یاہو کی آمدن میں تین گنا اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیٹ دنیا کے بڑے سرچ انجن یاہو، جو کہ سافٹ وئیر کی بڑی کمپنی مائیکرو سافٹ کی بولی کی آفرمسترد کر چکا ہے، کا کہنا کہ سنہ دو ہزار آٹھ کے پہلے تین مہینوں میں اس کی آمدن تین گنا ہوچکی ہے۔ اس انٹرنیٹ کمپنی کی آمدن پانچ سو بیالیس ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے جو کہ گزشتہ سال اسی دورانیے میں تقریباً ایک سو بیالیس ملین ڈالر تھی ۔ یاہو ان دنوں اس کوشش میں لگا ہوا ہے کہ وہ مائیکرو سافٹ کی طرف سے لگائی گئی تقریباً چوالیس اعشاریہ چھ بلین ڈالر کی بولی سے اپنی مالیت زیادہ ثابت کرے۔ لیکن یاہو کے منافع سے متعلق تمام تر پیشن گوئیوں کو غلط ثابت کرنے کے باوجود یاہو کی کارکردگی تجزیہ کاروں کو اس بات پر مطمئن نہیں کرسکی کہ یہ کمپنی لگائی گئی بولی سے زیادہ کی مستحق تھی۔ یاہو کمپنی کے منافع کو بڑھانے میں ایک چینی انٹرنیٹ کمپنی ’علی بابا ڈاٹ کام‘ میں یاہو کے حصے کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ کوؤن اینڈ کو کے ماہر جم فریڈلینڈ کا کہنا ہے کہ’ آمدنی کے اس اعداد و شمار کے بعد مائیکرو سافٹ نے سکھ کا سانس لیا ہے اگرچہ یہ طویل اور قلیل المیعاد چیلنجز کے بعد ٹھوس نتائج ہیں، لیکن اس سے یاہو کے کاروبار میں یکایک کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔‘ اس سے قبل کوؤن اینڈ کو کے ماہر جم فریڈلینڈ نے یاہو اور گوگل کے اشتراک کے بارے میں کہا تھاکہ یہ ایک دانشمندانہ اقدام ہے کیونکہ ان کے مطابق ایسا لگ رہا تھا کہ مائیکرو سافٹ کے پاس تمام پتے ہیں لیکن اب یاہو اپنے اس اقدام سے مائیکرو سافٹ سے زیادہ قیمت وصول کرسکتا ہے۔ مائیکر سافٹ کے چیف ایگزیکٹیو سٹیو بالمر نے یاہو سے کہا ہے کہ ’وہ چھبیس اپریل تک کمپنی کی پیش کش کو قبول کر لے یا پھر اس سے بھی کم قیمت قبول کرنے کا خطرہ مول لے۔‘ اس سے قبل یاہو اور گوگل نے اعلان کیا تھا کہ دو ہفتوں تک تجرباتی طور پر وہ اشتہارات میں اشتراک کریں گے۔اس تجرباتی عرصے کے دوران گوگل اپنے تین فیصد اشتہارات یاہو کی ویب سائٹ پر بھی شائع کر سکے گی۔ مبصرین کا کہنا تھا کہ اس پیش رفت سے مائیکرو سافٹ کو مایوسی ہوگی کیونکہ اس نے یاہو کو چوالیس اعشاریہ چھ بلین ڈالر میں خریدنے کی پیش کش کی تھی۔اور یاہو کی طرف سے اس اقدام کا ایک اور مقصد اچھی قیمت وصول کرنا بھی ہو سکتا تھا۔ | اسی بارے میں گوگل کوکیز کی مدت دو سال 17 July, 2007 | نیٹ سائنس گوگل:نشانہ سوفٹ ویئرمارکیٹ28 August, 2006 | نیٹ سائنس ’بیک ڈور‘ وائرس کا توڑ جلد متوقع25 May, 2006 | نیٹ سائنس سرچ انجن یا گھر کا بھیدی؟02 June, 2007 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||