آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
راشد خان: افغان پناہ گزین کا کرکٹ کی بلندیوں تک سفر
افغانستان جہاں سے عام طور پر حالیہ کئی برسوں سے پرتشدد خبریں ہی آتی رہی ہیں وہیں سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان کھلاڑی ان دنوں دنیائے کرکٹ کی سرخیوں میں ہے۔
راشد خان نے سب سے پہلے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی، پھر آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ میں اپنی سپن کا جادو بکھیرا اور اب آئی سی سی کی ون ڈے رینکنگ میں انڈیا کے جسپریت بمراہ کے ساتھ پہلے نمبر اور ٹی 20 رینکنگ میں دوسرے نمبر پر آ گئے ہیں۔
راشد خان نے زمبابوے کے خلاف سیریز میں 16 وکٹیں لیں جس کے سبب وہ آئی سی سی ون ڈے کی بولنگ رینکنگ میں صف اول میں آئے۔
پاکستان میں بھی قیام رہا
ان کی اس کامیابی کے درپردہ جدوجہد کی ایک طویل داستان ہے۔ راشد خان کی مشکلات کئی دوسرے کرکٹرز کے مقابلے کہیں زیادہ نظر آتی ہے۔
راشد خان سنہ 1998 میں مشرقی افغانستان کے ننگرہار صوبے میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق جلال آباد سے ہے اور ان کے دس بھائی بہن ہیں۔
بچپن میں ہی ان کے اہل خانہ کو افغانستان میں جاری کشیدہ حالات کے پیش نظر ملک چھوڑنا پڑا اور وہ کئی سال تک پاکستان میں مقیم رہے۔
بعد میں وہ سب افغانستان واپس گئے اور عام زندگی بسر کرنے لگے۔ راشد اپنے بھائیوں کے ساتھ کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔
بچپن کی کرکٹ سے لے کر پیشہ ورانہ کرکٹر بننے تک پاکستانی کھلاڑی شاہد آفریدی ان کے ہیرو اور آئيڈیل رہے۔ یہاں تک کہ ان کا بولنگ ایکشن بھی آفریدی سے مماثلت رکھتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپنی 17ویں سالگرہ کے فورا بعد راشد خان کو افغانستان کی بین الاقوامی ٹیم میں جگہ ملی۔ سنہ 2015 میں زمبابوے کے خلاف ان کے بین الاقوامی کرکٹ کی ابتدا ہوئی۔
دو سال بعد جب اسی ٹیم کے خلاف وہ کھیل رہے تھے تو آئی پی ایل کی نیلامی میں ان کا نام آيا اور وہ سب سے مہنگے ایسوسی ایٹ کھلاڑی بنے۔
انھیں حیدرآباد سن رائزرز نے چار کروڑ روپے میں خریدا۔ دریں اثنا راشد خان افغان ٹیم میں اپنی پوزیشن مستحکم کرتے رہے۔
اہم ہتھیار کیا ہے؟
ان کی بولنگ کی خاص بات یہ ہے کہ وہ گیند کو بہت زیادہ سپن نہیں کراتے اور ہوا میں گیند کی رفتار تیز رکھتے ہوئے بیٹسمین کو چکمہ دیتے ہیں۔
یہی انداز آفریدی کا بھی رہا ہے۔ وہ وکٹ ٹو وکٹ بولنگ کرتے ہیں اور ان کا سب سے بڑا ہتھیار گگلی ہے۔
اس کے علاوہ وہ اچھے فیلڈر بھی ہیں اور عام طور پر کور میں فیلڈنگ کرتے ہیں جوکہ ون ڈے کرکٹ میں اہم حصہ کہا جاتا ہے۔
سنہ 2018 ان کے لیے بہت خوش قسمت ثابت ہو رہا ہے۔ آئی سی سی کی درجہ بندی میں پہلے نمبر تک پہنچنے سے قبل آئی پی ایل میں نو کروڑ کی خطیر رقم میں ان کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔
ون ڈے میں انھوں نے 37 میچز میں 86 وکٹیں حاصل کیں ہیں جبکہ ٹی 20 کے 29 میچز میں 47 وکٹیں لیں ہیں۔ وہ لو آرڈر میں جارحانہ بیٹنگ کر لیتے ہیں۔
بگ بیش لیگ میں وہ ایڈیلیڈ سٹرائکرز کی طرف سے کھیلتے ہیں جہاں ان کی بولنگ کی کافی تعریف ہوئی۔
گذشتہ سال نومبر میں انھیں پاکستان سپر لیگ میں کوئٹہ گلیڈیئٹرز کی جانب سے کھیلنے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ اب وہ انگلینڈ کے نیٹ ویسٹ ٹی 20 بلاسٹ ٹورنامنٹ میں سسیکس کاؤنٹی کی نمائندگی کریں گے۔