آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سیریز بھی اوپن رہی اور انڈین کپتان نے نمبرون رینکنگ بھی واپس حاصل کر لی
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
کرکٹ میں عموماً کہا جاتا ہے کہ دس میں سے نو بار ٹاس جیتنے والے کپتان بیٹنگ کا فیصلہ کرتے ہیں، اور دسویں بار بولنگ کرنے کا سوچتے ہیں مگر پھر بھی بیٹنگ ہی کرتے ہیں۔
ٹی ٹوئنٹی کی آمد کے بعد جہاں کرکٹ کے بہت سے رسوم و قیود میں بدلاؤ آیا ہے، وہیں ٹاس سے جڑی یہ قدیم ریت بھی بدل چکی ہے۔
مگر تمام تر رفتار اور مار دھاڑ سے کوسوں دور ٹیسٹ کرکٹ میں ابھی بھی ٹاس جیت کر بیٹنگ کو ہی ترجیح دی جاتی ہے تا وقتیکہ وکٹ میں نمی ہو یا کنڈیشنز بولنگ کے لیے سازگار ہوں۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
مئی میں لارڈز کے میدان پر جب پاکستان اور انگلینڈ مد مقابل آئے تھے تو یہ انگلش ہوم سیزن کا پہلا ٹیسٹ میچ تھا۔ برطانوی کپتان جو روٹ تب تک ایشز کے ڈراؤنے خوابوں سے اپنا پیچھا نہ چھڑا سکے تھے۔
شاید انہی اندیشوں کا خلجان تھا کہ ٹاس جیت کر انھوں نے بیٹنگ کا فیصلہ کر لیا، حالانکہ ابر آلود کنڈیشنز بولنگ کے لیے سازگار تھیں۔ اس فیصلے نے گویا وہ میچ تھالی میں رکھ کر سرفراز کو پیش کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مگر چھ روز قبل جب ناٹنگھم میں جو روٹ ٹاس کے لیے میدان میں اترے تو کوئی خدشات ان کا تعاقب نہیں کر رہے تھے۔ پہلے دو میچز انگلینڈ جیت چکا تھا اور ناٹنگھم میں اس کے پاس بھرپور موقع تھا کہ وہ سیریز اپنے نام کر لیتا۔
نفسیاتی برتری کے طور پر جو روٹ ٹاس بھی جیت گئے۔ ٹیسٹ کرکٹ کی مروجہ ذہانت کا تقاضا یہی تھا کہ وہ پہلے بیٹنگ کرتے۔ بظاہر وکٹ پہ ہری بھری گھاس تھی جو نظر کا دھوکہ ثابت ہو سکتی تھی مگر بحیثیت مجموعی کنڈیشنز بیٹنگ کے لیے سازگار تھیں۔
یہ تو عیاں تھا کہ گھاس موجود ہونے کے باوجود کنڈیشنز قطعاً ہری بھری نہیں تھیں۔ اور پھر کہیں نہ کہیں روٹ کی ایک بے محل سی خود اعتمادی بھی تھی کہ اپنے تئیں انھوں نے کوہلی کے ناتواں بیٹنگ یونٹ کو پریشر میں ڈالنے کے لیے پہلے بولنگ کا فیصلہ کر لیا۔
مگر یہ فیصلہ کرتے ہوئے روٹ بھول گئے کہ گزشتہ تین سال میں انگلینڈ کے لیے چوتھی اننگز کے اہداف پہاڑ سے ثابت ہوئے ہیں۔
روٹ کا گمان تھا کہ پچھلے دونوں میچز کی طرح انڈین بیٹنگ کے طوطے اڑ جائیں گے اور روٹ کی ٹیم کو صرف ایک ہی بار بیٹنگ کرنا ہو گی۔ تب تک وکٹ بے جان ہو چکی ہو گی اور ایک ہی اننگز میں انگلینڈ اتنا ٹوٹل جوڑ چکا ہو گا کہ وہ بھارت کو ایک اننگز سے بھی مات دینے کے لیے کافی ہو گا۔
مگر اس میں جیمز اینڈرسن اور سٹورٹ براڈ کا کیا دوش کہ جب وکٹ میں رنز بھرے ہوئے تھے تب انہیں وکٹیں اڑانے کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ اور جب کنڈیشنز بولنگ کے لیے سازگار ہوئیں، تب گیند بھمراہ اور پانڈیا کے ہاتھ میں تھا۔
لیکن انڈیا کی جیت فقط روٹ کے ایک غلط فیصلے کی ہی مرہون منت نہیں ہے۔
کوہلی کی قوت ارادی اور انڈین بلے بازوں کا بروقت ردعمل بھی بہت کام آیا۔ پہلی اننگز میں راہانے اور کوہلی نے مل کر وہ بوجھ اٹھایا جو پچھلے دو میچز میں کوہلی تنہا اٹھانے کی کوشش کرتے رہے تھے۔ دوسری اننگز میں بھی کوہلی کی کامرانی میں پجارا نے حصہ ڈال دیا۔
انڈیا کے لیے یہ بہت مشکل صورت حال ہو سکتی تھی اگر انہیں چوتھی اننگز کھیل کر ہدف کا تعاقب کرنا پڑتا مگر روٹ کے فیصلے نے انہیں اس مشکل سے دور رکھا۔
اور یہ مہربانی انڈیا کے ایسے کام آئی کہ میچ بھی جیت گئے، سیریز بھی اوپن رہی اور کوہلی نے نمبرون رینکنگ بھی واپس حاصل کر لی۔