آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ہاکی ورلڈ کپ: ’ہاکی صرف ہاری نہیں بلکہ برباد ہو گئی ہے‘
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
ہاکی ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی انتہائی مایوس کن کارکردگی کو سابق اولمپیئنز پاکستان ہاکی فیڈریشن کی ناقص منصوبہ بندی اور دوست نواز پالیسی کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستانی ہاکی ٹیم انڈیا میں ہونے والے ورلڈ کپ میں ایک بھی میچ جیتنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ گروپ میچوں میں اسے جرمنی اور ہالینڈ کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ملائشیا کے خلاف اس کا میچ برابر رہا۔
پاکستانی ٹیم کو اپنے گروپ میں تیسرے نمبر پر آنے کی وجہ سے کراس اوور مرحلے میں کھیلنے کا موقع ملا جہاں اسے بیلجیم نے شکست دے دی۔ اس طرح پاکستانی ٹیم نے 16 ٹیموں کے اس عالمی مقابلے میں 12 ویں پوزیشن حاصل کی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
غور طلب بات یہ ہے کہ پاکستانی ٹیم سنہ 2014 کے عالمی کپ میں کوالیفائی نہیں کرسکی تھی اور سنہ 2010 میں انڈیا ہی میں منعقدہ عالمی کپ میں بھی اس کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی تھی اور وہ 12 ٹیموں میں سب سے آخری نمبر پر آئی تھی۔
سابق اولمپین سمیع اللہ کا پاکستانی ٹیم کی موجودہ کارکردگی پر کہنا ہے کہ حکومتیں ہر دور میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کو پیسے دیتی رہی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے کیا منصوبہ بندی کی؟
سمیع اللہ سنہ 1982 میں انڈیا میں ہونے والے عالمی کپ کی فاتح پاکستانی ٹیم کا حصہ تھے اور اسی سال ان کی قیادت میں پاکستانی ہاکی ٹیم نے ایشین گیمز جیتا تھا۔
سمیع اللہ کے خیال میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی اس افراتفری کا نتیجہ ہے جو پاکستان ہاکی فیڈریشن نے مچائی۔ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ ورلڈ کپ سے قبل جیت کے بلند بانگ دعوے کیے گئے حالانکہ حقیقت سب کو پتہ تھی کہ اس ٹیم کی عالمی رینکنگ 13ویں ہے تو پھر نتیجہ بھی یہی آنا تھا۔
سمیع اللہ کا کہنا ہے کہ فیڈریشن تحقیقاتی کمیشن قائم کرکے اپنی ناکامی پر پردہ ڈال رہی ہے اور جو سابق اولمپینز اس کمیشن میں شامل کیے گئے ہیں دراصل وہ فیڈریشن کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔
سابق اولمپین نوید عالم کہتے ہیں کہ ان چار برسوں میں پاکستان کی ہاکی صرف ہاری نہیں ہے بلکہ برباد ہو گئی ہے اور اس کی ذمہ دار پاکستان ہاکی فیڈریشن ہے۔
نوید عالم کا کہنا ہے کہ چار سال میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کو ایک سو ایک کروڑ روپے ملے لیکن وہ ایک بہترین ٹیم تشکیل دینے میں مکمل ناکام رہی۔ وہ ایک کے بعد ایک ٹیم منیجمنٹ تبدیل کرتی رہی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ورلڈ کپ جیسے ایونٹ میں پاکستانی ٹیم کے پاس ایک بھی پروفیشنل کوچ نہیں تھا۔
نوید عالم کا کہنا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ماضی کے تلخ تجربات سے سبق نہیں سیکھا۔ سنہ 2010 کے عالمی کپ میں حسن سردار چیف سلیکٹر تھے اور پاکستانی ٹیم 12 ویں نمبر پر آئی اور اب وہ منیجر تھے اور ٹیم کی پوزیشن وہی 12 ویں رہی۔
نوید عالم نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے ٹیم کی خراب کارکردگی پر کمیشن قائم کیے جانے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں پر شکست کا ملبہ گرا کر فیڈریشن خود بچنا چاہتی ہے۔ ورلڈ کپ سے پہلے کھلاڑیوں کو کتنی ٹریننگ فراہم کی گئی ؟ انھیں تو کبھی شو بزنس کی شخصیات سے ملوایا جاتا رہا کبھی ڈنر کیے جاتے رہے۔
سنہ 2010 میں ایشین گیمز جیتنے والی پاکستانی ہاکی ٹیم کے گول کیپر سلمان اکبر کا کہنا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو یہ بات معلوم تھی کہ پچھلے ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کوالیفائی نہیں کرسکی تھی لہذا ایک ٹارگیٹ مقرر کرنے اور بھرپور تیاری کی ضرورت تھی لیکن سیاسی اثر و رسوخ، پسند ناپسند اور بار بار ٹیم منیجمنٹ کی تبدیلی کے سبب ٹیم کو تیاری نہ مل سکی۔
سلمان اکبر کا کہنا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے جونیئر ہاکی کے بارے میں بلند بانگ دعوے کیے لیکن کہاں گیا وہ بیک اپ اور جونیئر کھلاڑی؟ سلمان اکبر کہتے ہیں کہ پاکستان ہاکی کو رولینٹ آلٹمینز کی شکل میں اچھا کوچ ملا تھا لیکن انھوں نے بھی ہاکی کے غیر پیشہ ورانہ انداز کو دیکھ کر کنارہ کشی اختیار کر لی۔ پاکستانی ہاکی کو اس وقت ان کوچز کی ضرورت ہے جو عصر حاضر کی ہاکی کھیل چکے ہیں۔ اس وقت بھی ایسے کئی کوچز ہیں جو بیرون ملک کوچنگ کر رہے ہیں ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