آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایک عہد ختم ہو سکتا ہے
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
کیا یہ نو آموز سمتھ الیون اس تجربہ کار مصباح الیون کو ہرا سکتی ہے؟
کیا مسلسل تین ٹیسٹ ہارنے والی ٹیم پاکستان، آسٹریلیا کو اس کے گھر میں ہرا کر تاریخ رقم کر سکتی ہے؟
کیا یاسر شاہ وہ کر سکتے ہیں جو مشتاق احمد نے 1995 میں کیا تھا یا ان کا وہی حال ہو گا جو 1983 میں عبدالقادر کا ہوا تھا؟
کیا آسٹریلیا کے بائیں ہاتھ کے بلے باز پاکستانی بائیں بازو کی پیس کا مقابلہ کر پائیں گے؟
کیا پاکستان کیویز کے ہاتھوں دھول چاٹنے کے بعد آسٹریلین کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہو پائے گا؟
کیا کوچ مکی آرتھر آسٹریلیا سے اس ذاتی ہزیمت کا بدلہ لے پائیں گے جو انھیں 2013 میں اچانک آسٹریلوی کوچنگ سے برطرفی پہ اٹھانا پڑی تھی؟
ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ ایک ٹیسٹ سیریز میں اتنا کچھ داؤ پہ لگا ہو جتنا اب کی بار پاک آسٹریلیا سیریز میں دکھائی دے رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ویسے تو گھر کا شیر ہونا کوئی خوبی نہیں ہے مگر گذشتہ چند سال میں ٹیسٹ کرکٹ نے اپنا ووٹ ہمیشہ گھر کے شیروں کے حق میں ہی دیا ہے۔ خواہ وہ انڈیا میں ہارتی کک الیون ہو یا یو اے ای میں وائٹ واش ہوئی کلارک الیون اور سٹراس الیون۔
مستثنیات اپنی جگہ، مگر کیا یہ ممکن تھا کہ کین ولیمسن کی یہ ٹیم یو اے ای میں ایک بھی ٹیسٹ جیت پاتی جس نے اپنی کنڈیشنز میں پاکستان کو کلین سویپ کر دیا؟
اس سیریز میں مدمقابل پاکستان اور آسٹریلیا، دونوں اسی سال رینکنگ میں نمبرون رہ چکے ہیں۔ مگر اس وقت دونوں ٹیموں کی فارم ایک سی ہی ہے۔
پاکستان کو نمبرون ہوئے جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہ گزرے تھے کہ وہ شارجہ میں آٹھویں نمبر کی ویسٹ انڈیز سے ایک ٹیسٹ میچ ہار گئے۔ پھر چھٹے نمبر کی نیوزی لینڈ سے دونوں ٹیسٹ ہار گئے۔ پاکستان کو نمبرون پہ پہنچانے والے دو بنیادی کردار مصباح اور یونس دونوں آوٹ آف فارم دکھائی دیے۔
پاکستانی بولنگ بھی نیوزی لینڈ میں بالکل بے یارو مددگار نظر آئی۔ یاسر شاہ کی انجری اور آسٹریلین کنڈیشنز میں افادیت اپنی جگہ ایک سوالیہ نشان ہے۔
ادھر آسٹریلوی کرکٹ نے گذشتہ تین ماہ میں مسلسل ایک ہی بھیانک خواب بار بار دیکھا ہے۔ سری لنکا میں ایک نو آموز ٹیم کے ہاتھوں رسوائی ایک طرف، اپنے ہوم گراونڈ میں افریقہ کے خلاف شکست نے تو ٹیم کا شیرازہ ہی بکھیر دیا۔ ایک ساتھ اتنی تبدیلیاں، چیف سلیکٹر کو فارغ کر دیا گیا، نئے چہروں کو فارغ کر کے مزید نئے چہرے ٹیم میں لائے گئے، سٹیو سمتھ کی کپتانی پہ پے درپے سوالات اٹھائے گئے۔
سو دونوں ٹیموں نے گذشتہ چند ہفتوں میں برا وقت ہی دیکھا ہے۔ آسٹریلیا نے بہرحال ایڈیلیڈ میں جیتنے کے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں اپنا اعتماد بحال تو کیا، مگر ٹیسٹ کرکٹ میں اس اعتماد کو برقرار رکھ پانا مختلف چیلنج ہو گا۔
اس میں شبہ نہیں کی پاکستان کی یہ ٹیم بہرحال آسٹریلیا سے زیادہ تجربہ کار اور مستحکم یونٹ ہے لیکن پاکستان کے لئے بھی چیلنج کوئی ایک نہیں ہے۔
بولنگ اٹیک کے مسائل پہ تو بہت کچھ کہا جا چکا مگر گدشتہ تینوں میچز میں بیٹنگ نے بھی کافی مایوس کیا ہے۔ مسلسل تین ٹیسٹ میچ ہارنے کے بعد پاکستانی بلے بازوں کو ابھی تک اعتماد کی بحالی کا موقع بھی نہیں مل پایا۔ وارم اپ میچ میں بھی پاکستانی بلے باز مسائل کا شکار دکھائی دیے۔
لیکن سب سے بڑا چیلنج جو پاکستان کو درپیش ہے، وہ ہے مصباح کی کپتانی۔ مصباح کی فلاسفی رنز روک کر وکٹیں پیدا کرنا ہے۔ یہ طریقہ یو اے ای کے بعد ہمیں انگلینڈ میں بھی کسی حد تک موثر نظر آیا مگر نیوزی لینڈ میں یہ فلاسفی کارگر ثابت نہ ہو سکی کیونکہ یاسر شاہ کی عدم موجودگی میں پاکستانی بولنگ اتنا ڈسپلن نہ دکھا سکی جتنا اس فلاسفی پہ عمل پیرا ہونے کو درکار رہتا ہے۔
اب یہ تو ممکن نہیں کہ ایک سیریز کے لئے مصباح اپنی اپروچ یکسر بدل لیں۔ ویسے بھی مسئلہ اپروچ میں نہیں، اس پہ عمل درآمد میں ہے۔ سو یہ تو طے ہے کہ پاکستان آسٹریلیا کے خلاف آسٹریلیا جیسی کرکٹ نہیں کھیلے گا بلکہ اپنے برانڈ کی کرکٹ ہی کھیلے گا یعنی بیٹنگ میں وکٹ پہ رکنا اور بولنگ میں رنز روکنا۔
لیکن آسٹریلیا کی باونسی وکٹوں پہ خود رکنا اور پھر ان کے رنز روکنا، ایک نہایت مشکل کام ہو گا۔ اس کے لئے مصباح جیسی اپروچ اور راحت علی جیسے ڈسپلن پر میکانکی انداز میں عمل کی ضرورت ہو گی۔ بیٹنگ میں پھر بھی یونس اور مصباح کی موجودگی حوصلہ کن ہے لیکن بولنگ میں سارا بوجھ یاسر شاہ پہ ڈالنا زیادتی ہو گی۔
گو یہ کار دشوار ہے لیکن اگر پاکستانی بولرز نے یہ پہاڑ سر کر لیا تو ٹیسٹ کرکٹ میں آسٹریلیا کی پاکستان پہ تاریخی برتری ختم ہو سکتی ہے اور ایک عہد ختم ہو سکتا ہے۔