کرکٹ آسٹریلیا: معین علی کو ’اُسامہ’ بلانے کی تحقیق ہوگی

کرکٹ آسٹریلیا کے مطابق وہ انگلینڈ کے آل راؤنڈر معین علی کے اس الزام کی تحقیق کریں گے جس میں ایک آسٹریلوی کھلاڑی نے 2015 کی ایشز سیریز کے دوران انہیں 'اُسامہ' کہہ کر بلایا تھا۔یہ پانچ میچوں پر مبنی سیریز انگلینڈ میں منعقد ہوئی تھی جس میں میزبان ٹیم نے تین میچز جیت کر کامیابی حاصل کی تھی۔ اکتیس برس کے معین نے یہ الزامات اپنی جلد ہی شائع ہونے والی خود نوشت میں درج کیے ہیں۔

کرکٹ آسٹریلیا کے ترجمان نے کہا کہ 'اس طرح کے بیان ناقابل قبول ہیں اور ہمارے کھیل اور معاشرے میں ان کے لیے کوئی گنجائش نہیں'۔ انہوں نے مزید کہا کہ 'ہماری اقدار کے واضح اصول ہیں اور اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے رویہ کے حصہ ہوتے ہیں'

کرکٹ آسٹریلیا کے ترجمان نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ 'ہم اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں اور ای سی بی (انگلینڈ اور ویلز کے کرکٹ بورڈ) کے ساتھ مل کر اس بات کو فوری توجہ دے رہے ہیں تاکہ اس مبینہ واقعے کی مزید وضاحت حاصل کریں'۔

اس سے پہلے برطانوی میڈیا میں یہ معین علی کے حوالے سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ اُنہیں بال ٹیمپرنگ سکینڈل میں ملوث معطل آسٹریلوی کرکٹرز کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں ہے۔

معین علی پوری آسٹریلوی ٹیم کو ہی ’بد اخلاق‘ سمھجتے ہیں۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق معین علی نے اخبار دی ٹائمز کو بتایا کہ ’آسٹریلیا واحد ٹیم ہے جس کے خلاف میں پوری زندگی کھیلا اور اسے واقعی ناپسند کیا۔‘

یہ بھی پڑھیں!

انگلش آل راؤنڈر کا کہنا ہے کہ ’آسٹریلیا سے ناپسندگی کی وجہ صرف اس لیے نہیں کہ وہ کرکٹ میں ہمارا پرانا دشمن ہے بلکہ اس کی وجہ وہ جس طرح لوگوں اور کھلاڑیوں کو بے عزت کرتے ہے۔‘

معین علی کہتے ہیں کہ انھیں بال ٹمپرنگ کی پاداش میں ایک سال کی پابندی کی سزا پانے والے سمتھ، وارنر اور بین کرافٹ سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔

واضح رہے کہ کرکٹ آسٹریلیا نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل میں ملوث قومی کرکٹ ٹیم کے معطل کپتان سٹیو سمتھ اور نائب کپتان ڈیوڈ وارنر پر ایک ایک سال کی پابندی عائد کر دی تھی۔ ان کے علاوہ کیمرون بین کروفٹ کو نو ماہ کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

معین علی کہتے ہیں کہ ’میں عام طور پر کچھ غلط ہوجانے پر لوگوں کے لیے ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں لیکن ان کے لیے میرے لیے ہمدری محسوس کرنا مشکل ہے۔‘

’میں نے پہلی بار ان کے خلاف سنہ 2015 کے ورلڈ کپ سے پہلے سڈنی میں کھیلا تھا، وہ آپ کے خلاف صرف سخت مزاج نہیں بلکہ تقریبا گالی کلوچ کر رہے تھے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے پہلی بار یہ ایسا محسوس ہوا تھا۔ میں نے انھیں شک کا فائدہ دے دیا لیکن میں جتنا ان کے خلاف کھیلا اتنا ہی برا ہوا، سن 2015 میں ایشز سب سے بری تھیں، دراصل وہ اشتعال انگیز نہیں بلکہ صرف بداخلاق تھے۔‘

آسٹریلین ٹیم کے کپتان ٹم پائن کہتے ہیں کہ غصے کا اظہار ذہنی تناؤ کو ختم کرنے کے لیے کرتے رہے ہیں تاہم ان کا کہاتھا کہ اس سے کھیل میں جان مارنے کی خواہش ختم نہیں ہونی چاہیے۔

خیال رہے کہ پاکستان رواں سال اکتوبر میں آسٹریلیا کے خلاف سیریز کی میزبانی متحدہ عرب امارات میں کرے گا۔

اس سیریز میں دونوں ٹیموں کے مابین دو ٹیسٹ، پانچ ون ڈے اور ایک ٹی 20 میچ کھیلا جائے گا۔