محمد عرفان اور شاہ زیب حسن کی اینٹی کرپشن یونٹ میں طلبی

پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن یونٹ نے فاسٹ بولر محمد عرفان اور بیٹسمین شاہ زیب حسن کو پی ایس ایل کرپشن سکینڈل کے معاملے میں طلب کر لیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر میڈیا امجد حسین نے بتایا کہ محمد عرفان کو آئندہ پیر کو طلب کیا گیا ہے جبکہ شاہ زیب حسن منگل کے روز اینٹی کرپشن یونٹ کے سامنے پیش ہوں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق امجد حسین کا کہنا تھا کہ دونوں کھلاڑیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ان کے پاس موجود تمام تر تفصیلات اور معلومات سے اینٹی کرپشن یونٹ کو آگاہ کریں۔

اگر یہ دونوں قصور وار پائے گئے تو انھیں باضابطہ طور پر اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ میں محمد عرفان نے اسلام آباد یونائٹڈ کی نمائندگی کی تھی جبکہ شاہ زیب کراچی کنگز کی ٹیم میں شامل تھے۔

شاہ زیب حسن کے بارے میں کراچی کنگز کے مالک سلمان اقبال نے کہا تھا کہ ان کو کلیئر کر دیا گیا ہے جبکہ محمد عرفان کے بارے میں بھی پہلے یہی بتایا گیا تھا کہ وہ بھی کلیئر کر دیے گئے ہیں تاہم بعد میں بتایا گیا کہ وہ کلیئر نہیں ہوئے ہیں اور ان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے کرپشن اسکینڈل کے معاملے پر تین رکنی ٹریبونل بھی تشکیل دیا ہے لیکن ابھی تک اس بارے میں نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا ہے ۔نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد ہی ٹریبونل اپنا کام شروع کرے گا۔

دوسری جانب پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کے دوران بعض کھلاڑیوں کے مبینہ طور پر سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے حوالے سے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی ابتدائی رپورٹ وزیر داخلہ کو پیش کر دی گئی ہے۔

وزارت داخلہ کے مطابق جمعے کو ایف آئی اے کی جانب سے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو پیش کی جانے والی ابتدائی رپورٹ میں پی ایس ایل کے دوران سپاٹ فکسنگ کی روک تھام کے حوالے سے کیے گئے اقدامات اور کھلاڑیوں کے ملوث ہونے کے امکان سے متعلق اہم نکات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ایف آئی اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے مہیا کردہ معلومات اور موجود شواہد کا فرانزک جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد ہی ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے گا۔

خیال رہے کہ پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کے پہلے ہی روز شرجیل خان اور خالد لطیف کے مبینہ طور پر مشکوک افراد سے رابطے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے انھیں معطل کر دیا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بکیز سے روابط کے الزام میں شرجیل خان اور خالد لطیف کو معطل کرنے کے بعد اگلے ہی روز وطن واپس بھیج دیا تھا۔

ایف آئی اے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’کھلاڑیوں کے موبائل فونز سے پیغامات ڈیلیٹ کیے جانے کے معاملے کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اس بات کی تحقیقات کی جاسکیں کہ کن کھلاڑیوں کا بکیوں سے رابطہ تھا اور ان کے درمیان کیا معاملات طے پائے تھے۔‘

اس ابتدائی رپورٹ پر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ محض چند کرکٹرز کے ذاتی فعل اور بد عنوانی کا ہی نہیں بلکہ ایسی خبروں سے ملک کی نیک نامی متاثر ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس مسئلے کی مفصل اور ہر زاویے سے تحقیقات ضروری ہیں۔‘

وفاقی وزیر نے ایف آئی اے کو تحقیقات جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی کہا کہ وہ کسی دباؤ یا اثر و رسوخ سے متاثر ہوئے بغیر معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے۔