پاکستان کے سنوکر چیمپیئن: ’جہاں مبارکباد کوئی نہیں دیتا وہاں روزگار کون دے گا‘

بابر مسیح اور ذوالفقار قادر

،تصویر کا ذریعہZULFIQAR QADIR

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

پاکستان سمیت پورے برصغیر میں اس وقت کرکٹ ورلڈ کپ کا بخار سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ کرکٹ ورلڈ کپ کے شور شرابے میں سنوکر کے میدان میں پاکستان کی انڈیا کی تجربہ کار ٹیم کے خلاف دو بین الاقوامی کامیابیاں دب کر رہ گئی ہیں۔

قطر کے دارالحکومت دوحا میں گذشتہ چند دنوں کے دوران پاکستان نے پہلے ایشیئن چیمپیئن اور پھر انٹرنیشنل بلیئرڈ اینڈ سنوکر فیڈریشن (آئی بی ایس ایف) ورلڈ ٹیم مقابلوں میں انڈیا سے دفاعی چیمپیئن کا اعزاز چھین لیا ہے۔

ایشیئن چیمپیئن شپ میں پاکستانی سنوکر کھلاڑیوں بابر مسیح اور ذوالفقار قادر نے انڈین کھلاڑیوں پنکچ ایڈوانی اور لکشمن راوت سے جبکہ آئی ایف بی ایس ایف ورلڈ ٹیم مقابلوں میں محمد بلال اور اسجد اقبال نے انڈیا ہی کے انھی دونوں کھلاڑیوں کے خلاف فتح حاصل کی۔

ایشیئن چمپئین شپ میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان انتہائی سخت مقابلہ ہوا جو پاکستان نے تین کے مقابلے میں دو سے جیتا۔ فائنل میچ میں پاکستان کے نمبر پانچ کھلاڑی بابر مسیح ہیرو بن کر ابھرے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایشیئن چیمپیئن شپ کے فائنل میچ میں پاکستانی کھلاڑی ذوالفقار قادر اور بابر مسیح نے پہلے اپنے دونوں سنگل مقابلوں میں کامیابی حاصل کی مگر اس کے بعد انڈیا کی ٹیم نے کم بیک کیا جس میں انھوں نے ڈبل اور پھر چوتھے فریم میں ذوالفقار قادر کے خلاف کامیابی حاصل کی۔

پانچویں اور آخری فریم میں بابر مسیح نے اپنے حریف سے ایک سخت مقابلے کے بعد کامیابی حاصل کی اور فائنل مقابلے میں ناقابل شکست رہ کر پاکستان کو ایشیئن چیمپیئن کا اعزاز دلایا۔

ایف بی ایس ایف ورلڈ ٹائٹل کا فائنل مقابلہ یک طرفہ رہا جس میں پاکستان کے نمبر ایک کیوئسٹ محمد بلال اور نمبر دو اسجد اقبال نے تین کے مقابلے میں ایک کے سکور سے کامیابی حاصل کی۔

ایشیئن چیمپیئن شپ اور آئی بی ایس ایف مقابلوں کے فاتح پاکستانی کھلاڑیوں نے ٹائٹل جیتنے کے بعد خوشی کا اظہار کیا ہے۔

ذوالفقار قادر

،تصویر کا ذریعہZULFIQAR BABER

ایشیئن چیمپیئن شپ کے فاتح کھلاڑی بابر مسیح کا کہنا تھا ’انڈیا جیسی تجربہ کار ٹیم کو ہرانا یقینی طور پر بہت بڑے اعزاز کی بات ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ ہمارے پاس صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔‘

اگر ہماری حکومت اور میڈیا کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیلوں پر بھی توجہ دیے تو ان کے کھلاڑی بھی پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کرسکتے ہیں۔

