آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستانی امپائر علیم ڈار نے سب سے زیادہ ٹیسٹ میچوں میں امپائرنگ کرنے کا ریکارڈ برابر کر دیا
پاکستانی امپائر علیم ڈار نے معروف امپائر سٹیو بکنر کا سب سے زیادہ 128 ٹیسٹ میچوں میں امپائرنگ کا ریکارڈ برابر کر دیا ہے۔
پاکستان کے شہر گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے علیم ڈار اس وقت انگلینڈ اور آسٹریلیا کے مابین جاری دوسرے ایشز ٹیسٹ میں اپنے 128ویں میچ میں امپائرنگ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
اس موقع پر آئی سی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے علیم ڈار کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے بہت خوشی کا موقع ہے کیونکہ سٹیو بکنر ایک مثالی امپائر تھے۔
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے کہا کہ ’میں خدا، آئی سی سی، پی سی بی، میرے کوچ اور خاص طور پر اپنی فیملی کا شکر گزار ہوں جن کی وجہ سے میں نے سٹیو بکنر کا ریکارڈ برابر کیا ہے۔‘
علیم ڈار نے 32 برس کی عمر میں گوجرانوالہ میں کھیلے جانے والے پاکستان اور سری لنکا کے ایک روزہ میچ سے اپنے امپائرنگ کریئر کا آغاز کیا تھا۔ ڈھاکہ میں انگلینڈ اور بنگلہ دیش کا میچ بطور امپائر ان کا پہلا ٹیسٹ میچ تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپنے کریئر کے حوالے سے آئی سی سی سے بات کرتے ہوئے علیم ڈار کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ سے ٹیسٹ کرکٹر بننا چاہتے تھے لیکن ان کے والد کی پولیس میں ملازمت کے باعث انھیں مختلف شہروں میں رہنا پڑا اور وہ شروعات میں کرکٹ پر توجہ نہیں دے سکے۔
انھوں نے کہا کہ ’امپائرنگ کے شعبے میں اپنا لوہا منوانے کے لیے کم از کم چھ سال درکار ہوتے ہیں لیکن میں خوش قسمت ہوں کے میں ایک سال کے اندر ہی انٹرنیشنل امپائر بن گیا۔‘
علیم ڈار نے اب تک 206 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں امپائرنگ کی ہے۔ اس طرح وہ جنوبی افریقہ کے روڈی کرٹزن کا 209 ون ڈے انٹرنیشنل میں امپائرنگ کا ریکارڈ توڑنے کے بھی بہت نزدیک آچکے ہیں۔
علیم ڈار نے 2007 اور 2011 کے عالمی کپ کے فائنل میچز میں امپائرنگ کی تھی۔
امپائرنگ کے اسی بلند معیار کی وجہ سے وہ تین بار آئی سی سی کے بہترین امپائر کا ایوارڈ بھی جیت چکے ہیں۔
51 برس کے علیم ڈار پاکستان میں بطور لیگ سپنر اور مڈل آرڈر بلے باز فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل چکے ہیں۔ اپنے مختصر کرکٹ کریئر میں تو علیم ڈار خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے اور 17 فرسٹ کلاس میچوں میں صرف 11 وکٹیں حاصل کیں البتہ انھوں نے امپائرنک میں خوب نام بنایا۔
علیم ڈار 2003 کے ورلڈ کپ سے اب تک مردوں کے تمام آئی سی سی ایونٹس میں امپائرنگ کے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ تاہم حالیہ دو عالمی مقابلوں میں انھیں فائنل میں امپائرنگ کا اعزاز حاصل نہیں ہو سکا۔
2007 کے فائنل میں کم روشنی کے باوجود کھیل جاری رکھنے کے تنازعے کے سبب انھیں اور ان کے دیگر ساتھی امپائرز کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ اس کے بعد ہونے والے پہلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں انھیں امپائرز کے پینل میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔
اسی طرح 2015 کے عالمی کپ کے دو میچوں میں ان کے دو فیصلے تنقید کی زد میں آئے تھے جس کے بعد وہ سیمی فائنل اور فائنل میں امپائرنگ نہیں کرسکے تھے تاہم مجموعی طور پر علیم ڈار کا امپائرنگ کریئر بہت شاندار رہا ہے جس میں ان کے درست فیصلے مثال کے طور پر پیش کیے جاتے رہے ہیں۔