حفیظ نے آخری ون ڈے کھیلنے سے خود انکار کیا تھا: انضمام الحق

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
محمد حفیظ کے بارے میں صرف ایک ہفتے پہلے تک کون یہ کہہ سکتا تھا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم سے باہر ہونے کے بعد سلیکٹرز کو ان کی اس انداز سے یاد آئے گی کہ وہ 17 رکنی ٹیم کا اعلان کرنے کے بعد بھی انھیں دبئی کی فلائٹ پر سوار کرانے کی ٹھان لیں گے۔
کچھ نے اس فیصلے کو سلیکٹرز کا ’یو ٹرن‘ کہا اور کسی نے اسے محمد حفیظ کی ٹیم کے لیے افادیت کی نظر سے دیکھا لیکن جو بھی ہوا محمد حفیظ کو بین الاقوامی کریئر دوبارہ شروع کرنے کا ایک اور موقع مل گیا ہے۔
محمد حفیظ کے بارے میں چیف سلیکٹر اور کوچ کے بیانات میڈیا کی حد تک ایک جیسے ہیں کہ ان کا کریئر ختم نہیں ہوا اور کسی بھی کرکٹر پر دروازے بند نہیں کیے گئے ہیں۔
محمد حفیظ کو آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے ٹیم میں شامل کرنے سے صرف دو روز پہلے دبئی میں چیف سلیکٹر انضمام الحق سے جب میں نے پوچھا کہ کیا محمد حفیظ کا کریئر ختم ہو گیا ہے تو انھوں نے اس کا جواب نفی میں دیا تھا۔
’ہم نے ورلڈ کپ کو ذہن میں رکھ کر 20 کھلاڑیوں کا جو پول تشکیل دیا ہے اس میں محمد حفیظ بھی شامل ہیں۔ بحیثیت چیف سلیکٹر میں کسی بھی کرکٹر کو یہ نہیں کہہ سکتا ہوں کہ تمہارا کریئر ختم ہو گیا ہے۔ یہ فیصلہ خود کرکٹر کو کرنا ہے۔ محمد حفیظ سینئیر کرکٹر ہیں انھیں خود پتہ ہے کہ انھیں کس وقت جانا ہے لیکن ہم اب بھی سلیکشن کے لیے ان کے نام پر غور کرتے ہیں اور ہمیں جب بھی ضرورت پڑے گی انھیں موقع دیں گے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہEmpics
انضمام الحق سے میں نے پوچھا تھا کہ اگر محمد حفیظ واقعی سلیکشن کمیٹی کے زیرغور ہیں تو پھر زمبابوے کے دورے میں انھیں پانچ میں سے کسی ایک ون ڈے میں موقع کیوں نہیں دیا گیا؟ جس پر انضمام الحق کا جواب تھا کہ اس کا سبب اس دورے میں فخر زمان اور امام الحق کی شاندار کارکردگی اور خود محمد حفیظ کا انکار تھا۔
’زمبابوے کے دورے سے قبل محمد حفیظ نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ ساری زندگی اوپنر کھیلتے آئے ہیں لہذا وہ اس دورے میں اوپنر کی حیثیت سے کھیلنا چاہتے ہیں جس پر میں نے کوچ مکی آرتھر سے کہا کہ آپ محمد حفیظ کو اوپنر کھلائیں اور وہ بھی فرسٹ چوائس کے طور پر۔ محمد حفیظ کو اس دورے میں دو ٹی ٹوئنٹی میچوں میں موقع دیا گیا لیکن بد قسمتی سے ان سے رنز نہیں ہوئے۔ دوسری جانب فخر زمان اور امام الحق نے ون ڈے سیریز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ سیریز جیتنے کے بعد ہم نے سوچا کہ محمد حفیظ کو آخری ون ڈے انٹرنیشنل میں موقع دینا چاہیے لیکن حفیظ نے خود ہی پانچواں ون ڈے کھیلنے سے انکار کردیا تھا یہ بات سب کو پتہ ہے۔‘
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ مکی آرتھر سے بھی محمد حفیظ کے مستقبل کے بارے میں بار بار سوال ہوا ہے جس پر ان کا بھی یہی کہنا ہے ’کسی پر بھی دروازے بند نہیں ہوئے ہیں۔ ہمیں صرف یہ دیکھنا ہے کہ ہم جس برانڈ کی کرکٹ کھیل رہے ہیں اس میں وہ کس طرح فٹ ہوتے ہیں۔‘
محمد حفیظ کے لیے گذشتہ دو ماہ اچھے نہ تھے۔ سینٹرل کنٹریکٹ کی اے کیٹگری سے بی میں تنزلی کے بعد وہ ایشیا کپ کی ٹیم سے بھی باہر ہوئے لیکن ایک سینئیر کرکٹر ہونے کے ناتے انھوں نے اس مایوسی کو اپنی عمدہ کارکرگی سے دور کیا ہے۔
انھوں نے قائد اعظم ٹرافی میں فاٹا کے خلاف چھ وکٹیں حاصل کرنے کے بعد پشاور کے خلاف ڈبل سنچری بنا کر اپنا کیس بہت مضبوط کیا اور جب آسٹریلیا کے خلاف دبئی کے چار روزہ میچ میں شان مسعود ناکام ہوئے تو پھر سلیکٹرز کی نگاہیں محمد حفیظ پر ہی جا کرٹھہریں۔









