انڈین کرکٹر محمد شامی پر گھریلو تشدد کا الزام

انڈیا کرکٹ ٹیم کے بولر محمد شامی کے خلاف ان کی اہلیہ کی جانب سے شکایت کے بعد، کولکتہ پولیس نے گھریلو تشدد کا مقدمہ درج کیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 27 سالہ کھلاڑی پر قتل، دھمکی اور زہر دینے کی کوشش جیسے الزام بھی عائد ہیں۔

شامی کو آٹھ مارچ کو انڈین کرکٹ بورڈ نے ان کھلاڑیوں کی فہرست سے بھی نکال دیا جنہیں کنریکٹ حاصل ہے۔

انھوں نے رواں ہفتے کے اوائل میں عائد کیے گئے ان الزامات سے انکار کیا ہے۔

87 بار ہر طرح کی کرکٹ میں انڈیا کی نمائندگی کرنے والے کرکٹر کے خلاف الزامات کی سزا 10 سال قید یا اس سے زیادہ ہوسکتی ہے۔

شامی کی اہلیہ حسین جہان نے ان پر بدکاری اور گھریلو تشدد کے الزامات عائد کیے۔

انھوں نے منگل کو اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر ایسے پیغامات پوسٹ کیے جن میں ان کے شوہر نے ان کی چار سالہ شادی کے دوران کسی اور کو کیے تھے۔

ان کا الزام ہے کہ شامی کے کئی افیئرز ہیں اور وہ ان پر بار بار جسمانی اور ذہنی تشدد کرتے تھے۔

محمد شامی کا کہنا ہے کہ یہ الزامات ان کے خلاف سازش ہیں اور ان بدنام کرنے کی کوشش ہیں۔

انھوں نے ٹویٹر پر لکھا ’میری ذاتی زندگی کے بارے میں جو کچھ بپی کہا جا رہا ہے وہ جھوٹ ہے۔‘

حسین جہان نے شامی کے بڑے بھائی کے خلاف ریپ کی شکایت بھی درج کروائی۔

اس سے پہلے انڈین کرکٹ بورڈ نے کہا کہ کہ ان الزامات نے انہیں مشکل میں ڈال دیا ہے۔

چیئرمین آف کمیٹی کے سربراہ ونود رائے نے ای این پی این کرکانفو نامی ویب سائٹ کو بتایا تھا کہ ’عام طور پر ایسے معاملات مںیںآپ کہتے ہیں کہ یہ ذاتی زندگی کا معاملہ ہے اور کانٹریکٹ ایک پیشہ وارانہ چیز۔ ‘

’لیکن کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ایک شخص پر ناگوار الزامات ہیں اور آپ اب بھی اسے نواز رہے ہیں۔‘