سمیع چوہدری کا کالم: ’بھلا ہوا کہ سرفراز ٹاس نہیں جیتے‘

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

حالیہ ورلڈ کپ میں انگلش وکٹیں اس اعتبار سے ایک الجھن سی رہی ہیں کہ اگر کسی نے بارش یا ابر آلود مطلع دیکھ کر بولنگ کا فیصلہ کر بھی لیا تو کچھ ہی دیر بعد وکٹ بیٹنگ کے لئے سازگار دکھائی دینے لگی۔

نیوزی لینڈ کے خلاف سرفراز بھی اسی مخمصے کا شکار تھے۔

وہ بھی ٹاس جیتنا چاہتے تھے کہ پہلے بیٹنگ کریں مگر قسمت سرفراز سے زیادہ بہتر نکلی کہ ٹاس ہار گئے اور پہلے بولنگ کی ذمہ داری مل گئی۔

سمیع چوہدری کے مزید کالم پڑھیے

محمد عامر اس ورلڈ کپ کے چنندہ بولرز میں سے ہیں۔ آخری لمحے ان کی شمولیت اس بات کی غمازی کر رہی تھی کہ کچھ خاص ہی پلان چل رہا ہے۔ اور واقعی وہ پلان اب نظر بھی آ رہا ہے۔

اس قدر کامیابی کے باوجود یہ تو واضح ہے کہ اب یہ وہ عامر نہیں رہے جو ڈیبو کے اوائل برس میں تھے۔

اب وہ تیزی اور پُھرتی ختم ہو چکی ہے۔ اب کوئی ’بنانا سوئنگ‘ نہیں ہوتی، اب کوئی بھی گیند اچانک وکٹ سے سیم ہو کر بلے باز پہ جھپٹ نہیں پڑتی۔

اب محمد عامر اپنے تجربے کے بل پہ کھیل رہے ہیں۔ اس وقت ان کی وہ کیفیت ہے جو ریٹائرمنٹ سے دو سال پہلے کے شون پولک کی تھی، نپے تلے رن اپ کے ساتھ، پیس مکس کر کے، اچھی لینتھ پہ سٹمپس کے اندر گیند کرنا۔

یہ سٹریٹیجی جس طرح سنہ 2006 میں پولک کے لیے کارگر ثابت ہوئی تھی، بعینہٖ عامر کے لئے بھی سُود مند ثابت ہو رہی ہے۔

لیکن عامر سے بھی زیادہ جس بولر سے شائقین کی توقعات وابستہ تھیں، وہ تھے شاہین شاہ آفریدی۔ اس ٹورنامنٹ کے کم عمر ترین کھلاڑیوں میں سے ایک، طویل قامت فاسٹ بولر اور اس پر لیفٹ آرم بھی۔

مگر کل کے میچ تک شاہین شاہ آفریدی خاموش تھے۔

اور عین ممکن ہے کہ اگر پاکستان پہلے بیٹنگ کر لیتا اور اسی وکٹ پہ دوسری اننگز میں یہی شاہین آفریدی بولنگ کر رہے ہوتے تو شاید اعداد و شمار ایسے حیران کن نہ ہوتے۔

کیونکہ ولیمسن وہ بلے باز ہیں کہ جب کریز پر موجود ہوں تو بِلادقت سکور بورڈ چلتا رہتا ہے لیکن شاہین شاہ آفریدی نے یہ ممکن کر دکھایا کہ ولیمسن کی موجودگی میں بھی سکور بورڈ کو روکا جا سکتا ہے۔

اس میچ سے پہلے بھی شاہین شاہ آفریدی بری بولنگ نہیں کر رہے تھے لیکن جس چیز کی کمی تھی، وہ تھی ’کاٹ‘۔ ان کا گیند اچانک بلے باز پہ لپک نہیں رہا تھا۔

ایجبیسٹن کی اس وکٹ اور ٹاس کی ہار نے شاہین آفریدی کو وہ کاٹ واپس دلا دی۔ ولیمسن محض اسی لیے ڈرے ہوئے تھے کہ استعمال شدہ وکٹ پر دوسری اننگز میں پاکستانی سپنرز کا سامنا کرنا مشکل ہو گا۔

لیکن ولیمسن یہ نظر انداز کر گئے کہ اس بارش زدہ آؤٹ فیلڈ اور استعمال شدہ وکٹ پر کوئی بھی طویل قامت فاسٹ بولر دوسری اننگز کے سپنر سے کہیں زیادہ بھاری پڑ سکتا ہے اور پھر واقعی شاہین شاہ آفریدی بھاری پڑ گئے۔

شاہین آفریدی نے اس وکٹ کی نبض کو بھی بھانپ لیا اور میچ کے مومینٹم کو بھی توڑ ڈالا۔ اور ان کی کراس سیم گیندوں نے یہ کرشمہ کیا کہ بانوے کے ورلڈ کپ سے مماثلتیں ڈھونڈنے کو ایک اور دن بھی مل گیا۔