’یونس خان نائنٹیز میں نروس نہیں ہوتے‘

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دبئی

بڑے سے بڑا بیٹسمین جب سنچری کے قریب آتا ہے تو وہ ایک لمحے کے لیے یہ سوچنے لگتا ہے کہ کہیں وہ تین ہندسوں میں داخل ہونے سے پہلے ہی آؤٹ نہ ہو جائے اور اکثر وہ اس سوچ کو اپنے اوپر ایسا طاری کرتا ہے کہ نائنٹیز یعنی نوے سے لے کر ننانوے کے سکور میں اپنی وکٹ گنوا دیتا ہے۔

ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے بیٹسمینوں میں صرف سر ڈان بریڈمین ایسے بیٹسمین ہیں جو کبھی بھی نروس نائنٹیز کا شکار نہیں ہوئے۔

ڈان بریڈمین نے اپنے ٹیسٹ کریئر میں 29 سنچریاں سکور کیں جو ایک طویل عرصے تک ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ سنچریوں کا ریکارڈ تھا۔

عصرحاضر کے بیٹسمینوں میں پاکستان کے یونس خان اب تک 33 سنچریاں بنا چکے ہیں اور اپنے کریئر میں وہ اب تک صرف ایک مرتبہ سنچری کے بہت قریب آ کر آوٹ ہوئے ہیں۔

یہ 2001 میں نیوزی لینڈ کے خلاف آکلینڈ ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں ہوا تھا جب وہ 91 رنز بنا کرآؤٹ ہوئے تھے۔ اس ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں انھوں نے 149 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی۔ یہ پاکستان کے موجودہ کپتان مصباح الحق کا پہلا ٹیسٹ بھی تھا۔

یونس خان نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ اپنے کریئر میں صرف ایک بار سنچری کے قریب آکر اسے مکمل نہ کر سکے اگر آپ سچن تندولکر کو دیکھیں تو وہ اپنے کریئر میں متعدد بار سنچری سے محروم رہے۔

واضح رہے کہ سچن ٹیسٹ کرکٹ میں دس مرتبہ نروس نائنٹیز کا شکار ہوئے ہیں جو راہول ڈراوڈ اور آسٹریلیا کے اسٹیو وا کے ساتھ مشترکہ ریکارڈ ہے۔

یونس خان کا کہنا ہے کہ وہ نائنٹیز میں آنے کے بعد پرسکون رہتے ہیں اور رنز کے پیچھے نہیں بھاگتے بلکہ خود کو سنچری مکمل کرنے کے لیے وقت دیتے ہیں اسی لیے رنز ان کی طرف آجاتے ہیں۔

یونس خان نے انگلینڈ کے خلاف اوول ٹیسٹ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ جب سنچری کے قریب آئے تو دن ختم ہو رہا تھا اور انگلینڈ نے نئی گیند بھی لے لی تھی لہٰذا انھوں نے اپنے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے یہ سوچا کہ اگر یہ سنچری آج نہیں بنی تو کیا ہوا یہ کل بن جائے گی۔

یونس خان کا کہنا ہے کہ بیٹسمین عام طور پر اس وقت غلطی کر بیٹھتے ہیں جب وہ رنز کے پیچھے جاتے ہیں کہ جلدی سے سنچری مکمل کرلیں۔

یونس خان نے کہا کہ وہ ڈینگی میں مبتلا ہونے کے بعد تیزی سے صحت یابی اور دوسرا ٹیسٹ کھیلنے کا سہرا اپنے ڈاکٹرز سے باندھیں گے کیونکہ عام طور پر ڈینگی بخار میں مبتلا شخص ایک ماہ تک کمزوری محسوس کرتا ہے لیکن ڈاکٹرز کے علاج نے انھیں اس قابل کر دیا کہ وہ یہ میچ کھیل رہے ہیں۔

یونس خان کا کہنا ہے کہ بیماری کے دنوں میں ان کا وزن چھ سے سات کلو کم ہو گیا تھا اور ایک وقت انھیں یہ محسوس ہو رہا تھا کہ وہ یہ ٹیسٹ سیریز نہیں کھیل سکیں گے لیکن انھوں نے صبر کیا حالانکہ اس وقت بھی کئی لوگوں نے ان سے یہ کہا کہ آپ گلابی گیند اور ڈے نائٹ چار سوواں تاریخی ٹیسٹ کا حصہ بننے سے رہ گئے لیکن اس میں بھی یقیناً کوئی بہتری ہوگی۔ انھیں خوشی ہے کہ ان کی واپسی سنچری کے ساتھ ہوئی ہے۔