’رفتار: فی سیکنڈ ایک بلاگ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلاگ کے بارے میں تنظیم نے بتایا کہ دنیا بھر میں بلاگ لکھنے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور فی سیکنڈ ایک بلاگ لکھا جا رہا ہے۔ ٹیکنوراٹی نامی تنظیم کے مطابق بلاگ لکھنے والوں کی تعداد مارچ میں اٹھتر لاکھ سے بڑھ کر ایک کروڑ بیالیس لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ ٹیکنوراٹی نے کہا ہے کہ دنیا میں بلاگ لکھنے والو کی تعداد ہر پانچ ماہ میں دوگنی ہو رہی ہے۔ بالگز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اکیسویں صدی کے ہوم پیج ہیں اور انہیں بنانا انتہائی آسان ہے۔ بلاگز ان لوگوں میں بہت مقبول ہیں جو خیالات کا تبادلہ کرنا چاہتے ہیں۔ بلاگز کے ذریعے آپ کے خیالات فوراً دوسرے لوگوں تک پہنچ جاتے ہیں اور دوستوں یا انجان لوگوں کے ساتھ مباحثہ بھی ہو سکتا ہے۔ بلاگز کو ذاتی ڈائری کے علاوہ پراپیگنڈے یا نظریات کی تشہیر کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بلاگز کو مختلف طبقات میں باہمی رابطے اور اپنے فن کی نمائش کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بلاگز کا ایسے موضوعات کے بارے میں آگاہی میں اہم کردار رہا ہے جو عام طور پر صحافت کا موضوع نہیں بنتے۔ دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے صحافی جن کا اپنی خبروں کی اشاعت کے لیے کسی ادارے سے رابطہ نہیں ہوتا وہ بھی بلاگ کا سہارا لیتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||