آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جنوبی افریقہ ون ڈے میں ورلڈ نمبر ون
جنوبی افریقہ نے سری لنکا کے خلاف پانچویں ون ڈے میں 88 رنز کی واضح کامیابی کے ساتھ نہ صرف سیریز صفر کے مقابلے پانچ سے جیتنے میں کامیاب ہوئی بلکہ وہ ون ڈے کی نمبر ون ٹیم ہو گئی ہے۔
اس نے واضح طور پر آسٹریلیا سے ایک پوائنٹ زیادہ حاصل کر لیا ہے اور اب وہ سر فہرست ہے۔
جعمے اور سنیچر کی شب کھیلے جانے والے میچ میں کامیابی کے ساتھ اس نے لگاتار 11 میچوں میں کامیابی حاصل کی اور یہ چوتھا موقع ہے جب کسی ٹیم نے 11 سے زیادہ مرتبہ لگاتار میچز میں کامیابی حاصل کی ہو۔
اس سے قبل آسٹریلیا نے سنہ 2003 میں 21 میچز میں لگاتار کامیابی حاصل کی تھی جبکہ جنوبی افریقہ اور پاکستان نے 12 میچز مسلسل جیت کر اہم کارنامہ انجام دیا تھا۔
سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا لیکن ان کا یہ فیصلہ بالکل درست ثابت نہ ہو سکتا کیونکہ دونوں اوپنرز ہاشم آملہ اور ڈی کاک نے سنچریاں سکور کیں۔
جنوبی افریقہ نے 384 رنز بناکر ایک مشکل ہدف دیا جس کے جواب میں سری لنکا ٹیم ایک بار پھر ناکام ہو گئی تاہم گنارتنے نے قدرے مزاحمت کی اور 114 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔
جنوبی افریقہ کی ٹیم اب ون ڈے میں سب سے زیادہ 24 بار 350 رنز سے زیادہ سکور کر چکی ہے جبکہ اس سے قبل انڈیا 23 بار اس ہندسے کو پار کر چکی ہے جبکہ آسٹریلیا نے 18 بار یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہاشم آملہ اور ڈی کاک کے لیے سنچورین کا میدان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پانچویں میچ میں ہاشم آملہ نے اس میدان پر اپنی پانچویں سنچری بنائی تو ڈی کاک نے چھ میچوں میں اپنی چوتھی سنچری سکور کی۔
ہاشم آملہ کو ان کے 154 رنز کی اننگز کے لیے مین آف دا میچ قرار دیا گیا جبکہ فاف ڈوپلیسی کو مین آف دا سیریز قرار دیا گیا۔