سری لنکا کے خلاف پاکستان کی نوجوان ٹیم کا بڑا کارنامہ

    • مصنف, ذیشان علی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان نے سری لنکا کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں شکست کا بدلہ بالآخر پانچ ون ڈے میچوں کی سیریز میں کچھ اس انداز میں لیا کہ مہمان ٹیم کو سیریز کا ایک بھی میچ جیتنے نہ دیا۔

متحدہ عرب امارات میں کھیلی جانے والی اس پانچ ون ڈے میچوں کی سیریز میں پاکستان نے نو سال بعد کلین سویپ کیا۔

اس سے قبل پاکستان نے آخری مرتبہ کسی بھی پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز میں سنہ 2008 میں شعیب ملک کی کپتانی میں کلین سویپ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کی جانب سے اس سیریز میں نوجوان کھلاڑیوں نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور کپتان سرفراز احمد نے تجربہ کار کھلاڑیوں کے تجربے سے بھی خوب فائدہ اٹھایا۔

سب سے پہلے اگر بولنگ کی بات کی جائے تو ایسی وکٹوں پر جہاں بولرز کے لیے کچھ خاص مدد موجود نہیں تھی پاکستانی فاسٹ اور سپن دونوں ہی بولروں نے شاندار اور نپی تلی گیند بازی کی۔

حسن علی

آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی سے شہرت حاصل کرنے والے حسن علی اس سیریز میں بھی چھائے رہے۔

حسن علی نے پہلے تو پاکستان کی جانب سے تیز ترین 50 وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس کے بعد وہ آئی سی سی کی ون ڈے رینکنگ میں پہلے نمبر پر آگئے۔

اس کے بعد اس سیریز میں سب سے زیادہ 14 وکٹیں لے کر سیریز کے بہترین بولر بھی قرار پائے۔

یہ بھی پڑھیے

شاداب خان

سیریز میں دوسرے نمبر پر شاداب خان رہے جنھوں نے دس وکٹیں لیں۔

محمد حفیظ

محمد حفیظ کے لیے یہ سیریز ملی جلی رہی کیونکہ ایک طرف تو وہ آئی سی سی کی آل راؤنڈرز کی رینکنگ میں پہلے نمبر آئے تاہم بری خبر ان کے لیے یہ رہی کہ ان کا بولنگ ایکشن ایک مرتبہ پھر رپورٹ ہوا۔

انھیں اپنے بولنگ ایکشن کا ٹیسٹ دوبارہ یکم نومبر کو دینا ہے۔

عثمان خان شنواری

پاکستان نے اس ون ڈے سیریز میں جن کھلاڑیوں کو ڈبیو کروایا ان میں عثمان شنواری بھی شامل ہیں۔ عثمان شنواری نے اپنے پہلے ہی میچ کے پہلے ہی اوور کی دوسری گیند پر وکٹ لے کر انٹرنیشنل کرکٹ میں وکٹوں کا کھاتہ کھولا۔

اس کے بعد سیریز کے پانچویں اور آخری میچ میں انھوں نے تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے صرف 21 گیندوں پر پانچ وکٹیں حاصل کیں، جس کے ساتھ ہی وہ ایک اننگز میں دنیا کے تیسرے تیز ترین پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے بولر بن گئے ہیں۔

پاکستان کی بیٹنگ

اب ذرا بلے بازی کی بات کی جائے۔ چونکہ پاکستان ٹیسٹ سیریز میں بری طرح شکست کا سامنا کر چکا تھا اس لیے اس کی بیٹنگ لائن پر تشویش ضرور کی جا رہی تھی۔

تاہم بلے بازوں کی جانب سے کارکردگی بھی بہت ہی شاندار رہی۔

بابر اعظم

بلے بازوں میں سب سے پہلا نام تو پاکستان کے اس وقت کے سٹار بیٹسمین بابر اعظم کا آتا ہے، جنھوں نے ون ڈے کرکٹ میں اپنی بہترین فارم کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے سیریز میں سب سے زیادہ 303 رنز بنائے۔

انھوں نے سری لنکا کے خلاف چار اننگز میں دو لگاتار سنچریاں اور ایک نصف سنچری سکور کی۔

یہ بھی پڑھیے

امام الحق

امام الحق کو اس سیریز میں ڈبیو کرایا گیا اور ان کی سلیکشن پر اعتراضات بھی اٹھائے گئے تھے لیکن انھوں نے اپنے پہلے ہی میچ میں سنچری سکور کر کے ناقدین کے منہ بند کر دیے۔

شعیب ملک اور فخر زمان

پاکستان کی جانب سے دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز شعیب ملک رہے جنھوں نے دو نصف سنچریوں کی مدد سے 161 رنز بنائے جبکہ اوپنر فخر زمان نے بھی 148 رنز سکور کیے۔

یادگار سیریز

پاکستان کرکٹ کے لیے یہ سیریز اس لیے بھی یادگار رہی کیونکہ ایک طویل عرصے بعد ٹیم کا کامبینیشن کافی عمدہ دکھائی دیا اور سب سے بڑی بات نوجوان کپتان کی قیادت میں نوجوان کھلاڑیوں نے پرفارم کیا۔

اس کے بعد اب پاکستان کی اس نوجوان ٹیم کا اگلا امتحان سری لنکا ہی کے خلاف تین ٹی 20 میچوں کی سیریز ہے۔

۔