آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کشمیر کی روبیہ دھونی کی طرح کھیلنا چاہتی ہیں
- مصنف, ماجد جہانگیر
- عہدہ, صحافی، سرینگر
وہ انڈیا کے سابق کرکٹ کپتان مہندر سنگھ دھونی کی مداح ہیں اور انھی کی طرح چھکے لگانا چاہتی ہیں۔
21 سالہ روبیہ سعید ہیں جو کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں بڈسگام گاؤں کی رہنے والی ہیں اور دھونی کا ہیلی کاپٹر شاٹ ان کا پسندیدہ ہے۔
حال ہی میں انھوں نے بی سی سی آئی کی جانب سے منعقدہ قومی زون ٹورنامنٹ میں شرکت کی تھی۔
ممبئی میں کھیلے جانے والے اس ٹورنامنٹ میں شمالی انڈیا سے روبيہ سعید کو کھیلنے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔
روبيہ کشمیر کی خواتین کی انڈر -23 ٹیم کی کپتان بھی شامل ہیں۔
وہ انڈیا کی کرکٹ ٹیم میں شامل ہونا چاہتی ہیں اور بہترین کار کردگی کا مظاہرہ کرنا چاہتی ہیں۔
روبيہ بہت سے ٹورنامنٹس میں حصہ شرکت کر چکی ہیں جیسے امرتسر میں منعقدہ ویمن انڈر -23، 2016 میں منعقدہ ٹی -20 سینیئر ویمن ٹورنامنٹ اور سنہ 2015 میں رانچی میں منعقدہ ٹی -20 ٹورنامنٹ وغیرہ۔
روبيہ نے کرکٹ کھیلنے کی ابتدا اپنے گاؤں کے لڑکوں کے ساتھ کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بتاتا: ’میں اس وقت بہت چھوٹی تھی، آٹھ یا نو سال کی۔ مجھ پر ہر وقت کرکٹ کھیلنے کا جنون طاری رہتا۔ ہمارے گاؤں میں لڑکے کھیلتے تھے تو میں بھی ان کے ساتھ جاتی اور کھیلتی تھی۔ لڑکے کی ٹیم جب ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں میں کھیلنے جاتی تو مجھے بھی ساتھ لے جاتی تھی۔
’میں ہر میچ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی۔ اسی وجہ مجھ میں ایک قسم کا اعتماد پیدا ہوا کہ میں بھی کچھ بہتر کر سکتی ہوں۔ پھر آہستہ آہستہ میں نے سکول کی سطح پر كھیلنا شروع کیا۔ سنہ 2011 میں مجھے پہلی بار رانچی میں کھیلنے کا موقع ملا۔‘
لڑکوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنے پر روبيہ نے کہا: ’مجھے کبھی اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ میں لڑکوں کے ساتھ کھیلتی ہوں۔
’ہر جگہ دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ کوئی حوصلہ بڑھاتا ہے تو کوئی توڑتا ہے۔ لیکن میرے گاؤں میں مجھے ہمیشہ پیار ملا۔ کبھی میں نے یہ نہیں سوچا کہ کون کیا کہہ رہا ہے۔‘
یہاں تک کا سفر روبيہ کے لیے بہت آسان بھی نہیں تھا۔
ان کے والد پیشے سے درزی ہیں۔ انھیں ہر وقت پیسوں کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
روبيہ کہتی ہیں: ’ایک بار ہمارے سر نے ہمیں فون کرکے سرینگر بلایا۔ وہاں رانچی میں ہونے والے ایک ٹورنامنٹ کے لیے سلیکشن ہونا تھی۔ ہم تین چار دوست تھے اور ہمارے پاس کل 30 روپے تھے۔ گاڑی کا کرایہ 40 روپے تھا۔ ہم پھر ریل میں گئے۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ ہم نے کئی جگہوں پر ٹکٹ بھی نہیں لیا۔‘
روبيہ نے بیٹنگ اور بولنگ دونوں ہی شعبوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
اس وقت روبيا 12 ویں کلاس میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔
روبيا کے ساتھ کھیلنے والے ان کے گاؤں کے لڑکے اس بات پر فخر محسوس کر رہے ہیں کہ ان کے گاؤں کی لڑکی قومی سطح پر کھیل رہی ہے جو کبھی ان کے ساتھ ٹوٹے پھوٹے لکڑی کے بیٹ سے کھیلتی تھی۔
گاؤں کے رہنے والے عارف شیخ کہتے ہیں: ’ہم بہت چھوٹے تھے۔ سکول سے آتے ہی روبيہ لڑکوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنے لگتی تھی۔ کبھی ایسا نہیں لگا کہ کوئی لڑکی ہمارے ساتھ کھیل رہی ہے۔ ہمیں بہت اچھا لگتا تھا۔ آج جب وہ آگے بڑھ گئی ہے تو اور بھی خوشی ہوتی ہے۔ جب بھی روبيہ کہتی تھی کہ ہم بھی کرکٹ کھیلیں گے تو ہم کبھی انکار نہیں کرتے تھے۔‘
روبيا کے والد 58 سالہ غلام قادر شیخ بیٹی کے بچپن کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’روبيہ گھر میں بہت ہی کم بیٹھتی تھی۔ جب دیکھو وہ لکڑی توڑتی اور اس کا بلا بناتی۔ ہم کبھی کبھی یہ سمجھانے کی کوشش کرتے تھے کہ زیادہ گھر سے باہر مت رہا کرو، لیکن وہ اپنی دنیا میں گم رہتی تھی۔ کھیتوں میں کام کرنے لے جاتے تھے تو وہ کام چھوڑ کر سرینگر کرکٹ کھیلنے پہنچ جاتی تھی۔‘
غلام قادر بتاتے ہیں کہ ان کے پاس اتنا پیسہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کی ضروریات کو پورا کر سکتے تھے۔
روبيہ کے گاؤں میں آج بھی کرکٹ کھیلنے کے لیے کوئی گراؤنڈ نہیں ہے۔
روبيہ کی ماں ہاجرہ بیگم اپنی بیٹی کو بین الاقوامی کرکٹ کھیلتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہیں۔
روبيا کے کوچ اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ روبيہ تمام مشکلوں کا سامنا کرتے ہوئے کرکٹ کھیلنے سرینگر آتی تھی۔