ذوالفقار قادر کا کہنا تھا ’ہمارے فائنل سے قبل کرکٹ کے عالمی کپ میں انڈیا نے پاکستان کو کرکٹ ورلڈ کپ میں شکست دی تھی۔ جب ہم لوگوں تک یہ اطلاع پہنچی تو بڑی مایوسی ہوئی۔ میرے ساتھی کھلاڑی بابر مسیح نے مجھ سے کہا تھا کہ کچھ ہو جائے ہم سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے مگر انڈیا کو ایشیئن چیمپیئن شپ کا فائنل نہیں جیتنے دیں گے۔‘

اور پھر ایسے ہی ہوا، فیصلہ کن فریم کے اندر بابر مسیح نے انتہائی شاندار کھیل کا مظاہرہ کر کے پاکستان کو فتح دلا دی۔

انھوں نے مزید کہا ’ہم نے ایشیئن چیمپیئن شپ جیتی ہے اور اس کے بعد محمد بلال اور اسجد اقبال نے عالمی ٹائٹل بھی پاکستان کے نام کیا ہے مگر ایک آدھ حکومتی عہدیدار نے ٹوئٹر پر مبارک دینے کے علاوہ ہمیں فون کر کے ہماری حوصلہ افزائی کرنے کا تکلف بھی گوارہ نہیں کیا ہے۔

’لگتا ہے کہ حکومت کے لیے کھیل صرف کرکٹ اور کھلاڑی صرف کرکٹ کے ہی ہیں باقی کوئی بھی عالمی اعزاز جیت لے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور نہ ہی کھلاڑیوں کو کوئی عزت دی جاتی ہے۔ جس سے بہت مایوسی ہوتی ہے۔‘

دوحا مقابلوں میں شرکت کے لیے فنڈز نہیں تھے

دوحا میں منعقدہ بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے لیے پاکستان بلیئرڈ اینڈ سنوکر فیڈریشن کے پاس فنڈز موجود نہیں تھے۔ جس کے بعد مخیر لوگوں نے مدد کی اور اس کے علاوہ کھلاڑیوں نے خود قرض لے کر ٹورنامنٹ میں شرکت کے انتظامات کیے۔

پاکستان بلیئرڈ اینڈ سنوکر فیڈریشن کے صدر منور حسین شیخ نے بتایا کہ زیادہ مسئلہ رواں سال ہی پیش آیا ہے جب کھلاڑیوں نے شرکت کرنی تھی تو اس وقت فنڈز موجود نہیں تھے جس پر فوری طور پر ملک کے کچھ مخیر حضرات سے رابطے کیے گیے اور انھوں نے ہمیں کچھ انتظامات کر کے دیے۔ اسی طرح کھلاڑیوں نے بھی اپنے بل بوتے پر انتطامات کیے ہیں مگر بعد میں ہمیں کچھ فنڈز بھی مل گئے۔

بابر مسیح اور ذوالفقار قادر

،تصویر کا ذریعہZULFIQAR BABER

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے لیے جو ممکن ہو مدد کرتی رہتی ہے مگر پرائیوٹ سیکٹر میں بہت کم مدد ملتی ہے۔ ملکی ٹورنامنٹ کے لیے تو سپانسر شپ مل جاتی ہے مگر جب کھلاڑیوں نے بیرون ملک ٹورنامنٹ میں شرکت کرنی ہو تو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

منور حسین شیخ کا کہنا تھا ’کھلاڑیوں کو حکومتی محکموں میں کچھ ملازمتیں تو ملی ہیں مگر اب مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ٹاپ ٹونٹی کھلاڑیوں میں سے اکثریت کے پاس ملازمتیں نہیں ہیں۔ شاید حکومتی سطح پر تو اتنے لوگوں کو ملازمتیں فراہم کرنا ممکن نہ ہو جس کے لیے ہم پرائیوٹ سیکڑ کی جانب دیکھ رہے ہیں امید ہے کہ آنے والے دونوں میں کوئی بہتری کے اثرات پیدا ہو جائیں گے۔ ‘

ان کا کہنا تھا کہ سنوکر کے کھیل میں درپیش ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس میں زیادہ تر غریب علاقوں کے کھلاڑی ابھر کر سامنے آتے ہیں اور اگر ان کو مناسب مدد نہ ملے تو پھر ان کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

