آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سپنرز ہماری قوت ہیں جو میچ جتوا رہے ہیں: مصباح الحق
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ابوظہبی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق اپنے کھلاڑیوں کی کارکردگی پر نازاں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ خوشی کی بات یہ ہے کہ ٹیم کا ہر کھلاڑی جیت میں اپنا کردار بخوبی نبھارہا ہے۔
ابوظہبی ٹیسٹ میں 113 رنز کی جیت اور سیریز اپنے نام کرنے کے بعد مصباح الحق کا کہنا ہے کہ جو ٹیم بھی ٹیسٹ میچ جیتا کرتی ہے اس سے اس کی اہمیت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور انھیں خوشی ہے کہ ان کے بولرز ان وکٹوں پر چیلنج قبول کر رہے ہیں جو بولرز کے لیے مددگار ثابت نہیں ہوتیں۔
مصباح الحق نے کہا کہ وہ اپنی ٹیم کی کارکردگی اور جس طرح وہ میچ جیت رہی ہے اس سے بالکل مطمئن ہیں۔
مصباح الحق نے عمران خان کے سب سے زیادہ ٹیسٹ میچوں میں کپتانی کا ریکارڈ برابر کرنے کے بارے میں کہا کہ وہ ریکارڈز کے لیے نہیں کھیلتے لیکن ’جو بھی سنگ میل اور ریکارڈ آپ بناتے ہیں اس پر خوشی ضرور ہوتی ہے‘ تاہم انھیں زیادہ خوشی یہ میچ اور سیریز جیتنے کی ہے۔
مصباح الحق نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کی اصل قوت اس وقت سپن بولنگ ہے اور یاسر شاہ ایک ورلڈ کلاس سپنر ہیں اسی لیے وہ توقع رکھتے ہیں کہ ٹرننگ وکٹ ملے لیکن اس میچ کی وکٹ پانچویں دن بھی زیادہ ٹرن نہیں لے رہی تھی اس لحاظ سے وہ اپنے بولرز کی تعریف کریں گے کہ ایک فلیٹ وکٹ پر انہوں نے عمدہ بولنگ کی۔
مصباح الحق نے کہا کہ انہیں موجودہ ویسٹ انڈین ٹیم کی کارکردگی دیکھ کر مایوسی ہوئی ہے کیونکہ سب کو ماضی میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم کی شاندار کارکردگی کا بخوبی اندازہ ہے لیکن اب وہ زوال کا شکار ہے اس کی وجہ اس کے کھلاڑیوں کا انٹرنیشنل کرکٹ کا زیادہ تجربہ نہ ہونا ہے۔
اس کے چند کھلاڑی اچھے ہیں لیکن جوں جوں وہ کھیلتے جائیں گے انہیں تجربہ حاصل ہو گا اور ہر کوئی ایک مضبوط ویسٹ انڈین ٹیم کو دیکھنا چاہتا ہے۔
اپنی کپتانی میں پانچویں بار حریف ٹیم کو فالوآن پر مجبور نہ کیے جانے کے بارے میں مصباح الحق کا کہنا ہے کہ اس کا سبب اپنے جسم اور پوری ٹیم کو بھی بچانا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ پہلی اننگز میں تقریباً سو اوورز کی فیلڈنگ کے بعد تھکاوٹ کے ساتھ دوبارہ بولنگ اور فیلڈنگ کی جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ یاسر شاہ جیسے بولر کے لیے بھی بہت مشکل ہے کہ پہلی اننگز میں 30 سے زائد اوورز کے بعد دوسری اننگز میں بھی آرام کے بغیر 40 اوورز کرائے۔
اس کے علاوہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ میچ کے چوتھے اور پانچویں دن وکٹ مزید خراب ہوتی ہے جس کا فائدہ بولرز کو ہوتا ہے۔