آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
یوسین بولٹ نے جمیکا میں اپنی آخری 100میٹر ریس جیت لی
جمیکا کے عالمی شہرت یافتہ ایتھلیٹ یوسین بولٹ نے اپنے وطن میں منعقد ہونے والی 100 میٹر کی ریس کا اپنا آخری مقابلہ جیت لیا ہے۔
ریس جیتنے کے بعد سٹیڈیم میں بڑے ہی جذباتی انداز میں انھوں نے لوگوں کو الوداع کہا اور مداحوں کا شکریہ ادا کیا۔
اولمپک میں آٹھ بار گولڈ میڈل جیتنے والے بولٹ نے جمیکا میں ہونے والی ’سیلیوٹ لیجنڈ‘ ریس کو آسانی سے جیتا لیکن اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ وہ پہلی بار نروس بھی محسوس کر رہے تھے۔
انھوں نے کہا: ’دوڑ بس ٹھیک ہی تھی۔ مجھے کہنا ہوگا کہ بس ٹھیک تھی۔ مجھے نہیں لگتا کہ میں اس سے پہلے کبھی بھی اس قدر 100 میٹر کی دوڑ کے لیے اتنا نروس ہوا ہوں گا۔‘
بولٹ نے یہ ریس 03۔10 سیکنڈ میں مکمل کی۔ مقابلے سے قبل وہاں پر موجود لوگوں نے ان کا زبردست خیرمقدم کیا، بہت سے نوجوانوں نے جوش میں ملک کا پرچم لہرایا تو بہتوں نے رقص کیا۔
30 سالہ یوسین بولٹ لندن میں ورلڈ چیمپیئن شپ کے بعد اگست میں اپنے شاندار کریئر کو خیرباد کہنے والے ہیں جہاں کنگسٹن میں 30 ہزارسے زیادہ مداح ان کے استقبال کے لیے موجود ہوں گے۔
جیت کے بعد یوسین بولٹ نے کہا کہ یہ شاید ان کی سب سے خراب جیت رہی ہو تاہم اس سے زیادہ انھیں اس بات کی تشویش تھی کہ وہ زخمی ہونے سے بچے رہیں۔
ان کا کہنا تھا: ’میں سبھی کا آپ کی برسوں سے حمایت کے لیے شکرگزار ہوں۔ لوگوں کی حمایت اور زبردست ماحول، جو حمایت انھوں نے دی اور ظاہر کی وہ سب اعصاب پر چھا جانے والی تھی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس موقع پر جمیکا کے وزیر اعظم اینڈریو ہولنیس اور انٹرنیشنل ایسو سی ایشن آف ایتھلیٹکس فیڈریشن کے صدر سبیسٹن کو بھی وہاں پر موجود تھے۔
بولٹ نے کہا: ’یہ بڑی بات ہے کہ سبھی لوگ یہاں پر پہنچے۔ یہ اس بات کا مظہر ہے کہ کھیل کے میدان میں میں نے جو کچھ بھی کیا ہے وہ ان کے لیے بہت اہم ہے اور وہ اس سے کافی خوش ہیں۔‘
بولٹ نے 2008 میں بیجنگ اولمپیکس، سنہ 2012 میں لندن اولمپکس اور سنہ 2016 میں ریو اولمپک میں مسلسل 100 میٹر، 200 میٹر اور 4x100 میٹر میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