چیمپیئن تو ہیں مگر باعزت روزگار نہیں ہے

ذوالفقار قادر نے بتایا کہ انھیں بچپن ہی سے سنوکر کا جنون ہے۔ ’میں نے معاشی وسائل نہ ہونے کے باعث پانچویں جماعت سے سکول چھوڑ کر ملازمت کی۔ میری پہلی ملازمت سنوکر کلب میں تھی۔ جہاں میں کلب کی صفائی کرتا اور کھیلنے آنے والوں کا ٹائم نوٹ کرتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس ہی کلب میں پریکٹس شروع کی، کئی مقابلوں میں حصہ لیا، پہلے کراچی اور پھر ملکی سطح پر نام کمایا۔

ذوالفقار قادر کے مطابق والد کے انتقال کے بعد گھریلو معاشی حالات کے پیش نظر ضروری تھا کہ وہ کوئی ڈھنگ کی ملازمت کریں جس کی وجہ سے انھوں نے سنوکر کو خیرباد کہہ دیا اور ایک نجی کمپنی میں ملازمت کر لی۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’میں پانچ سال تک سنوکر سے دور رہا۔ اس دوران جب چھوٹے بہن بھائیوں نے پڑھ لکھ کر ملازمتیں حاصل کر لیں تو پھر میرے اندر کا جنون دوبارہ جاگا اور جب والدہ سے اجازت طلب کی تو انھوں نے مجھے اجازت دے دی کہ میں اپنا شوق پورا کر سکتا ہوں۔‘

ذوالفقار قادر نے بتایا ’والدہ سے سنوکر کھیلنے کی اجازت ملنے کے بعد میں نے ملازمت چھوڑ کر طارق روڈ پر واقع ایک مشہور زمانہ سنوکر کلب میں ملازمت کی جہاں پر 20 ہزار تنخواہ ملتی ہے جبکہ پاکستان کا نمبر تھری کیوسٹ ہونے کے ناطے سات ہزار روپیہ ماہوار وظیفہ ملتا ہے اور یوں کل ملا کر 27 ہزار روپیہ میری آمدن ہے جس میں نہ صرف یہ کہ گھر کا خرچہ چلاتا ہوں بلکہ سنوکر بھی کھیل رہا ہوں۔ ‘

ان کا کہنا تھا کہ ہم کئی مرتبہ بین الاقوامی ٹورنامنٹ جیت کر آئے مگر کم ہی ایسے مواقع ہوئے ہیں جب ہمیں کسی اعلیٰ عہدیدار نے مبارکباد دی ہو اب خود اندازہ کر لیں کہ جہاں مبارک باد نہیں ملتی وہاں پر ہمیں ملازمت کون دے گا؟

بابر مسیح کا کہنا تھا ’میں نے ایک غریب خاندان میں آنکھ کھولی۔ بچپن ہی میں تعلیم کے ساتھ ملازمت کرتا تھا۔ سنوکر کا جنون تھا اور اسی دوران راولپنڈی میں ایک سنوکر کلب میں ملازمت مل گئی جس کی وجہ سے پریکٹس وغیرہ کا مسئلہ تو نہیں ہوتا تاہم میری آمدن کوئی 30 ہزار روپے ہے اب خود دیکھ لیں اس 30 ہزار میں خاندان کو بھی پالنا ہے اور اپنا شوق بھی پورا کرنا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کو ووٹ درحقیقت کھلاڑیوں اور کھیلوں سے محبت کرنے والوں نے دیے ہیں۔ ان کی آمد سے توقع ہے کہ شاید کچھ بہتری پیدا ہو جائے مگر ابھی تک ایسا نہیں ہوا ہے۔

بابر مسیح نے بتایا ’اپنے ملک کے لیے 15 کے قریب بین الاقوامی اعزاز حاصل کیے مگر میرے لیے کوئی مناسب ملازمت موجود نہیں ہے۔ ‘