ہیرتھ کے خلاف جارحانہ حکمت عملی کی ضرورت ہے: مصباح الحق

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ابو ظہبی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم کو سری لنکن سپنر رنگانا ہیرتھ کے خلاف اپنی حکمت عملی تبدیل کرنی ہوگی اور ان کے خلاف جارحانہ کھیل کھیلنا ہوگا۔
یاد رہے کہ رنگانا ہیرتھ نے ابوظہبی ٹیسٹ میں گیارہ وکٹیں حاصل کر کے سری لنکا کی جیت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دوسرا ٹیسٹ میچ جمعے کو دبئی میں شروع ہو گا۔
مصباح الحق نے دبئی میں بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ سیریز سے قبل یہ بات سب کو معلوم تھی کہ رنگانا ہیرتھ پاکستانی ٹیم کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ وہ ایک ایسے بولر ہیں جو دنیا کے تجربہ کار بلے بازوں کے خلاف بھی مشکلات پیدا کردیتے ہیں جبکہ پاکستان کی موجودہ بیٹنگ لائن ابھی تجربہ کار نہیں ہے۔ پاکستانی بلے بازوں کو ان کے خلاف اٹیکنگ کرکٹ کھیلنی ہوگی۔ اگر آپ سوچیں کہ وہ آپ کو خراب گیندیں کریں گے تو یہ بہت مشکل ہے۔
مصباح الحق نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ ٹیم کو ٹیسٹ کرکٹ کے معاملات سمجھنے میں ابھی وقت لگے گا۔ یہ ٹیم باصلاحیت ہے اور انھیں یقین ہے کہ اس میں وقت کے ساتھ ساتھ بہتری آئے گی۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اوپنرز نے اچھی شراکت قائم کی۔
سابق کپتان نے کہا کہ حارث سہیل کی بیٹنگ میں پختگی نظرآئی۔ یاسر شاہ نے بہت ہی عمدہ بولنگ کی۔ ایک سلو وکٹ پر محمد عباس نے اچھی بولنگ کی۔
مصباح الحق نے اظہرعلی اور اسد شفیق کے بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کو درست فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے تجربہ کار بلے باز ہمیشہ اوپر کے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ سرفراز احمد کو بھی پانچویں اور چھٹے نمبر پر کھیلتے ہوئے دیکھنا چاہیں گے جن کی بیٹنگ اوسط چالیس سے اوپر ہے اور وہ سپن بولنگ کو بہت اچھا کھیلتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہLAKRUWAN WANNIARACHCHI
اظہرعلی کو نمبر تین پر کھلانے کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ یونس اور ان کے جانے کے بعد جو جگہ خالی ہوئی ہے اسے ایک تجربہ کار بلے باز سے پُر کیا جائے۔
مصباح الحق نے ابوظہبی ٹیسٹ میں تین فاسٹ بولرز کھلائے جانے کے بارے میں کہا کہ وکٹ پر جس طرح کی گھاس تھی اور پہلی بولنگ پر آپ سوچتے ہیں کہ اس پر سپنر کو زیادہ مدد نہیں ملتی۔ جنوبی افریقہ کے خلاف بھی ابوظہبی میں پاکستان نے تین فاسٹ بولرز کھلائے تھے لیکن امارات میں جیسی بھی کنڈیشن ہو آپ کو دو سپنرز کھلانے ہی ہیں چاہے آپ ٹیم میں تین فاسٹ بولرز بھی رکھیں۔
مصباح الحق نے کہا کہ اس گرم موسم میں جب وکٹ بہت جلد خشک ہوجاتی ہے آپ کو ہر حال میں دوسرے سپنر کی ضرورت پڑتی ہے لیکن پاکستانی ٹیم کا اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ اس کی بیٹنگ نا تجربہ کار ہے لہٰذا وہ پانچ بولرز کے ساتھ اپنا کامبینیشن نہیں بناسکتی۔










