دنیا کا معمر ترین کچھوا چل بسا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہریٹ نامی کچھوا جس کو دنیا میں موجود تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ معمر تصور کیا جاتا تھاگزشتہ دنوں آسٹریلیا میں ایک سو پچہتر سال کی عمر میں انتقال کر گیا۔ دنیا میں زندہ مخلوقات جن کی عمر کے بارے میں انسان کو علم ہے ان میں یہ کچھوا سب سے زیادہ معمر تھا۔ آسٹریلیا میں جانوروں کے ڈاکٹر جان ہینگر نے آسٹریلیا کے ایک نشریاتی ادارے کو بتایا کہ اس کچھوے کا انتقال معمولی سی علالت کے بعد حرکت قلب بند ہو جانے سے ہوا۔ ڈاکٹر ہینگر نے کہا کہ اس کو دل کا شدید دورہ پڑا اور رات کو بڑی پرسکون موت مرا۔ گزشتہ سال آسٹریلیا کے چڑیا گھر جہاں ہیریٹ نے اپنی زندگی کے سترہ سال گزارے ہیریٹ کا سالگرہ کے موقعہ پر ایک تقریب منعقد کی گئی تھی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ کچھوا برطانوی سائنس دان چارلس ڈارون کے مشاہدے میں بھی رہا تھا۔ ڈارون اپنے بیگل نامی جہاز پر تاریخی سفر کے دوران کئی دیوہیکل کچھوؤں کو واپس برطانیہ لے گئے تھے۔ اس کچھوے کے ڈی این ٹیسٹ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ کچھوا اٹھارہ سو تیس کے لگ بھگ پیدا ہوا تھا اور اس سے پانچ سال پہلے ڈارون نےاس علاقے کا دورہ کیا تھا۔ تاہم ہیرٹ کا تعلق کچھوؤں کی اس نسل سے تھا جو ایک ایسے جزیرے پر پائے جاتے تھے جہاں ڈارون کا کبھی جانا نہیں ہوا۔ اپنی پچہترویں سالگرہ کے موقع پر ہیرٹ کا وزن ایک سو پچاس کلو گرام تھا اور اس کا ہجم کھانے کی میز کے برابر تھا۔ آسٹریلیا میں کوئنز لینڈ کی سن شائن کوسٹ پر واقع چڑیا گھر میں یہ کچھوا سیاحوں کی دلچسی کا مرکز تھا۔ کچھوا کی دیکھ بحال پر معمور عملے کے مطابق اس کچھوے کی طویل العمری کا راز اس کی بےفکری کی اور غموں سے پاک زندگی تھی۔ | اسی بارے میں 175 سالہ کچھوے کی سالگرہ15 November, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||