پاکستان نے زمبابوے کو 131 رنز سے شکست دے دی، سیریز میں پانچ صفر سے کامیابی

،تصویر کا ذریعہAFP
زمبابوے کے شہر بلاویو میں کھیلے جانے والی ایک روزہ میچوں کی سیریز کے پانچویں اور آخری میچ میں پاکستان نے زمبابوے کو 131 رنز سے شکست دے کر کلین سویپ کر دیا ہے۔
پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور جارحانہ بیٹنگ سے اننگز 364 رنز پر ختم کی ہے۔
اس نے جواب میں زمبابوے کی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں چار وکٹوں نے نقصان پر 234 رنز بنا سکی۔
فخر زمان کو مین آف دی سیریز جبکہ بابر اعظم کو مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے امام الحق نے 110 رنز اور بابر اعظم نے ناقابل شکست 106 رنز بنائے جبکہ فخر زمان نے 85 رنز بنائے۔
اننگز کا جب آغاز ہوا تو پاکستان کے اووپنر فخر زمان کو صرف 20 رنز درکار تھے تاکہ وہ ایک روزہ میچوں میں تیز ترین ہزار رنز بنانے کا ریکارڈ قائم کر سکیں اور انھوں نے باآسانی اپنے 18ویں میچ میں یہ ریکارڈ بنا لیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
فخر سے قبل یہ ریکارڈ ویسٹ انڈیز کے سر ویوین رچرڈز کے پاس تھا جنھوں نے 21 اننگز میں 1000 رنز مکمل کیے تھے۔
اُن کے علاوہ کیون پیٹرسن، جانتھن ٹروٹ، کوئنٹن ڈی کوک، اور پاکستان کے بابر اعظم نے بھی 21 اننگز میں 0100 رنز مکمل کر کے ان کا ریکارڈ برابر کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فخر زمان نے اپنے ایک ہزار ایک روزہ رنز 18 اننگز میں مکمل کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہAFP
فخر اور ان کے ساتھی اووپنر امام الحق نے ایک بار پھر سنچری شراکت جوڑی جس کا اختتام 168 رنز پر ہوا جب فخر زمان 85 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔
ان کے بعد بابر اعظم اور امام نے پرسکون انداز میں بیٹنگ جاری رکھی جس کے دوران امام الحق نے اپنے نویں میچ میں چوتھی سنچری سکور کر لی۔
77 رنز کی شراکت قائم کرنے کے بعد 37ویں اوور میں امام الحق 110 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔
یاد رہے کہ حمعے کے روز زمبابوے کے خلاف چوتھے ایک روزہ کرکٹ میچ میں فخر زمان کی ڈبل سنچری کی بدولت پاکستان نے ایک روزہ کرکٹ میں اپنا سب سے بڑا مجموعی سکور بنایا۔ پاکستان کے 399 رنز کے جواب میں زمبابوے کی ٹیم 42.4 اوورز میں 155رنز بنا سکی اور پاکستان نے سیریز کا چوتھا میچ 244 رنز سے جیت لیا۔
اس سیریز میں پاکستان کو 4-0 کی برتری حاصل ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
مردان سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ فخر زمان نے اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کو درپیش اوپننگ کا مسئلہ حل کیا اور لگاتار دو میچوں میں نصف سنچریاں سکور کیں۔
صرف یہی نہیں بلکہ انڈیا کے خلاف کھیلے جانے والے فائنل میں جب نو بال کی وجہ سے انھیں دوبارہ موقع ملا تو انھوں نے یہ موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا، اور ایک مشکل حریف کے خلاف سنچری بنا ڈالی۔
فخر زمان کو آئی سی سی چیمیئنز ٹرافی کے فائنل کا بہترین بلے باز قرار دیا گیا اور اس وقت سے انھیں بڑے میچ کا کھلاڑی کہا جانے لگا۔
انڈیا کے خلاف سنچری سکور کرنے کے بعد فخر زمان کو پذیرائی تو بہت ملی لیکن ساتھ ہی ان کے بیٹنگ کرنے کے انداز پر بھی تنقید کی جانے لگی اور کہا جانے لگا کہ چونکہ وہ صرف آف سائیڈ پر ہی کھیلتے ہیں، شاٹ بال کو کھیل نہیں سکتے اور ان کا بیک لفٹ بھی بہت زیادہ ہے اس لیے وہ زیادہ کامیاب بلے باز نہیں بن سکیں گے۔
لیکن فخر زمان نے ان ساری باتوں کا جواب اپنے بلے سے ہی دیا اور جس کا نتیجہ ان کی ڈبل سنچری کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ فخر زمان اپنے اس مختصر ون ڈے کریئر میں اب تک صفر پر آؤٹ نہیں ہوئے ہیں۔ اس ڈبل سنچری سے قبل وہ اب تک پانچ نصف سنچریاں اور دو سنچریاں سکور کر چکے ہیں۔









