے پوچھیں کہ کسی فٹ بال مینیجر کا نام لے تو دنیا میں کہیں سے بھی پوچھا جائے تو یقیناً سب سے مشترکہ نام ہوزے مورینیو کا ہو گا۔
یرگن کلوپ اور پیپ گارڈیولا نے شاید انگلینڈ میں زیادہ کامیابی دیکھی ہو لیکن ان کی کامیابیوں نے بھی انھیں گھر گھر لیا جانے والا ایسا نام نہیں بنایا جیسا مورینیو کا ہے۔
یقیناً اس کا زیادہ تر سہرا ان کی کامیابیوں کے سر جاتا ہے، جتنا وہ جیتے ہیں اتنا ہی زیادہ وہ فٹ بال کی لینڈ سکیب میں نظر آتے ہیں۔
لیکن ایک طرح سے مورینیو ایک پاپ کلچر کی علامت ہیں جو کہ کسی طرح یرگن کلوپ اور پیپ گارڈیولا نہیں ہیں۔ اور یہاں دیکھیں کہ کیوں۔
وہ اپنی شبیہ کے خود ماسٹر ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMark Leech/Offside
یہ حقیقت ہے کہ مورینیو فٹبال کے سب سے زیادہ مشہور ناموں میں سے ایک ہیں۔
یہ 2004 سے ایسے ہی جب وہ اولڈ ٹریفورڈ کی پچ پر دوڑ کے آئے تھے، مٹھیاں ہوا میں تھیں اور کوٹ کا پچھلا حصہ پیچھے تھرک رہا تھا۔ ان کی ناتجربہ کار ٹیم پورٹو نے مانچیسٹر یونائیٹڈ کو چیمیئنز لیگ سے باہر کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیئے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کی پرانی تصاویر کو دیکھ کر جب وہ بارسیلونا کے اسسٹنٹ کوچ تھے اور ڈھیلا ٹریک سوٹ پہنتے تھے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان کی شبیہ کتنی چمک چکی ہے۔
اس کے بعد انھوں نے اپنی شبیہ کو بہت نفیس طریقے سے پیش کیا ہے، سو کبھی کبھار پہنے جانے والے ٹریننگ ٹاپ کے علاوہ، ان کے بال زیادہ سفید ہو گئے ہیں، جبکہ باقی سب چیزیں تقریباً ویسی ہی ہیں۔
ان کا منفرد انداز

،تصویر کا ذریعہBJORN LARSSON ROSVALL
مورینیو کا ورثہ صرف یہ نہیں کہ وہ کیسا نظر آتے ہیں بلکہ وہ یہ ہے کہ وہ کیا کہتے ہیں۔
پوزے مورینیو جنہیں ’سپیشل ون‘ کہا جاتا ہے لیکن اب وہ کچھ سپیشل نہیں رہے، وہ ٹیم ہارتی ہے جسے وہ کوچ کرتے ہیں۔
انھوں نے کبھی نہیں کہا کہ وہ ’کوئی خاص شخص‘ ہیں۔ بطور چیلسی کے مینیجر کے ان کی پہلی کانفرنس کا مکمل جملہ تھا: ’مہربانی فرما کر مجھے مغرور نہ کہیں، لیکن میں یوروپیئن چیمپیئن ہوں اور میرے خیال میں ایک خاص شخص ہوں۔‘
برطانوی پریس جس کے لیے ایک اچھی لائن بہت کچھ کر سکتی ہے، اسے بہت پسند کرتی تھی۔
بہت سے مینیجر گھسے پسے جملے بولتے رہتے ہیں لیکن مورینیو اپنے جملے خود ایجاد کرتے ہیں۔
اپنی پہلی پریمیئر لیگ گیم میں جب ان کی ٹیم چیلسی کا ٹوٹنہم کلب کے ساتھ میچ صفر صفر سے برابر رہا تو انھوں نے کہا ’وہ بس لے کر آئے اور اسے گول کے سامنے کھڑا کر دیا۔‘
‘ اس کے بعد یہ جملہ ’پارک دا بس‘ زبانِ عام ہو گیا جس کا مطلب تھا کہ صرف میچ میں دفاع کے لیے ہی جانا۔
مورینیو ہمیشہ سے ہی زبان کا استعمال کر کے برے نتائج سے دھیان ہٹاتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ویسٹ ہیم کے خلاف صفر صفر کی بری پرفارمنس کے بعد انھوں نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ’یہ دنیا کی سب سے بہتر لیگ نہیں ہے، یہ 19ویں صدی کا فٹبال ہے۔۔۔ دیوار توڑنے کے لیے میں اگر کوئی دوسری چیز لاسکتا تھا تو وہ بلیک اینڈ ڈیکر (مشین) تھا۔"
اپنی حالیہ جاب کے دوران جیسے جیسے مانچیسٹر یونائیٹڈ کے ساتھ ان کا تعلق خراب ہوتا گیا اور ان کی ٹیم وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہی تھی جس کی ان سے توقع کی جاتی ہے تو انھوں نے اپنی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی ماضی کی کامیابیوں کا ذکر کرنا شروع کر دیا۔
ایک مرتبہ انھوں نے کہا: ’میں نے پریمیئر لیگ کے 19 دیگر مینجروں سے زیادہ پریمیئر لیگز ٹائٹل جیتے ہیں‘۔ انھوں نے ایک بار پھر کہا: ’ میں عظیم ترین فٹبال کلبوں میں سے ایک کا مینیجر ہوں لیکن میں خود دنیا کے بہترین مینجروں میں سے ایک ہوں۔‘
