آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کرکٹ کے قوانین میں تبدیلیاں، خراب رویے پر ریڈ کارڈ
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے اعلامیے کے مطابق کرکٹ کے قوانین میں 28 ستمبر سے چند تبدیلیاں لاگو ہوں گی جن میں کھلاڑیوں کو ریڈ کارڈ دکھائے جانے اور بلے کے حجم میں مسابقت رکھنے جیسے نئے ضوابط شامل ہوں گے۔
یہ نئے ضوابط پاکستان بمقابلہ سری لنکا اور جنوبی افریقہ بمقابلہ بنگلہ دیش کے درمیان کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں لاگو ہوں گے۔
اعلامیہ کے مطابق اب میدان میں کھلاڑیوں کو خراب رویے پر ریڈ کارڈ دکھا کر میچ سے باہر کیا جا سکتا ہے۔ ایسا اس صورت میں ہوگا اگر کھلاڑی امپائر کو دھمکائیں، امپائر یا ساتھی کھلاڑی پر جان بوجھ کر حملہ کریں یا کوئی بھی ایسا کام کریں جس سے جانی نقصان کا خطرہ ہو۔
اس کے علاوہ ایک اہم تبدیلی بلے کے سائز کے بارے میں کی گئی ہے جس کے مطابق اب بلے کے سروں کی موٹائی 40 ملی میٹر سے تجاوز نہیں کر سکتی جبکہ بلے کے مرکزی حصے کی موٹائی 67 ملی میٹر سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔
امپائرز کو اب بلے کا سائز ناپنے کے لیے ایک نیا آلہ دیا جائے گا جس کی مدد سے وہ یہ دیکھ سکیں گے کہ آیا بلا اس حجم کے مطابق ہے یا نہیں۔
اس کے علاوہ ڈی آر آیس کے قانون میں ایک تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ اگر فیصلہ 'امپائرز کال' پر جائے گا تو ڈی آر آیس مانگنے والی ٹیم کا ریویو ضائع نہیں ہوگا۔
لیکن دوسری جانب اب ٹیسٹ میچوں میں 80 اوورز کے بعد واپس ملنے والے ڈی آر ایس ریویوز نہیں ملیں گے۔ اس کے علاوہ ڈی آر ایس اب ٹی ٹوئنٹی میچوں میں بھی استعمال کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان نئے ضوابط میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر بلے باز رن لیتے ہوئے اپنا بلا کریز میں رکھ دیں لیکن اس کے بعد خود پر قابو نہ رکھ پائیں اور ان کا بلا کریز سے اٹھ جائے تو گیند وکٹوں پر لگنے کے باوجود وہ آْؤٹ نہیں قرار پائیں گے۔
دوسری جانب اب فیلڈر یا کیپر بلے باز کے شاٹ کو اپنے ہیلمیٹ سے لگنے کے بعد بھی پکڑ لیں تو بلے باز آؤٹ قرار پائے گا۔