یاسر شاہ کو سانس لینے دیں

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

صبح سویرے میچ دیکھنے کے لیے ٹی وی آن کیا تو محمد حفیظ سکرین پہ دکھائی دیے۔

ابھی میچ شروع نہیں ہوا تھا، سو یہ مناظر ابوظہبی کرکٹ گراونڈ کے نہیں تھے بلکہ حفیظ اسلام آباد کے ایک ٹی وی سٹوڈیو میں تشریف فرما تھے۔ گمان ہوا کہ شاید موصوف نے اچانک ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی ہو اور ہمیں خبر تک نہ ہوئی ہو۔

اس گمان کی تصدیق یا تردید کے لیے خاصی چھان پھٹک کی مگر کہیں سے تصدیق ہو نہ پائی۔ جس وقت آپ یہ سطور پڑھ رہے ہیں، اس وقت تک محمد حفیظ ٹیسٹ کرکٹ میں حاضر سروس ہیں۔ پچھلے سال انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ تک وہ پاکستان ٹیسٹ ٹیم کا حصہ تھے، اس کے بعد انھیں ’ڈراپ‘ کر دیا گیا۔

تب سے یہ پاکستان کی مسلسل پانچویں ٹیسٹ سیریز ہے مگر حفیظ ابھی تک سلیکٹرز کو قائل نہیں کر پائے۔ جب کہ 50 ٹیسٹ میچز میں ان کی بیٹنگ اوسط 40 کے لگ بھگ ہے جب کہ بولنگ اوسط اور اکانومی بلاشبہ قابل رشک ہے۔

ابوظہبی میں پاکستان تین پیسرز اور ایک سپنر کے ساتھ میدان میں اترا۔ کل شام بولنگ کوچ اظہر محمود کہہ رہے تھے کہ ہم نے حالات و واقعات کے مطابق بالکل درست فیصلہ کیا کہ تین پیسرز اور ایک سپنر کے ساتھ میدان میں اترا جائے۔ نیز ان کا یہ بھی فرمانا تھا کہ سپن اور پیس کا یہی تناسب ہماری ’سٹرینتھ‘ ہے۔

اب یہ کون سے حالات و واقعات تھے جو اس فیصلے کی درستی کے لیے سازگار ٹھہرے اور پچھلے چھ سال میں تین پیس اور ایک سپن کا فارمولہ کب کب پاکستان کی ’سٹرینتھ‘ رہا، اس کا ہمیں چنداں علم نہیں۔

فی الوقت ہم سے یہ گتھی نہیں سلجھ رہی کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جن کے نتیجے میں یہ طے کر لیا گیا ہے کہ محمد حفیظ اب پاکستان کے لیے مزید ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیل سکتے۔ کیونکہ بادی النظر میں نہ تو کوئی ایسا مستند آل راؤنڈر ابھر کر آ گیا ہے کہ حفیظ کی ضرورت باقی نہ رہی ہو اور نہ ہی کوئی ایسا تباہ کن فاسٹ بولر سامنے آ چکا ہے کہ سپن کے شعبے کے لیے صرف یاسر شاہ ہی کافی ٹھہرے گا۔

ثانیا حفیظ کو ڈراپ کرنے کے بعد سے پاکستان مسلسل تجربات کر رہا ہے۔ سب سے پہلے نواز کو لایا گیا کہ وہ آل راؤنڈ کردار ادا کریں گے مگر دو سیریز بعد ہی تھنک ٹینک کو خیال آیا کہ وہ فیصلہ درست نہیں تھا۔ پھر ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے لیے شاداب خان کو موقع دیا گیا۔ مگر ایک ہی میچ کھلانے کے بعد تھنک ٹینک کو پھر یہ خیال آیا کہ شاداب ابھی ٹیسٹ کرکٹ کے لیے موزوں نہیں ہیں۔

حالیہ سیریز کے لیے حارث سہیل سے اسی کردار کی توقع باندھی گئی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اس میں کامیاب ٹھہریں لیکن ساتھ ہی ساتھ ایک چیز ایسی ہے جو غیر محسوس انداز میں پاکستان کو مسلسل زک پہنچا رہی ہے۔

