کرکٹ فکسنگ: انڈیا کی خواتین کرکٹرز سے رابطوں پر بکیز کے خلاف مقدمہ درج

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈین پولیس نے دو بُکیز کے خلاف انڈیا کی قومی ٹیم کی دو خواتین کرکٹرز کو میچ فکس کرنے کے لیے رابطہ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔
یہ مبینہ واقعہ فروری کے مہینے میں انڈیا اور انگلینڈ کی محدود اوورز کی کرکٹ سیریز سے پہلے ہوا۔
پولیس نے بی بی سی ہندی کے عمران قریشی کو بتایا کہ راکیش بفنا اور جتندرا کوٹھاری پر فریب دہی اور سٹے بازی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
مزید پڑھیے
انڈیا کی کھیلوں کی جوابازی کی صنعت دنیا میں سب میں سٹے بازی کی سب سے بڑی صنعتوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔ اس کا حجم 45 سے 150 بلین ڈالر تک ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ان دونوں مبینہ جواریوں نے ایک خاتون کرکٹر سے سپورٹس منیجر کا روپ دھار کر رابطہ کیا۔ امکان ظاہر کیا جاتا ہے کہ خاتون کرکٹر نے بفنا کے ساتھ ہونے والی یہ کال ریکارڈ کر کے انڈیا میں کرکٹ کا انتظام سنبھالنے والے ادارے بی سی سی آئی کو دے دی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ واضح نہیں ہے کہ انھوں نے اس حادثے کے حوالے سے بورڈ کو کب بتایا تاہم بورڈ نے پیر کے روز پولیس کو اس حوالے سے اطلاع دے دی تھی۔
بی سی سی آئی کے ایک اہلکار اجیت سنگھ شیکھاوت نے میڈیا کو بتایا کہ 'جو لوگ سٹے بازی میں ملوث ہوتے ہیں وہ کسی بھی کرکٹ میچ کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ان کے لیے یہ اہم نہیں ہوتا کہ یہ میچ کس سطح پر کھیلا جا رہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ یہ خاتون کرکٹرز پر ویسے ہی اثر انداز ہو سکتے ہیں جیسے مرد کرکٹرز پر ہوتے ہیں اس لیے انھیں بھی اتنا ہی محتاط رہنا چاہیے۔
چند خبروں کے مطابق انڈین کرکٹ ٹیم کے ایک ون ڈے میچ پر 190 ملین ڈالر سے زیادہ کا جوا لگتا ہے۔
انڈیا میں کرکٹ اس سے قبل بھی میچ فکسنگ کے تنازعات کی زد میں رہی ہے۔ انڈیا کے سابق کپتان محمد اظہرالدین کے ملوث ہونے کا بھی انکشاف ہوا تھا۔ جس کے بعد ان پر تاحیات پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
انڈیا کی منافع بخش ٹی ٹوئنٹی لیگ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) بھی فکسنگ کے تنازعات کی زد میں رہی ہے۔
انڈین ججز کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹیاں اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ آئی پی ایل سے منسلک متعدد شخصیات میچ فکسنگ اور غیرقانونی جوابازی میں ملوث رہی ہیں۔ جس کے بعد انڈین ٹیم کے فاسٹ بولر شری شانتھ پر سات برس کی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔









