دبئی ٹیسٹ: دلچسپ مقابلے کے بعد پاکستان 56 رنز سے جیت گیا

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دبئی

دبئی میں پہلے ٹیسٹ میچ کے پانچویں اور آخری دن پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو 56 رنز سے ہرا دیا کر اپنے 400 ویں ٹیسٹ کو 56 رنز کی جیت سے یادگار بنا دیا ہے۔

ویسٹ انڈیز کو دبئی کا ڈے نائٹ ٹیسٹ جیتنے کے لیے 346 رنز کا ہدف ملا تھا لیکن وہ 289 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

میچ کے مین آف دی میچ 302 رنز کی اننگز کھیلنے والے پاکستانی بلے باز اظہر علی رہے۔

دوسری اننگز میں ڈیرن براوو نے اپنے ٹیسٹ کریئر کی آٹھویں سنچری سکور کی۔ وہ دس چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 116 رنزکی شاندار اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو ممکنہ شکست سے بچاتے ہوئے اسے اس پوزیشن میں بھی لے آئے جہاں سے وہ یہ ٹیسٹ جیت بھی سکتی تھی لیکن یاسر شاہ نے اپنی ہی گیند پر شاندار کیچ لے کر انھیں آؤٹ کر کے پاکستان کی جیت کی راہ ہموار کر دی۔

ویسٹ انڈیز نے پانچویں دن اپنی دوسری اننگز کا آغاز 95 رنز دو کھلاڑی آوٹ پر کیا تو اسے جیت کے لیے 251 رنز دکار تھے۔

لیکن دن کی پہلی ہی گیند پر ویسٹ انڈین ٹیم سکتے میں آگئی جب مارلن سیمیولز کو محمد عامر نے سرفراز احمد کے ہاتھوں کیچ کروا کر پویلین کی راہ دکھا دی۔

پہلی اننگز میں 76 رنز بنانے والے سیمیولز دوسری اننگز میں صرف 4 رنز بنا پائے۔

یہ اس اننگز میں محمد عامر کی تیسری وکٹ تھی۔ بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ انھوں نے کسی ٹیسٹ کی ایک اننگز میں تین وکٹیں حاصل کی ہیں۔

21 رنز کے اضافے پر ویسٹ انڈیز کی چوتھی وکٹ گری جب محمد نواز نے 15 کے انفرادی سکور پر بلیک ووڈ کو ایل بی ڈبلیو کردیا۔

امپائر پال رائفل نے بلیک ووڈ کو ناٹ آؤٹ قرار دیا تھا لیکن ریویو پر ٹی وی امپائر کا فیصلہ پاکستانی ٹیم کے حق میں گیا۔

ڈیرن براوو جنھوں نے پہلی اننگز میں 87 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی تھی انھوں نے دوسری اننگز میں بھی ذمہ داری سے بیٹنگ کی اور ہر بولر کو بڑے اعتماد سے کھیلا۔

انھوں نے اپنی نصف سنچری ایک سو انتالیس گیندوں پر ایک چھکے اور تین چوکوں کی مدد سے مکمل کی۔ ان کی آٹھویں ٹیسٹ سنچری دو سو گیارہ گیندوں پر مکمل ہوئی جس میں نو چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔

براوو نے اپنی آٹھ میں سے سات سنچریاں ویسٹ انڈیز سے باہر بنائی ہیں اور ان میں سے پانچ ایشیا میں بنی ہیں۔

روسٹن چیس جنھوں نے اس سال جولائی میں بھارت کے خلاف کنگسٹن ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں ناقابل شکست سنچری بنا کر ویسٹ انڈیز کو شکست سے بچایا تھا اس اننگز میں بھی بڑی ذمہ داری سے بیٹنگ کر رہے تھے لیکن 35 کے انفرادی سکور پر یاسر شاہ نے انھیں بولڈ کر دیا۔

یہ اس اننگز میں یاسر شاہ کی پہلی وکٹ تھی جو انھیں ان کے اٹھائیسویں اوور میں ملی۔

براوو اور چیس نے پانچویں وکٹ کی شراکت میں 77 رنز کا اضافہ 170 گیندوں پر کیا۔

اس شراکت کے ٹوٹنے سے پاکستانی کھلاڑیوں کو جیسے نیا حوصلہ مل گیا اور اگلے ہی اوور میں وہاب ریاض نے وکٹ کیپر ڈاؤرچ کو صفر پر بولڈ کر دیا لیکن اس کے بعد ڈیرن براوو ایک اینڈ پر ثابت قدمی سے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستانی کھلاڑیوں کی فرسٹریشن میں اضافہ کرتے رہے۔

کپتان جیسن ہولڈر نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ ان دونوں کی شراکت میں قیمتی 69 رنز بنے۔

براوو کی وکٹ 263 کے سکور پر گری جس کا مطلب یہ تھا کہ ویسٹ انڈیز کو جیتنے کے لیے ستائیس اوورز میں مزید 83 رنز درکار تھے۔

محمد نواز نے بشو کو تین کے انفرادی سکور پر ایل بی ڈبلیو کر دیا۔

بشو نے ریویو لینے میں تاخیر کی اور جب ریویو لینے کا فیصلہ کیا تو امپائر النگورتھ نے انھیں بتایا کہ پندرہ سیکنڈز کا وقت گزر چکا ہے۔

میگوئل کمنز ایک رن بنا کر مصباح الحق کے ہاتھوں رن آؤٹ ہوگئے۔

ویسٹ انڈیز کی آخری وکٹ بھی رن آؤٹ کی صورت میں گری جب گیبریئل بھی ایک رن بنا کر رن آؤٹ ہوئے۔ اس وقت بارہ اوورز باقی رہتے تھے۔

محمد عامر تین وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے جبکہ محمد نواز اور یاسر شاہ نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔

اس سے قبل اتوار کو میچ کے چوتھے دن ویسٹ انڈیز نے کھیل کا اختتام 96 رنز دو کھلاڑی آؤٹ کے ساتھ کیا تھا۔

چوتھا دن اس ٹیسٹ کا سب سے دلچسپ اور ڈرامائی دن ثابت ہوا جس میں مجموعی طور پر16 وکٹیں گریں۔

پہلے ویسٹ انڈیز کی پہلی اننگز میں چار وکٹیں گریں اس کے بعد پاکستانی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں صرف 123 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

دیویندرا بشو نے اپنے کریئر کی بہترین بولنگ کرتے ہوئے 49 رنز دے کر8 وکٹیں حاصل کیں۔ اس طرح میچ میں انھوں نے دس وکٹیں حاصل کیں۔

ویسٹ انڈیز نے اپنی پہلی اننگز 315 رنز 6 کھلاڑی آؤٹ پر شروع کی لیکن یاسر شاہ کی عمدہ بولنگ نے اس کی بساط 357 رنز پر لپیٹ دی۔ اسے فالو آن پر مجبور ہونا پڑا لیکن کپتان مصباح الحق نے فالوآن نہیں کرایا۔

یہ چوتھا موقع ہے کہ مصباح الحق نے حریف ٹیم کو فالو آن نہیں کرایا اور دوبارہ بیٹنگ کو ترجیح دی۔

یاسر شاہ نے 121 رنز دے کر5 وکٹیں حاصل کیں اور ٹیسٹ میچوں میں اپنی سو وکٹیں بھی مکمل کرلیں۔