کیا احمد شہزاد نیا لڑکا ہے؟

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

جنوبی افریقہ کی کنڈیشنز آسٹریلیا کے لیے کبھی بھی اجنبی نہیں رہیں۔ دونوں جگہ کی مٹی میں ایک سا باؤنس اور ملتی جلتی پیس ہے۔ دونوں کے درمیان کئی ایک کانٹے دار مقابلے ہو چکے ہیں۔ لیکن پچھلی بار جب آسٹریلیا جنوبی افریقہ کے دورے پہ گیا تو پانچ ون ڈے میچوں کی سیریز میں کلین سویپ ہو گیا۔

اس کے فوری بعد جنوبی افریقہ کو تین ٹیسٹ میچوں کے لیے آسٹریلیا کا جوابی دورہ کرنا تھا۔ اس سیریز میں بھی سٹیو سمتھ پہلے دو میچ ہار گئے۔

جب دوسرے میچ میں شکست ہوئی تب آسٹریلیا کے سر پہ مسلسل تیسرے وائٹ واش کا خطرہ منڈلا رہا تھا۔ اس خدشے نے کرکٹ آسٹریلیا کے ایوانوں میں کہرام برپا کر دیا۔ سلیکشن کمیٹی ہی کیا، کوچ، کپتان، مڈل آرڈر، سب پہ انگلیاں اٹھنے لگیں۔ اس کے بعد تبدیلیوں کی ایک لہر سی آئی۔ اس لہر نے آسٹریلیا کو جز وقتی سکون ضرور دیا، لیکن معاملہ ابھی بھی مکمل طور پر سدھرا نہیں ہے۔

آسٹریلیا ابھی تک اس ٹریک پہ واپس نہیں آ پایا جو اس کی وجہِ شہرت ہے۔

آسٹریلیا کے اس سفر کا آغاز ہوا تھا سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش سے۔ اس وائٹ واش سے اب تک آسٹریلیا سنبھل نہیں پایا۔ ایسا لگتا ہے پچھلے ایک سال سے سٹیو سمتھ کی قیادت میں کچھ لوگ اپنی شناخت کی کھوج کو نکلے ہوئے ہیں، اور ابھی تک خود کو پہچان نہیں پائے۔ گو اس بیچ کچھ اچھے مواقع بھی آئے ہیں، انڈیا کے دورے پہ ٹیسٹ سیریز برابر کرنا بہت بڑی کامیابی تھی۔ لیکن بحیثیت مجموعی یہ سفر ابھی تک رائیگاں ہی ہے۔

سری لنکا کے ہاتھوں وائٹ واش سے جو سفر شروع ہوا تھا، اس نے کئی ایک خدشات کو جنم دیا۔ خدشات کے نتیجے میں فوری حل ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی۔ اس جستجو میں آسٹریلوی تھنک ٹینک یہ سمجھ نہیں پایا کہ تجربے اور مہارت کا توازن کس حد تک ضروری ہے۔ نتیجتاً جو نئے چہرے لائے گئے، انھوں نے کسی حد تک نتائج دیے بھی لیکن جتنی تیزی سے یہ تبدیلی آئی، آج انڈیا میں پے درپے ہارتے کینگروز کو دیکھ کر یہ یقین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ اسی ٹیم نے دو سال پہلے ورلڈکپ اٹھایا تھا۔

اس تناظر میں ہمارا لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ جس سری لنکا کے ہاتھوں ایک وائٹ واش نے ورلڈ چیمپیئن کا یہ حال کیا، اسی نے چند روز پہلے چیمپیئنز ٹرافی کی فاتح ٹیم کو کلین سویپ کر دیا۔ لیکن یہ وائٹ واش اس سے مختلف ہے، یوں کہ آسٹریلیا کو انھوں نے اپنے ہوم گراؤنڈز پہ کلین سویپ کیا تھا مگر پاکستان کے قصے میں یہ سانحہ پاکستان کے ہوم گراؤنڈز پہ پیش آیا ہے.

سرفراز مگر پر امید ہیں کہ ون ڈے سکواڈ میں نئے لڑکے آ گئے ہیں جو بہتر نتائج دیں گے۔ اس بیان سے اول تو یہ گمان گزرتا ہے کہ ٹیسٹ ٹیم شاید پرانے بزرگوں پہ مشتمل تھی۔ بہر حال ٹیسٹ تو گزر چکے، فی الوقت صرف دل کو یہ سہارا ہے کہ نئے لڑکے آ گئے ہیں۔

لیکن دماغ کے لیے کڑوی گولی یہ ہے کہ احمد شہزاد بھی نیا لڑکا ہے؟

اس سے بھی زیادہ دقت اس امر میں ہے کہ ماڈرن کرکٹ میں بھی 73 کا سٹرائیک ریٹ رکھنے والا غیر مستقل مزاج پرفارمر ون ڈے کرکٹ میں اوپنر کیسے ہو سکتا ہے۔

اور ان تمام الجھنوں سے بڑی خلش یہ ہے کہ پاکستان ہر ڈیڑھ دو سال بعد گھوم پھر کر دوبارہ انہی آزمائے ہوئے گھوڑوں پہ بازی کیوں لگاتا ہے۔ احمد شہزاد کتنی بار ڈراپ ہوئے اور کیسے کیسے ان کا کم بیک ہوا، صرف یہ یاد کرنے کے لیے کسی ماہر شماریات کی خدمات درکار ہوں گی۔

ہماری نیک تمنائیں ایک بار پھر احمد شہزاد کے ساتھ ہیں مگر سرفراز سے گزارش یہ ہے کہ جناب کوئی بھی نیا لڑکا، کوئی بھی نیا سیٹ اپ تب تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکے گا جب تک تھنک ٹینک کے ذہن میں یہ واضح ہم آہنگی نہیں ہو گی کہ انھیں تجربے اور مہارت کا کون سا تناسب چاہیے جو پاکستان کرکٹ کو آگے لے کر چل سکے۔

پاکستان کے لیے اصل چیلنج اس دورے کے باقی ماندہ آٹھ میچ نہیں ہیں، اصل چیلنج اس چیمپیئنز ٹرافی کے فاتح سکواڈ کو اگلے ورلڈکپ تک پہنچانا ہے۔

ورنہ تین ٹیسٹ ہارنے کے بعد بھی آسٹریلیا اس ٹور کی ون ڈے اور ٹی 20 سیریز تو جیت ہی گیا تھا۔