اس کا صرف ایک مطلب تھا کہ انھیں مانچسٹر یونائیٹڈ کی ناکامیوں کا ذمہ دار قرار نہ ٹہرایا جائے اور دیکھیں ان کا اپنا کتنا شاندار ریکارڈ ہے۔
جب انھیں مانچسٹر یونائیٹیڈ سے فارغ کر دیا گیا تو انھوں نے ایک بار کہا تھا:’ میں سمجھتا ہوں کہ میری کیریئر کی ایک بڑی کامیابی پریمیئر لیگ میں دوسری پوزیشن حاصل کرنا تھی۔‘
ہوزے مورینیو کو مانچسٹر یونائٹیڈ سے نکالے جانے کے بعد سے جب بھی مانچسٹر یونائیٹڈّ کے نتائج اچھے نہیں ہوتے تو ہوزے مورینیو کے اس بیان کو دہرایا جاتا ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ مانچسٹر یونایٹیڈ کی ٹیم اتنی بیکار ہے لیکن اس کی پریمیئر لیگ میں دوسری پوزیشن حاصل کرنا مورینیو کی کامیابی تھی
مورینیو کے جذبات

،تصویر کا ذریعہSerena Taylor
کچھ مینجر اپنے جذبات کو چھپانے کے ماہر ہوتے ہیں جیسے آرسنل کلب کے سابق مینیجر آرسنی وینگر۔ نتائج کچھ بھی ہوں لیکن آپ کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ ان کے جذبات کیا ہیں۔ ہوزے مورینیو ایسے نہیں ہیں۔
ہوزے مورینیو کو قدرت نے ایک انتہائی پراظہار چہرہ عطا کیا ہے کہ کچھ بھی چھپ نہیں سکتا۔ جب وہ خوش ہو تے ہیں تو ان کا چہرہ چمک اٹھتا ہے، ناراض ہوں تو بھنویں سکیڑ لیتے ہیں ۔ جب وہ مانچیسٹر یونائٹیڈ کے مینجر تھے اور ان کا ایک ہوٹل میں قیام تھا، تو ہر وقت وہ ناک بھوں چڑھاتے تھے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کا چہرہ تمام جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر آپ کو وٹس ایپ میسج پر کسی کو فوری جواب دینا ہے تو آپ جف فائنڈر پر ان کا چہرہ ڈھونڈیں تو آپ کو یقیناً مطلوبہ چہرہ مل جائے گا۔
وہ ہر سٹوری میں مرکزی کردار ہوتے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پرتگالی فٹبال کلب پورٹو کی 2004 میں چیمپئنز لیگ میں فتح اس ٹورنامنٹ کی تاریخ کا سنہرے باب ہے جب سے اس نے یورپیئن کپ میں چھوٹی ٹیموں کو شامل کیا ہے۔
پورٹو کا تعلق نہ تو یورپ کی پانچ بڑی لیگز سے تھا اور نہ ہی اس کے پاس اتنے اعلی کھلاڑی موجود تھے لیکن اس کے باوجود چیمپیئنز لیگ ٹرافی جیت لینا، معمولی کامیابی نہیں تھی۔ پچھلے برس اسی ٹورنامنٹ کے فائنل میں اٹلی کی مشہور ٹیمیں، یوونٹس اور اے سی میلان نبرد آزما تھیں۔ یوونٹس اور اے سی میلان کی ٹیموں میں جیان لویجی بوفون، ایلسانڈرو ڈیل پیرو، آندرے شیوچینکو، پاولو مالدینی جیسے کھلاڑی شامل تھے جبکہ پورٹو کے پاس کیا تھا، کوسٹینا، منوشی، کارلوس البرٹو اور ڈّرلیائی۔
2004 چیمپئنز لیگ کا موناکو کے خلاف میچ میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کو دنیا بھول چکی ہے لیکن دنیا کو ہوزے مورینیو اب بھی یاد ہے۔ اس فائنل کے روز ہوزے مورینو نے یورپ کے بہترین فٹبال کوچ کا تاج پہنا۔
ہوزے مورینیو بار بار اپنی کہانی بیان کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
مانچسٹر یونائٹیڈ میں اپنے آخری ایام میں جب ہوزے مورینیو کے پال پوگبا سے اختلافات پیدا ہوئے تو اولڈ ٹریفورڈ گراؤنڈ میں ان کی پال پوگبا کو ڈاندنے والی فوٹیج لیک ہوئی۔ کئی لوگوں کو حیرت ہوئی کہ کیمرے والوں کو کیسے معلوم تھا کہ کہ کس موقع پر ریکارڈنگ کرنی ہے۔
جب انھوں نے بطور مانچسٹر یونائیٹڈّ کوچ ٹیم کی پریمیئیر لیگ میں دوسری پوزیشن کو اپنی کیریئر کی سب سے اہم کامیابی قرار دیا اس میں بھی انھوں اپنی جیتی ہوئی پچیس ٹرافیوں کا ذکر کرنا نہیں بھولے۔
ہوزے مورینیو انگلینڈ میں بہت خوش رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ملک میں دوسروں کی نقلیں اتارنے کو بہت پسند کیا جاتا ہے۔ خواہ ہوزے مورینو کو پسند کیا جائے ، اس کی ہوٹنگ ہو، یا ان سے نفرت کی جائے، ہوزے مورینیو توجہ کامرکز ہوتے ہیں۔
ہوزے مورینیو پریس کے ساتھ گیمز کھیلنا پسند کرتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ توجہ چاہتے ہیں اور لوگ انہیں توجہ دیتے ہیں۔