ڈیبیو سے اب تک یاسر شاہ 26 ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ ابوظہبی میں جاری میچ ان کے کریئر کا 27واں میچ ہے، جس میں انھوں نے اپنے کریئر کی 150 ویں وکٹ حاصل کر کے تیز ترین 150 وکٹوں کا ریکارڈ بھی اپنے نام کیا۔ یاسر شاہ میں وہ تمام گن موجود ہیں کہ آج سے دس سال بعد وہ پاکستان کے کامیاب ترین سپنر اور شاید سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹیں لینے والے بولر ہوں۔

لیکن کیا کسی نے غور بھی کیا ہے کہ تھنک ٹینک کے تجربات کا یاسر شاہ پہ کیا اثر پڑ رہا ہے؟

ابوظہبی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں یاسر شاہ نے 57 اوورز پھینکے۔ یاد رہے ابھی میچ کی دوسری اننگز باقی ہے۔ اس سے پہلے ڈومنیکا میں بھی انھیں 57 اوورز پھینکنا پڑے تھے۔

بظاہر دیکھا جائے تو سپنر کے لیے یہ کوئی غیر معمولی ورک لوڈ نہیں ہے۔ مرلی دھرن ایک دن میں 40 اوورز بھی پھینک لیا کرتے تھے لیکن ایسا شاذ ہی ہوا کرتا تھا۔ یاسر کے مقابلے میں شین وارن کے کیریئر کو دیکھا جائے تو وارن فی میچ لگ بھگ 44 اوورز پھینکا کرتے تھے جب کہ کل کے 57 اوورز کے علاوہ یاسر اب تک فی میچ 54 اوورز پھینک چکے ہیں۔

ہم سب آگاہ ہیں کہ پچھلے ایک سال سے یاسر مختلف فٹنس مسائل کا شکار ہیں، ایک بار غلطی سے ممنوع دوائیں بھی کھا بیٹھے، آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں اپنے کیریئر کے بدترین اعداد بھی دیکھ چکے، حتیٰ کہ حالیہ سیریز سے قبل سکواڈ کا اعلان صرف اسی لیے موخر کیا جاتا رہا کہ یاسر شاہ کی فٹنس کی تصدیق ہو سکے۔

اور ان حالات کے بعد جب یاسر شاہ میدان میں اترتے ہیں تو ابوظہبی کی چلچلاتی دھوپ میں ان سے 57 اوورز پھینکوائے جاتے ہیں۔ جب کہ پارٹ ٹائم آپشن اظہر علی سے ایک بھی اوور نہیں کروایا جاتا اور جب 57 اوورز پھینک کر وہ ڈریسنگ روم پلٹتے ہیں تو انہی کے بولنگ کوچ یہ فرماتے پائے جاتے ہیں کہ اس وکٹ پہ ایک ریگولر سپنر ہی کافی تھا۔ بھئی اگر ایک سپنر ہی کافی تھا تو 57 اوورز کسی فاسٹ بولر سے کروا لیتے۔

اور ستم ظریفی یہ ہے کہ پچھلے چھ سال میں ہوم گراونڈز پہ ناقابل شکست رہنے والی ٹیم نے کبھی بھی صرف ایک سپنر پہ اکتفا نہیں کیا تھا، ہمیشہ دو ریگولر سپنرز کھلائے جاتے تھے۔ تھنک ٹینک سے دست بستہ عرض ہے کہ حضور! ٹیم کو ینگ بنانے کی کوششیں ضرور جاری رکھیے مگر یہ مت بھولیے کہ یاسر شاہ لمبی ریس کے گھوڑے ہیں اور اگر ان کا ہاتھ بٹانے کو اور کوئی آل راؤنڈر نہیں مل رہا تو50 ٹیسٹ کا تجربہ اور یو اے ای کی وکٹس پہ بہترین ریکارڈ رکھنے والے حفیظ میں کیا برائی ہے؟