یہ مساکدزا کے بس کی بات ہی نہیں تھی

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
زمبابوے کے لیے یہ سیریز ایک ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھی۔ ستم یہ کہ، یہ ڈراؤنا خواب اپنی آمد سے کہیں پہلے ہی نوشتۂ دیوار ہو چکا تھا۔ جس سیاق و سباق سے گزر کر یہ ٹور پایۂ تکمیل تک پہنچا، زمبابوے کرکٹ کے لیے اس ٹور کا مکمل ہو جانا ہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
پاکستان کے لیے نوید کا پہلو یہ ہے کہ محدود ون ڈے کرکٹ شیڈول میں حالیہ سیریز سے پہلے یہ سال ون ڈے فتوحات سے خالی تھا۔ پانچ ون ڈے فتوحات اور سیریز وائٹ واش کے بعد ریکارڈ میں نیوزی لینڈ سے وائٹ واش کا حساب پورا ہو گیا۔
چیمپئینز ٹرافی کی فتح اور سری لنکا کے خلاف کلین سویپ کے بعد جب سرفراز الیون نیوزی لینڈ پہنچی تھی تو توقعات کا گراف بہت بلند تھا لیکن پانچ میچوں بعد پاکستانی ڈریسنگ روم عجیب سی ناشناسائی سے دوچار تھا۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
مگر جون کے آخری ہفتے جب پاکستان کی ٹیم زمبابوے پہنچی تو توقعات وابستہ کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔ وجہ صاف تھی، زمبابوے پوری قوت کے ساتھ بھی آتا تو پاکستانی بولنگ کے سامنے بے بس ہی ٹھہرتا۔
ثانیاً آسٹریلیا بال ٹیمپرنگ تنازعے کی گرد میں کھونے کے بعد ایسے پست مورال پہ تھا کہ انگلینڈ سے بری طرح ہار کر آ رہا تھا۔ ایسے میں جیت کے ہما کو بیٹھنے کے لئے جو واحد ٹھکانہ میسر تھا، وہ پاکستانی ڈریسنگ روم ہی تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پی سی بی اپنے تئییں اس سیریز کو ورلڈکپ کی تیاریوں کا حصہ سمجھ سکتا ہے اور اس وائٹ واش نتیجے پہ شادمانی کے نغمے بھی گنگنا سکتا ہے مگر معروضی حقائق کو پرکھا جائے تو اس وائٹ واش سے ورلڈکپ کی تیاری کے بیانیے کو تقویت نہیں ملتی۔
گو کہ بظاہر گیارہ زمبابوین کھلاڑی گراونڈ میں موجود ہوا کرتے تھے لیکن پھر بھی پاکستان کے لیے یہ پورا دورہ ایک طرح کی نیٹ پریکٹس ہی تھا۔ مگر اس نیٹ پریکٹس میں بھی پاکستان کے لیے بہت سے مثبت پہلو موجود ہیں۔
فخر زمان تیز ترین ایک ہزار ون ڈے رنز کا ریکارڈ لے اڑے۔ امام الحق نے کریئر کے آغاز میں ہی ایسی خوابناک فارم دیکھ لی۔ بابر اعظم کے لیے یہ کم بیک ٹور تھا جو نہایت مثبت ثابت ہوا۔ شاداب خان کو مزید کامیابیاں ملیں جبکہ حسن علی نے اپنی بہترین فارم برقرار رکھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سمیع چوہدری کے پاکستان زمبانوے سیریز پر دیگر تجزیے
لیکن اس ٹور کی سب سے زیادہ خوش آئند بات عثمان شنواری کی اٹھان ہے جو ایک بار پھر اس مفروضے کو رد کرتی ہے کہ پاکستان کے فاسٹ بولنگ ذخائر میں کوئی کمی آ گئی ہے۔ عثمان شنواری کی موجودگی اس بولنگ اٹیک کو مزید ورائٹی فراہم کرتی ہے۔
ایک اینڈ سے محمد عامر سوئنگ کا جادو جگاتے ہیں تو دوسرے اینڈ سے عثمان شنواری فل لینتھ گیند سے اٹیک کرتے ہیں۔ فاسٹ بولنگ میں مشکل ترین آرٹ فل لینتھ پہ گیند ڈال کے رنز روکنا اور چانسز پیدا کرنا ہے۔ یہ کام کبھی وسیم اکرم کیا کرتے تھے۔ فی زمانہ مچل سٹارک اس کے ماہر ہیں۔ عثمان شنواری گو کہ ابھی نو آموز ہیں مگر یہ صلاحیت ان میں بالکل موجود ہے۔
کسی ٹیم یا کھلاڑی کے لیے کوئی بھی فتح اگر مگر سے جڑی نہیں ہوتی۔ سیاق و سباق منہا کر کے بجائے خود جیت جیت ہی کہلاتی ہے خواہ وہ کیسی ہی ٹیم کے خلاف ہو۔ پاکستانی کھلاڑیوں نے یہ سیریز خالصتا اپنی صلاحیت کے مطابق کھیل کر کلین سویپ کی ہے۔ زمبابوے کے جو بھی مسائل تھے، وہ فتوحات کے مارجن میں نمایاں رہیں گے مگر پاکستان نے اپنے تئیں معیاری کرکٹ کھیل کر یہ کامیابی حاصل کی ہے۔
کیونکہ جس وقت یہ سیریز طے ہوئی تھی، تب نہ تو سرفراز کپتان تھے نہ حسن علی ٹیم کا حصہ بنے تھے، نہ ہی شاداب خان اور فخر زمان کے کرئیر شروع ہوئے تھے۔ کب کس سے کھیلنا ہے، یہ پی سی بی بہت پہلے ہی طے کر چکا تھا۔
سو پاکستان کو یہ کلین سویپ مبارک ہو۔ رہی بات ورلڈ کپ کی تیاریاں جانچنے کی تو اس کا جواب پانے کے لیے ہمیں مزید دو تین ماہ انتظار کرنا ہو گا۔ باقی جہاں تک زمبابوے کی بات ہے، تو یہ سیریز مساکدزا کے بس کی بات ہی نہیں تھی۔












