مینڈکوں سے مچھر بھگانے کی دوا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماہرین کے مطابق مستقبل میں مچھروں کو بھگانے کی دوا تیار کرنے میں آسٹریلیا میں پایا جانے والا سبز مینڈک اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ سائنسدانوں کی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ اس مینڈک کے لعاب اور جلد سے خارج ہونے والے مادے میں ایسا اثر پایا جاتا ہے جو مچھروں کو دور بھگانے کے لیئے نہایت کارگر ہے۔ اس تحقیق میں چوہوں کو استعمال کیا گیا ہے اور جن چوہوں پر مینڈک کا لعاب لگایا گیا وہ مچھروں سے دیگر چوہوں کی نسبت چار گنا زیادہ وقت کے لیئے محفوظ رہے۔ تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے ملیریا س بچاؤ کے لیے مچھروں سے بچاؤ کی اس دوا کا اثر محدود ہوگا۔ ملیریا کا وائرس مچھروں کے ذریعے ہی پھیلتا ہے۔ انہیں مینڈکوں پر کی گئی ایک گزشتہ تحقیق سے ثابت ہوا تھا کہ ان کا لعاب درد دور کرنے کی دوا کی طرح کام کرتا ہے اور میں نیند آور اثرات بھی پائے گئے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مینڈکوں کے بہت سے قائدے ایسے ہیں جنہیں ابھی دریافت کرنا باقی ہے۔ | اسی بارے میں مچھر انسانوں کو کیوں کاٹتے ہیں؟20 January, 2005 | نیٹ سائنس مینڈکوں کی نسل معدوم ہونےکا خطرہ 18 September, 2005 | نیٹ سائنس جڑی بوٹیاں بھی ٹھیک ہیں21 September, 2003 | نیٹ سائنس درد کی دوائیں یا سردردی؟24 May, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||