سپین: قدیم ترین دانت کی دریافت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپین کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے زمانۂ قدیم کے انسان کا ایک دانت دریافت کر لیا ہے جو ایک ملین سال سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ اٹا پیورکا فاؤنڈیشن کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دانت مغربی یورپ کے قدیم ترین انسان کی باقیات کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ دراصل پری مولر یعنی دانتوں کے ساتھ کی داڑھ ہے ۔ اس داڑھ کی دریافت سپین کے صوبے برگوس کے شمالی علاقے اٹاپیورکا میں ہوئی ہے جس کی مزید تفصیلات تحقیقی ادارہ مکمل جانچ کے بعد سائنسی جریدے میں شائع کرے گا۔ اس علاقے کی کھدائی کرنے والی ٹیم کے کو آرڈینیٹر کا کہنا ہے کہ دریافت شدہ دانت 12 لاکھ سال پرانا بھی ہو سکتا ہے۔ ابھی تک صرف اس بات کا تعین کیا جا سکا ہے کہ یہ دانت 20 سے 25 سالہ انسان کا ہے تاہم ابھی تک اسے ہومو اینٹی سیسر زمانے کا انسان مانا جا رہا ہے۔ اٹاپیورکا کےکئی غاروں میں زمانۂ قدیم کے انسان کے رہن سہن کے سراغ پائے گئے ہیں۔ 1994 میں اس خطے میں ابتدائی انسانوں کی باقیات جو تقریباً 8 لاکھ سال پرانی مانی جاتی ہے، دریافت کی گئیں جنہیں ہومو اینٹی سیسر یعنی ’بانی انسان‘ کا نام دیا گیا۔ اس سے قبل 6 لاکھ پرانے انسان جنہیں سائنسی اصطلاح میں ہومو ہیڈلبرجینسس کہا جاتا ہے، اس خطے کے قدیم ترین رہائشی مانے جاتے تھے۔ یہ کھدائی جس زمینی سطح پر ہوئی اس کی بنیاد پر فرانسیسی نیوز ایجنسی نے اسے اب تک کی قدیم ترین یورپی دریافت قرار دیا ہے۔ اس سے پہلے یورپی جیورجیا کے قدیم قصبے ڈمینیسی جو ٹبیلیسی کے جنوب مغرب میں 80 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، پائی جانے والی انسانی کھوپڑیوں کو یورپ کی قدیم ترین دریافت مانا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں یورپ:انسانی وجود کے قدیم سراغ13 January, 2007 | نیٹ سائنس یورپ کاگیلیلیو سیٹلائٹ خلاء میں 28 December, 2005 | نیٹ سائنس ’یورپ میں بانجھ پن دوگنا‘21 June, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||