کرکٹ ورلڈ کپ 2019: سری لنکا کی ویسٹ انڈیز پر 23 رنز سے فتح

کرکٹ کے 12ویں عالمی کپ کے 39ویں میچ میں سری لنکا نے ویسٹ انڈیز کو چیسٹرلی سٹریٹ میں 23 رنز سے شکست دے کر ٹورنامنٹ میں تیسری کامیابی حاصل کر لی ہے۔

میچ میں کیا ہوا؟

ویسٹ انڈیز کے کپتان جیسن ہولڈر نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کرنے کا فیصلہ کیا تو سری لنکن اوپنرز نے 93 رنز کی مضبوط شراکت قائم کی۔ اس کے بعد نوجوان بلے باز اوشکا فرنینڈو نے شاندار سنچری بنا کر سری لنکا کی بڑے ٹوٹل تک رسائی یقینی بنائی۔ انھوں نے 103 گیندوں پر 104 رنز بنائے۔

سری لنکا نے مقررہ پچاس اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 338 رنز بنائے ہیں۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے جیسن ہولڈر نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

جواب میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم نو وکٹوں کے نقصان پر 315 رنز ہی بنا سکی۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے نکولس پورن نے 103 گیندوں پر 115 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ سری لنکا کی جانب سے لاستھ ملنگا نے سب سے زیادہ تین وکٹیں حاصل کیں۔

یہ میچ اسی میدان پر کھیلا جا رہا تھا جہاں تین جولائی کو نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے مابین ایک اہم میچ کھیلا جائے گا۔

میچ کے بہترین بلے باز

اس ورلڈ کپ میں نوجوان بلے بازوں نے بھی اپنا لوہا منوایا ہے۔ پاکستان کے بابر اعظم اور آسٹریلیا کے ایلیکس کیری جیسے بلے بازوں نے عمدہ کھیل پیش کر کے اپنی ٹیموں کو یقینی شکست سے بچایا ہے۔

آج بھی کچھ ایسا ہی ہوا جب سری لنکا کے اوشکا فرنینڈو نے 104 رنز کی خوبصورت اننگز کھیلی اور سری لنکا کی اننگز کو دہرے نقصان کے بعد سنبھالا دیا۔ فرنینڈو کی خوبصورت بات ان کی ٹائمنگ ہے اور وہ شارٹ گیندوں کو بہت اچھا کھیلتے ہیں۔ ان کی اننگز میں 9 چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔

دوسری جانب ویسٹ انڈیز کے نکولس پورن تھے جنھوں نے ایک ناقابلِ یقین اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو فتح کے قریب پہنچا دیا تھا لیکن آخر میں ان کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں بچا۔

پورن ایک ایسے موقع پر کریز پر آئے جب ویسٹ انڈیز کے تین کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے۔ ایسے میں انھوں نے 11 چوکوں اور چار چھکوں کی مدد سے 118 رنز بنائے۔ ان کی اننگز کی خاص بات ان کی زہانت تھی۔ پورن کے ساتھ موجود فیبیئن ایلین اگر رن آؤٹ نہ ہوتے تو شاید اس میچ کی کہانی یکسر مختلف ہوتی۔

اس ٹورنامنٹ میں دونوں ٹیموں کی کارکردگی

دونوں ٹیمیں اس ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہیں جس کے باعث یہ میچ کسی اور ٹیم کے لیے بھی کوئی معنی نہیں رکھتا۔

اس ٹورنامنٹ میں دونوں ٹیموں کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ ویسٹ انڈیز نے اس ٹورنامنٹ کا آغاز تو بہت اچھا کیا تھا لیکن وہ اس کے بعد کوئی بھی میچ نہیں جیت پائے۔

دوسری جانب سری لنکا نے انگلینڈ کو ہرا کر تو ٹورنامنٹ کا بڑا اپ سیٹ کیا، لیکن وہ بھی افغانستان سے کامیابی کے علاوہ خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا پائے۔

دونوں ٹیموں کی بنیادی کمزوری ان کی بیٹنگ ہے۔ اس ٹورنامنٹ میں جہاں بلے بازوں نے 500 سے زائد رنز بنائے ہیں، وہاں ویسٹ انڈیز کے نکولس پورن نے سب سے زیادہ 309 اور سری لنکا کے کسال پریرا نے صرف 255 رنز بنائے ہیں۔