کیا سرفراز احمد کو آرام دینا بہت ضروری تھا؟

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کو آسٹریلیا کے خلاف متحدہ عرب امارات میں ہونے والی ون ڈے سیریز میں آرام دینے کا فیصلہ اس وقت کرکٹ کے حلقوں میں سب سے زیادہ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔

پاکستان سپر لیگ کے دوران یہ بات سامنے آ چکی تھی کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ورلڈ کپ سے قبل اپنے کچھ کھلاڑیوں کو آرام دینا چاہتا ہے جن میں کپتان سرفراز احمد کا نام بھی شامل تھا اور جمعے کو چیف سلیکٹر انضمام الحق نے اس بارے میں اعلان بھی کر دیا۔

سرفراز احمد سمیت چھ کرکٹرز کو آرام دینے کے فیصلے کے بارے میں انضمام الحق اگرچہ یہ کہہ چکے ہیں کہ اس کا مقصد ان کرکٹرز کو ورلڈ کپ کے لیے مکمل تازہ دم رکھنا ہے لیکن پاکستانی کرکٹ کی روایتی سیاست کو ذہن میں رکھتے ہوئے کچھ حلقے یہ خیال ظاہر کر رہے ہیں کہ کہیں یہ ماضی کی طرح کا کپتانی کا میوزیکل چیئر گیم تو نہیں۔؟ کہیں یہ آرام کے نام پر جبری رخصت پر بھیجنے کا معاملہ تو نہیں۔؟

یہ بھی پڑھیے

کرکٹ کے حلقوں میں سب سے زیادہ حیرانی اس بات پر ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے سرفراز احمد کو آرام دے کر کپتانی ایک بار پھر شعیب ملک کے سپرد کردی ہے جن کا اپنا بین الاقوامی کریئر زیادہ آگے جاتا ہوا نظر نہیں آتا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے کسی ایسے کرکٹر کو یہ ذمہ داری سونپنے کی زحمت نہیں کی جو سرفراز احمد کے ٹیم میں واپس آنے کے بعد نائب کپتان کے طور پر کپتانی کے ُ گر‘ سیکھتا رہتا۔

شعیب ملک کو جنوبی افریقہ میں سرفراز احمد پر عائد پابندی کے بعد بھی کپتانی سونپی گئی تھی لیکن ان کی کپتانی میں پاکستان ٹی ٹوئنٹی سیریز ہار گیا تھا۔ میدان میں ان کے بعض فیصلے اورخود ان کی اپنی بیٹنگ فارم بھی سوالیہ نشان تھی۔

شعیب ملک ایشیا کپ میں افغانستان اور انڈیا کے خلاف نصف سنچریوں کے بعد سے اب تک آٹھ ون ڈے میچوں میں کوئی نصف سنچری نہیں بنا سکے ہیں۔

شعیب ملک پاکستان سپرلیگ میں بھی ملتان سلطانز کی قیادت کرتے ہوئے نو میچوں میں دو نصف سنچریاں بنانے میں کامیاب رہے تاہم ان کی ٹیم پلے آف مرحلے میں پہنچنے میں ناکام رہی۔

اس بارے میں دو رائے نہیں کہ سرفراز احمد پچھلے کئی ماہ سے تینوں فارمیٹس میں مستقل کھیلتے آئے ہیں لیکن جنوبی افریقہ کے دورے میں چار میچوں کی پابندی نے انھیں کچھ آرام کا موقع ضرور فراہم کر دیا تھا اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی بہت آسانی سے آسٹریلیا کے خلاف انھیں دو یا تین میچوں میں آرام دے کر بقیہ میچوں میں کھلاسکتی تھی تاکہ وہ ورلڈ کپ کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی ترتیب دے سکتے۔

سلیکشن کمیٹی نے کھلاڑیوں کو آرام دینے میں یقیناً دیر کردی ہے۔ یہ آرام جنوبی افریقہ کے دورے میں بھی ہو سکتا تھا اور پاکستان سپر لیگ میں بھی۔

انضمام الحق یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ کھلاڑیوں کو یہ آرام جنوبی افریقہ کے دورے میں دیا جا سکتا تھا۔

ان کے بقول جنوبی افریقہ کی سخت کنڈیشنز میں وہ اپنے کھلاڑیوں کو سخت حریف کے خلاف کھلا کر مضبوط کرنا چاہتے تھے۔

سلیکشن کمیٹی نے ایشیا کپ میں ہی فخرزمان کی فارم اور فٹنس دیکھ لی تھی اس کے باوجود انھیں آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ کیپ دی گئی اور پھر پوری طرح فٹ نہ ہونے کے باوجود وہ جنوبی افریقہ کے دورے میں بھی کھیلتے رہے۔

محمد عباس کندھے کی تکلیف کے باوجود جنوبی افریقہ کے دورے میں ٹیم کے ساتھ ساتھ رہے۔ شاداب خان بھی مکمل فٹ نہ ہونے کے باوجود ٹیم کا حصہ بنے رہے۔

شاہین شاہ آفریدی کو گذشتہ پی ایس ایل کی پرفارمنس کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ میں لایا گیا تھا۔ انھیں مختصر سے عرصے میں ایک کے بعد ایک تینوں فارمیٹس میں کھلایا گیا جس کی وجہ سے اب وہ فٹنس مسائل سے دوچار ہو کر پی ایس ایل کے پورے میچ بھی نہیں کھیل پائے ہیں۔

اگر جنوبی افریقہ کے دورے میں کچھ کرکٹرز کو آرام نہیں دیا جا سکتا تھا تو پاکستان کرکٹ بورڈ سپر لیگ میں آرام دینے کی پالیسی پر کسی حد تک فرنچائز مالکان کو مجبور کر سکتا تھا خاص کر ایسے وقت میں جب یہ ورلڈ کپ کا سال ہے جس کی اہمیت پی ایس ایل سے کہیں زیادہ ہے۔

آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے ٹیم کے انتخاب میں بھی کئی حیرانیاں موجود ہیں۔

وکٹ کیپر محمد رضوان کے بارے میں انضمام الحق کا کہنا ہے کہ انھوں نے انگلینڈ لائنز اور نیوزی لینڈ اے کے خلاف اچھی کارکردگی دکھائی ہے لیکن انٹرنیشنل کرکٹ میں محمد رضوان مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔

وہ کسی بھی موقع پر اپنی سلیکشن درست ثابت نہیں کر سکے یہاں تک کہ پی ایس ایل میں بھی ان کی طرف سے کوئی قابل ذکر کارکردگی سامنے نہیں آ سکی ہے تو پھر سلیکٹرز ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے والے دوسرے وکٹ کیپرز پر نظر کیوں نہیں ڈالتے۔؟

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے فاسٹ بولر محمد حسنین کی سلیکشن سب سے حیران کن اس لیے ہے کہ انھیں صرف ان کی تیز رفتاری دیکھ کر ٹیم میں شامل کیا گیا ہے حالانکہ وہ صرف دو فرسٹ کلاس میچ ہی کھیلے ہیں۔

وہ پاکستان انڈر 19 ٹیم کے بولر رہے ہیں۔ بہتر ہوتا انھیں پہلے پاکستان اے کی طرف سے کھیلنے کا موقع دیا جاتا اور پھر انٹرنیشنل کرکٹ میں لایا جاتا۔