شارجہ میں بریتھ ویٹ پاکستانی بولرز کی راہ میں حائل، ویسٹ انڈیز کا خسارہ 37 رنز

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، شارجہ

کریگ بریتھ ویٹ کی ذمہ دارانہ بیٹنگ کے نتیجے میں ویسٹ انڈیز نے شارجہ ٹیسٹ کے دوسرے دن کھیل کے اختتام پر چھ وکٹوں پر 244 رنز بنانے میں کامیاب رہی۔

جب کھیل ختم ہوا تو بریتھ ویٹ دس چوکوں کی مدد سے 95 رنز کی عمدہ اننگز کھیلتے ہوئے ناٹ آؤٹ تھے اور کپتان جیسن ہولڈر چھ رنز بناکر ان کے ساتھ کریز پر موجود تھے۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم پاکستان کے سکور سے صرف 37 رنز پیچھے رہ گئی ہے اور اس کی ابھی چار وکٹیں باقی ہیں۔

پاکستانی ٹیم دوسرے دن پہلے سیشن میں اپنےگذشتہ روز کے سکور میں 26 رنز کا اضافہ کرنے کے بعد 281 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔

کم سکور پر آؤٹ ہونے کے بعد پاکستانی ٹیم کے لیے بہت ضروری ہوگیا تھا کہ وہ ویسٹ انڈیز کو بڑے سکور تک پہنچنے نہ دے لیکن وہ اس میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکی۔

ویسٹ انڈیز کی پہلی وکٹ صرف چھ کے سکور پر گری جب وہاب ریاض نے لیون جانسن کو ایل بی ڈبلیو کردیا جو صرف ایک رن بنا سکے۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے خود کو اس وقت شدید مشکل صورتحال میں پایا جب اسے جلد ہی ڈیرن براوو اور مارلن سیموئلز کی وکٹوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑا ۔

ڈیرن براوو کی وکٹ ذوالفقار بابر نے حاصل کی لیکن اس کے لیے وہ محمد عامر کے شکرگزار تھے جنھوں نے کور پوزیشن پر ڈائیو لگا کر شاندار کیچ لیا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ محمد عامر کا اپنے ٹیسٹ کریئر میں پہلا کیچ تھا اور یہ ٹیسٹ ان کے کریئر کا 20واں ٹیسٹ ہے۔

ڈیرن براوو 11 رنز بناکر پویلین لوٹے تو ویسٹ انڈیز کا سکور دو وکٹوں پر 32 رنز تھا لیکن 38 کے سکور پر سیموئلز کی وکٹ بھی گرگئی جو بغیر کوئی رن بنائے یاسر شاہ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔

کھانے کے وقفے کے بعد محمد عامر بلیک وڈ کو پویلین کی راہ دکھانے میں کامیاب ہوگئے جن کا 23 کے انفرادی سکور پر اسد شفیق نے کیچ لیا۔ ویسٹ انڈیز کی یہ چوتھی وکٹ 68 رنز پر گری ۔

کریگ بریتھ ویٹ اور روسٹن چیز نے پانچویں وکٹ کی شراکت میں 83 رنز کا اضافہ کیا۔

یہ شراکت بھی محمد عامر نے توڑی جب چیز چھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 50 رنز بنا کر سلپ میں یونس خان کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔

اس موقع پر کریگ بریتھ ویٹ کو شین ڈورچ کی شکل میں ایک اور قابل بھروسہ ساتھی مل گیا جن کے ساتھ وہ چھٹی وکٹ کی شراکت میں بھی 83 رنز کا اضافہ کرنے میں کامیاب رہے۔

شین ڈورچ کی قسمت نے بھی ان کا خوب ساتھ دیا۔

پہلے 15 کے سکور پر وہاب ریاض کی گیند پر وہ اسد شفیق کے ہاتھوں کیچ ہوگئے تھے لیکن وہ گیند نوبال ہوگئی۔

اس سیریز میں وہاب ریاض کی نو بالز کی تعداد پندرہ ہوگئی ہے۔

اس کے بعد 21 کے سکور پر وہ اظہر علی کی گیند سلپ میں یونس خان کے ہاتھوں کیچ ہونے سے بچ گئے تاہم انھیں 47 رنز پر وہاب ریاض نے بولڈ کر دیا۔

ویسٹ انڈیز کی چھٹی وکٹ 234 رنز پر گری ۔

پاکستان کی طرف سے محمد عامر اور وہاب ریاض کے حصے میں اب تک دو، دو وکٹیں آئی ہیں۔

یہ پاکستان کے کپتان مصباح الحق کا بطور کپتان 49واں ٹیسٹ ہے اور وہ اب پاکستان کے لیے سب سے زیادہ ٹیسٹ میچوں میں قیادت کرنے والے کپتان بن گئے ہیں۔

اس میچ کے لیے پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں میں دو، دو تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

پاکستانی ٹیم میں فاسٹ بولرز سہیل خان اور راحت علی کی جگہ محمد عامر اور وہاب ریاض کو شامل کیا گیا ہے جبکہ ویسٹ انڈین ٹیم میں شائے ہوپ اور میگوئل کمنز کی جگہ شین ڈورچ اور الزاری جوزف شامل ہوئے ہیں۔

پاکستان یہ ٹیسٹ سیریز پہلے ہی دو صفر کی فیصلہ کن برتری حاصل کر چکا ہے اور اب اس کی نظریں ٹی 20 اور ون ڈے سیریز کے بعد ٹیسٹ سیریز میں بھی وائٹ واش پر ہیں۔