'دھوکے باز شراپووا کو دوبارہ کھیلنے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے'

ومبلڈن 2014 کا فائنل کھیلنے والی کینیڈا کی ٹینس کھلاڑی یوجین بوشارڈ کا کہنا ہے کہ ماریا شراپووا جیسی 'دھوکے باز' کھلاڑی کو دوبارہ کھیلنے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے تھی۔

ماریا شرواپووا نے ممنوعہ ادویات کے استعمال کے جرم میں 15 ماہ کی پابندی گزاری ہے۔ اپنی واپسی پر انھوں نے روبیترا ونچی اور ایکترینا میکروا جیسی کھلاڑیوں کو سٹٹگارٹ اوپن مقابلوں میں شکست دی ہے۔

اکتوبر میں بین الاقوامی کھیلوں سے متعلق ثالثی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ شراپووا 'عالمی ڈوپر' نہیں، یعنی انھوں نے عالمی سطح کےمقابلوں میں ممنوعہ ادویات کا استعمال نہیں کیا ہے۔

لیکن یوجینی بوشارڈ کا کہنا تھا 'وہ دھوکے باز ہیں اور میں نہیں سمجھتی کہ دھوکہ دینے والے شخص کو کسی بھی کھیل میں دوبارہ اجازت ملنی چاہیے۔'

23 سالہ بوشارڈ اس وقت عالمی سطح پر59 رینک کی کھلاڑي ہیں۔ انھوں نے ٹی آر ٹی ورلڈ کو بتایا 'میں سوچتی ہوں کہ ورلڈ ٹینس ایسوسی ایشن کی جانب سے نوجوان بچوں کو غلط پیغام جاتا ہے کہ دھوکہ کرو اور ہم پھر سے آپ کا خیر مقدم کریں گے۔'

ان کا مزید کہنا تھا ’میرے خیال سے یہ صحیح نہیں ہے اور وہ میرے لیے اب کوئی ایسی شخصیت نہیں رہیں کہ ان سے ترغیب مل سکے۔ یہ بہت سے ان کھلاڑیوں کے ساتھ ناانصافی ہے جو درست طریقہ اپناتے ہیں اور سچائی پر ہیں۔‘

دوسری جانب جب شراپووا سے ان کی میکروا کے خلاف جیت کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا ’مجھے کچھ بھی کہنا نہیں ہے، میں ان اس سب سے کافی اوپر ہوں۔‘

پانچ مرتبہ گرینڈ سلیم جیتنے والی شرپووا کو مارچ 2016 میں ممنوعہ ادویات کے استعمال کے الزام کے بعد معطل کر دیا گيا تھا اور اس ٹورنامنٹ کے لیے انھیں وائلڈ کارڈ دیا گيا تھا۔

شراپووا کو میڈرڈ اور روم کے لیے بھی وائلڈ کارڈ موصول ہوا ہے اور فرینچ اوپن کے لیے بھی وہ وائلڈ کارڈ حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔

شراپووا کا کہنا ہے کہ اگر انھیں اس برس کے فرینچ اور ومبلڈن مقابلوں میں کھلنا ہے تو پھر انھیں جونیئر کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنا ہوگا۔

ماریہ شراپووا نے 17 برس کی عمر میں اپنا پہلا گرینڈ سلام 2004 میں جیتا تھا جبکہ آخری گرانڈ سلیم فرینچ اوپن 2014 میں جیتا تھا۔