’گلابی گیند اور وکٹ کے بارے میں اندازے غلط نکلے`
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دبئی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ کے چار سوویں ٹیسٹ اور گلابی گیند کے ساتھ پہلے ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ میں جیت کو وہ یادگار لمحہ سمجھتے ہیں لیکن اس جیت کے لیے ٹیم کو سخت محنت کرنی پڑی۔
مصباح الحق نے دبئی ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 56 رنز کی جیت کے بعد بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ پاکستانی ٹیم پہلی بار گلابی گیند کے ساتھ ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ کھیل رہی تھی، لہٰذا دونوں کے رویے کے بارے میں جو اندازے لگائے گئے تھے وہ مختلف ثابت ہوئے۔
مصباح الحق نے کہا کہ دبئی کی پچ عام طور پر دوسرے دن سپنرز کی مدد کرنا شروع کر دیتی ہے لیکن گلابی گیند اور نائٹ ٹیسٹ میں شام کو اوس پڑنے کی وجہ سے گیند کی سلائی کا پھول جانا یہ وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے یہ میچ بولرز کے لیے آسان نہ تھا۔
انھوں نے کہا کہ خاص کر اوس پڑنے کی وجہ سے پچ دوبارہ جڑ جاتی تھی اور یہی وجہ ہے کہ ان کے بولرز ویسٹ انڈین بیٹسمینوں کو جلد آؤٹ نہ کر سکے۔
مصباح الحق نے کہا کہ اگرچہ ڈیرن براوو نے یاسر شاہ کے خلاف اچھی بیٹنگ کی لیکن اس کے باوجود یاسر شاہ قابل داد ہیں جنھوں نے اہم مواقع پر وکٹیں حاصل کیں۔
مصباح الحق کا کہنا ہے کہ یہ بات ان کے لیے خاصی تکلیف دہ تھی کہ آپ تین دن تک حریف ٹیم پر حاوی رہیں اور پھر ایک سیشن میں حریف ٹیم کو ایڈوانٹج مل جائے۔
انھوں نے کہا کہ اگر پاکستانی ٹیم دوسری اننگز میں مزید پندرہ اوورز کھیل کر 400 رنز کی برتری حاصل کر لیتی تو ہو سکتا تھا کہ وہ ویسٹ انڈیز کو جلد آؤٹ کر لیتے۔

،تصویر کا ذریعہAAMIR QURESHI
انھوں نے کہا جب حریف ٹیم کو بھی جیتنے کا موقع ملنے لگے تو آپ دباؤ میں آجاتے ہیں تاہم پاکستانی بولرز نے سخت محنت کی اور اچھی بولنگ کر کے ویسٹ انڈیز کو آؤٹ کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مصباح الحق کو امید ہے کہ ابوظہبی میں چونکہ ٹیسٹ میچ دن میں کھیلاجائے گا تو نہ صرف ان کے سپنرز بلکہ تیز بولرز کو بھی مدد ملے گی خاص کر وہ ریورس سوئنگ کر سکیں گے جو ان کی خصوصیت ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ڈے نائٹ ٹیسٹ میں گیند اوس کی وجہ سے گیلی ہونے کی وجہ سے بولر ریورس سوئنگ بھی نہیں کر سکے۔
مصباح الحق نے تسلیم کیا کہ انھیں اس میچ میں لیفٹ آرم سپنر ذوالفقار بابر کی کمی محسوس ہوئی۔
دبئی ٹیسٹ میں تین تیز بولر کھلانے کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں جو میچ گلابی گیند کے ساتھ کھیلا تھا اس میں رات کے وقت سیم بولرز بہت موثر ثابت ہوئے تھے لیکن دبئی ٹیسٹ میں تیز بولرز کو اس طرح کی مدد نہیں ملی۔
مصباح نے کہا کہ محمد نواز اگرچہ ذوالفقار بابر کی طرح میچ ونر کا کردار تو ادا نہیں کر سکے لیکن انھوں نے اہم مواقع پر وکٹیں حاصل کیں۔








