’کپتان کی تبدیلی مسئلے کا حل نہیں، سرفراز ہی کپتان رہیں گے: انضمام الحق

انضمام الحق

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناپنی ٹیم پر پورا بھروسہ ہے، وہ دوبارہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی: چیف سلیکٹر انضمام الحق
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دبئی

ایشیا کپ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد سب سے زیادہ تنقید کا سامنا کپتان سرفرازاحمد کو کرنا پڑا ہے اور کچھ حلقے کپتان کی تبدیلی کی بات بھی کرنے لگے ہیں لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی کے چیرمین انضمام الحق نے سرفرازاحمد پر مکمل اعتماد ظاہر کرتے ہوئے واضح کردیا ہےکہ کپتان کی تبدیلی مسئلے کا حل نہیں۔

انضمام الحق پاکستان اے اورآسٹریلیا کے درمیان آئی سی سی اکیڈمی میں کھیلے جانے والے چار روزہ میچ کے سلسلے میں دبئی میں موجود ہیں۔

انضمام الحق نے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ فارم آنی جانی چیز ہوتی ہے جبکہ کلاس مستقل ہوتی ہے اور موجودہ ٹیم باصلاحیت کرکٹرز پر مشتمل ہے جو پچھلے ایک ڈیڑھ سال سے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتی آرہی تھی لیکن ایشیا کپ میں وہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکی لیکن ان کھلاڑیوں کو اعتماد دینے کی ضرورت ہے۔بحیثیت چیف سلیکٹر انہیں اپنی ٹیم پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ دوبارہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔

یہ بھی پڑھیے

کپتان سرفراز احمد کے مستقبل کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انضمام الحق کا کہنا ہے کہ شکست یتیم ہوتی ہے جسے کوئی قبول نہیں کرتا جبکہ جیت کے کئی باپ بن جاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایشیا کپ میں ٹیم توقعات کے مطابق نہیں کھیلی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ گھبراہٹ میں″ پینک بٹن″ دبادیا جائے۔انہیں اپنے کپتان پر پورا اعتماد ہےانہیں پوری حمایت اور حوصلہ دیں گے اور کپتان تبدیل کرنے کا کوئی بھی ارادہ نہیں ہے۔

سرفراز احمد

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکپتان کی تبدیلی مسئلے کا حل نہیں: انضمام الحق

انضمام الحق نے کہا کہ ان کے پاس اٹھارہ سے بیس کھلاڑی موجود ہیں جنہیں ایک دو سال کی سخت محنت سے تیار کیا گیا ہے۔ایک آدھ تبدیلی تو معمول کی بات ہوتی ہے لیکن ٹیم میں بڑے پیمانے پر کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔

انضمام الحق نے آؤٹ آف فارم فخرزمان کو آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے ٹیم میں برقرار رکھے جانے کے بارے میں کہا کہ لوگ دو تین ناکام اننگز کے بعد ہی سلیکشن میں تبدیلی کی بات کرنے لگتے ہیں لیکن چیف سلیکٹر کی حیثیت سے ان کی رائے آسانی سے تبدیل نہیں ہوتی کیونکہ وہ خود بیٹسمین رہے ہیں اور انہیں پتہ ہے کہ کبھی کبھی بیٹسمین دو تین اننگز میں بڑا سکورنہیں کرپاتا۔یہی وہ فخرزمان ہییں جنہوں نے زمبابوے میں ڈبل سنچری سمیت کئی بڑی اننگز کھیلی تھیں۔

انضمام الحق نے تسلیم کیا کہ انہوں نے فخر زمان کو ٹیسٹ ٹیم میں منتخب کرکے ایک طرح سے خطرہ مول لیا ہے لیکن یہ سوچ کر کہ وہ ٹیم کے ایک اہم کھلاڑی ہیں اور اگر سیٹ ہوگئے تو ٹیم کے لیے بہت کارآمد ثابت ہونگے کیونکہ وہ لمبی اننگز کھیلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

اوپنر شان مسعود کو اچانک پاکستان اے ٹیم میں شامل کیے جانے کے بارے میں انضمام الحق کا کہنا ہےکہ گزشتہ سال سری لنکا کے خلاف مایوس کن ٹیسٹ سیریز کے بعد شان مسعود نے دو ون ڈے ٹورنامنٹس میں بارہ سو سےزائد رنز بناکر ایشیا کپ کی ٹیم میں جگہ بنائی تاہم انہیں فخر زمان اور امام الحق کی موجودگی میں موقع نہیں مل سکا لہذا سلیکشن کمیٹی نے یہ سوچ کر کہ وہ ایک اچھے بیٹسمین ہیں انہیں آسٹریلیا کے خلاف چار روزہ میچ میں موقع دیا گیا ہے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ پاکستان کی ہوم سیریز ہے جس میں ہم کسی بھی کھلاڑی کو اس کی ڈومیسٹک کرکٹ کی عمدہ کارکردگی کی بنیاد پر موقع دے سکتے ہیں۔